کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عورت کا بوسہ لینے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
حدیث نمبر: 178
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَهَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : كَذَا رَوَاهُ الْفِرْيَابِيُّ وَغَيْرُهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ مُرْسَلٌ ، إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : مَاتَ إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ وَلَمْ يَبْلُغْ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، وَكَانَ يُكْنَى : أَبَا أَسْمَاءَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے فریابی وغیرہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مرسل ہے ، ابراہیم تیمی کا ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابراہیم تیمی ابھی چالیس برس کے نہیں ہوئے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا تھا ، ان کی کنیت ابواسماء تھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 178
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (170), السند منقطع وللحديث شاهد ضعيف عندالبزار بلفظ: أن النبي ﷺ كان يقبل بعض نساء ه ثم يصلي ولا يتوضأ انظر نصب الراية (74/1), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19
تخریج حدیث « سنن النسائی/الطھارة 121 (170)، (تحفة الأشراف: 15915)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة 63 (86)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 69 (502)، مسند احمد (6/210) (صحیح) » (اگلی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے ورنہ خود یہ سند منقطع ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کیا ہے)
حدیث نمبر: 179
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " ، قَالَ عُرْوَةُ : مَنْ هِيَ إِلَّا أَنْتِ ، فَضَحِكَتْ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَكَذَا رَوَاهُ زَائِدَةُ ، وَعَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ،عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کا بوسہ لیا ، پھر نماز کے لیے نکلے اور ( پھر سے ) وضو نہیں کیا ۔ عروہ کہتے ہیں : میں نے ان سے کہا : وہ بیوی آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں ؟ یہ سن کر وہ ہنسنے لگیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 179
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (86)،ابن ماجه (502), الأعمش مدلس وعنعن, وحبيب لم يسمع من عروة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19
تخریج حدیث « انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 17371) (صحیح) »
حدیث نمبر: 180
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَخْلَدٍ الطَّالْقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَغْرَاءَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، أَخْبَرَنَا أَصْحَابٌ لَنَا ، عَنْ عُرْوَةَ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ لِرَجُلٍ : احْكِ عَنِّي أَنَّ هَذَيْنِ يَعْنِي حَدِيثَ الْأَعْمَشِ هَذَا ، عَنْ حَبِيبٍ ، وَحَدِيثَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ ، أَنَّهَا تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ ، قَالَ يَحْيَى : احْكِ عَنِّي أَنَّهُمَا شِبْهُ لَا شَيْءَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد ، وَرُوِيَ عَنْ الثَّوْرِيِّ ، قَالَ : مَا حَدَّثَنَا حَبِيبٌ إِلَّا عَنْ عُرْوَةَ الْمُزَنِيِّ يَعْنِي لَمْ يُحَدِّثْهُمْ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ بِشَيْءٍ . قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ رَوَى حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ حَدِيثًا صَحِيحًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید قطان نے ایک شخص سے کہا : میرے حوالہ سے بیان کرو کہ` یہ دونوں حدیثیں یعنی ایک تو یہی اعمش کی حدیث جو حبیب سے مروی ہے ، دوسری وہ جو اسی سند سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی «لا شىء» کے مشابہ ہے ( یعنی یہ دونوں حدیثیں سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ثوری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم سے حبیب نے صرف عروہ مزنی کے طریق سے بیان کیا ، یعنی ان لوگوں سے حبیب نے عروہ بن زبیر کے واسطہ سے کچھ نہیں بیان کیا ہے ( یعنی : عروہ بن زبیر سے حبیب کی روایت ثابت نہیں ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : لیکن حمزہ زیات نے حبیب سے ، حبیب نے عروہ بن زبیر سے ، عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک صحیح حدیث روایت کی ہے ( یعنی : عروہ بن زبیر سے حبیب کی روایت صحیح ہے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 180
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (86)،ابن ماجه (502), الأعمش مدلس وعنعن, وحبيب لم يسمع من عروة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19
تخریج حدیث « انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 18768،17371 ) (صحیح) »