کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 81
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ ، قَالَ : لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ سِنِينَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ ، أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ " ، زَادَ مُسَدَّدٌ : وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حمید حمیری کہتے ہیں کہ` میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اسی طرح چار سال تک رہنے کا موقع ملا تھا جیسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے تھے ، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو مرد کے بچے ہوئے پانی سے اور مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے سے منع فرمایا ۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا ہے : ” چاہیئے کہ دونوں ایک ساتھ لپ سے پانی لیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 81
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (472)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الطھارة 147 (239)، (تحفة الأشراف: 15554، 15555) (صحیح) »
حدیث نمبر: 82
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ الْأَقْرَعُ ، " أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حکم بن عمرو یعنی اقرع سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مرد اور عورت کے بچے ہوئے پانی سے پاکی حاصل کرنے کی ممانعت اور جواز سے متعلق روایات میں تطبیق کی ایک صورت یہ ہے کہ ممانعت کی روایتوں کو اس پانی پر محمول کیا جائے جو اعضاء کو دھوتے وقت گرا ہو، اور جواز کی روایتوں کو اس پانی پر جو برتن میں بچا ہو، دوسری صورت یہ ہے کہ ممانعت کی روایتوں کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 82
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (471)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الطھارة 47 (64)، سنن النسائی/المیاہ 11 (344)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 34 (373)، (374) ولفظه: ’’عبدالله بن سرجس‘‘، (تحفة الأشراف: 3421)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/213، 5/66) (صحیح) »