کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: الگ الگ کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 139
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ لَيْثًا يَذْكُرُ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " دَخَلْتُ يَعْنِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وَالْمَاءُ يَسِيلُ مِنْ وَجْهِهِ وَلِحْيَتِهِ عَلَى صَدْرِهِ ، فَرَأَيْتُهُ يَفْصِلُ بَيْنَ الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طلحہ کے دادا کعب بن عمرو یامی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، اس وقت آپ وضو کر رہے تھے ، پانی چہرے اور داڑھی سے آپ کے سینے پر بہہ رہا تھا ، میں نے دیکھا کہ آپ کلی ، اور ناک میں پانی الگ الگ ڈال رہے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی «مضمضة» منہ کی کلی اور «استنشاق‏.» ناک میں پانی ڈالنے، دونوں کے لئے الگ الگ پانی لے رہے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 139
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ليث بن أبي سليم ضعيف مدلس (تقدم: 132), وحديث ابن أبي خيثمة يغني عنه: روي ابن أبي خيثمة عن شقيق بن سلمة قال :رأيت عليًا وعثمان توضآ ثلاثًا ثلاثًا ثم قالا: ھكذا توضأ النبي ﷺ وذكر أنهما أفردا المضمضة والاستنشاق (التاريخ الكبير لابن أبي خيثمة ص 588 ح 1410 وسنده حسن), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 18
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 11128) (ضعیف) » (اس کے راوی طلحہ کے والد ”مصرف“ مجہول اور لیث ضعیف ہیں)