حدیث نمبر: 84
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ : " مَا فِي إِدَاوَتِكَ ؟ قَالَ : نَبِيذٌ . قَالَ : تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ : عَنْ أَبِي زَيْدٍ أَوْ زَيْدٍ كَذَا ، قَالَ شَرِيكٌ : وَلَمْ يَذْكُرْ هَنَّادٌ لَيْلَةَ الْجِنِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں والی رات میں مجھ سے پوچھا : ” تمہاری چھاگل میں کیا ہے ؟ “ ، میں نے کہا : نبیذ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ پاک کھجور اور پاک پانی ہے “ ۔
حدیث نمبر: 85
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ ؟ فَقَالَ : مَا كَانَ مَعَهُ مِنَّا أَحَدٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علقمہ کہتے ہیں کہ` میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا : «ليلة الجن» ( جنوں والی رات ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ لوگوں میں سے کون تھا ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم میں سے کوئی نہ تھا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جنوں کے پاس جانا چھ مرتبہ ثابت ہے، پہلی بار کا واقعہ مکہ میں پیش آیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نہیں تھے جیسا کہ مسلم اور ترمذی کے اندر سورہ احقاف کی تفسیر میں مذکور ہے، دوسری مرتبہ کا واقعہ مکہ ہی میں جبل حجون پر پیش آیا، تیسرا واقعہ اعلی مکہ میں پیش آیا، جب کہ چوتھا مدینہ میں بقیع غرقد کا ہے، ان تینوں راتوں میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پانچواں واقعہ مدنی زندگی میں مدینہ سے باہر پیش آیا اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ تھے، چھٹا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی سفر کا ہے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بلال بن الحارث رضی اللہ عنہ تھے (ملاحظہ ہو: الکوکب الدری شرح الترمذی)۔
حدیث نمبر: 86
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، " أَنَّهُ كَرِهَ الْوُضُوءَ بِاللَّبَنِ وَالنَّبِيذِ ، وَقَالَ : إِنَّ التَّيَمُّمَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطاء سے روایت ہے کہ` وہ دودھ اور نبیذ سے وضو کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے : اس سے تو مجھے تیمم ہی زیادہ پسند ہے ۔
حدیث نمبر: 87
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ ، قَالَ : " سَأَلْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ عَنْ رَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ وَلَيْسَ عِنْدَهُ مَاءٌ وَعِنْدَهُ نَبِيذٌ ، أَيَغْتَسِلُ بِهِ ؟ قَالَ : لَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوخلدہ کہتے ہیں کہ` میں نے ابوالعالیہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا جسے جنابت لاحق ہوئی ہو اور اس کے پاس پانی نہ ہو ، بلکہ نبیذ ہو تو کیا وہ اس سے غسل کر سکتا ہے ؟ آپ نے کہا : نہیں ۔