حدیث نمبر: 140
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَنْثُرْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنی ناک میں پانی ڈالے ، پھر جھاڑے “ ۔
حدیث نمبر: 141
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ قَارِظٍ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَنْثِرُوا مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ناک میں پانی ڈال کر اسے دو یا تین بار اچھی طرح سے جھاڑو “ ۔
حدیث نمبر: 142
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، فِي آخَرِينَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ أَوْ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُصَادِفْهُ فِي مَنْزِلِهِ وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : فَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ لَنَا ، قَالَ : وَأُتِينَا بِقِنَاعٍ وَلَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ الْقِنَاعَ ، وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ فِيهِ تَمْرٌ ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هَلْ أَصَبْتُمْ شَيْئًا أَوْ أُمِرَ لَكُمْ بِشَيْءٍ ؟ قَالَ : قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَبَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ ، إِذْ دَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ إِلَى الْمُرَاحِ وَمَعَهُ سَخْلَةٌ تَيْعَرُ ، فَقَالَ : مَا وَلَّدْتَ يَا فُلَانُ ؟ قَالَ : بَهْمَةً ، قَالَ : فَاذْبَحْ لَنَا مَكَانَهَا شَاةً ، ثُمَّ قَالَ : لَا تَحْسِبَنَّ ، وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاهَا لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ ، فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِنَّ فِي لِسَانِهَا شَيْئًا يَعْنِي الْبَذَاءَ ، قَالَ : فَطَلِّقْهَا إِذًا ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَهَا صُحْبَةً وَلِي مِنْهَا وَلَدٌ ، قَالَ : فَمُرْهَا يَقُولُ : عِظْهَا ، فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلْ ، وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ كَضَرْبِكَ أُمَيَّتَكَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ ، قَالَ : أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ گھر میں نہیں ملے ، ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ملیں ، انہوں نے ہمارے لیے خزیرہ ۱؎ تیار کرنے کا حکم کیا ، وہ تیار کیا گیا ، ہمارے سامنے تھالی لائی گئی ۔ ( قتیبہ نے اپنی روایت میں «قناع» کا لفظ نہیں کہا ہے ، «قناع» کھجور کی لکڑی کی اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی جاتی ہے ) ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا : ” تم لوگوں نے کچھ کھایا ؟ یا تمہارے کھانے کے لیے کوئی حکم دیا گیا ؟ “ ، ہم نے جواب دیا : ہاں ، اے اللہ کے رسول ! ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا ، اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا جو ممیا رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس سے ) پوچھا : ” اے فلاں ! کیا پیدا ہوا ( نر یا مادہ ) ؟ “ ، اس نے جواب دیا : مادہ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اس کے جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو “ ۔ پھر ( لقیط سے ) فرمایا : یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے اسے تمہارے لیے ذبح کیا ہے ، بلکہ ( بات یہ ہے کہ ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں جسے ہم بڑھانا نہیں چاہتے ، اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں ۔ لقیط کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میری ایک بیوی ہے جو زبان دراز ہے ( میں کیا کروں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب تو تم اسے طلاق دے دو “ ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا ، اس سے میری اولاد بھی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اسے تم نصیحت کرو ، اگر اس میں بھلائی ہے تو تمہاری اطاعت کرے گی ، اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو “ ۔ پھر میں نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وضو مکمل کیا کرو ، انگلیوں میں خلال کرو ، اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ الا یہ کہ تم صائم ہو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: خزیرہ ایک قسم کا کھانا ہے، اس کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کو کافی مقدار میں پانی میں ابالا جاتا ہے جب گوشت پک جاتا ہے تو اس میں آٹا ڈال کر اسے مزید پکایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 143
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ وَافِدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، قَالَ : فَلَمْ يَنْشَبْ أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَلَّعُ يَتَكَفَّأُ ، وَقَالَ عَصِيدَةٌ : مَكَانَ خَزِيرَةٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بنی منتفق کے وفد میں شریک لقیط بن صبرہ کہتے ہیں کہ` وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ، اس میں یہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے کو جھکتے ہوئے یعنی تیز چال چلتے ہوئے تشریف لائے ، اس روایت میں لفظ «خزيرة» کی جگہ «عصيدة» ( ایک قسم کا کھانا ) کا ذکر ہے ۔
حدیث نمبر: 144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ فِيهِ : إِذَا تَوَضَّأْتَ فَمَضْمِضْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس طریق سے بھی ابن جریج سے یہی حدیث مروی ہے ، جس میں ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم وضو کرو تو کلی کرو “ ۔