حدیث نمبر: 71
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، فِي حَدِيثِ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " طُهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مِرَارٍ ، أُولَاهُنَّ بِتُرَابٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَلِكَ قَالَ أَيُّوبُ ، وَحَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اس برتن کی پاکی یہ ہے کہ اس کو سات بار دھویا جائے ، پہلی بار مٹی سے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ایوب اور حبیب بن شہید نے بھی اسی طرح محمد سے روایت کی ہے ۔
حدیث نمبر: 72
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَرْفَعَاهُ ، وَزَادَ : وَإِذَا وَلَغَ الْهِرُّ غُسِلَ مَرَّةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد ( ابن سیرین ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں ،` لیکن ان دونوں ( حماد بن زید اور معتمر ) نے اس حدیث کو مرفوعاً نقل نہیں کیا ہے ، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ : ” جب بلی کسی برتن میں منہ ڈال دے تو ایک بار دھویا جائے گا “ ۔
حدیث نمبر: 73
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، السَّابِعَةُ بِالتُّرَابِ " قَالَ أَبُو دَاوُد : وَأَمَّا أَبُو صَالِحٍ ، وَأَبُو رَزِينٍ ، وَالْأَعْرَجُ ، وَثَابِتٌ الْأَحْنَفُ ،وَهَمَّامُ بْنُ مُنَبِّهٍ ، وَأَبُو السُّدِّيِّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، رَوَوْهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلَمْ يَذْكُرُوا التُّرَابَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ ، ساتویں بار مٹی سے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوصالح ، ابورزین ، اعرج ، ثابت احنف ، ہمام بن منبہ اور ابوسدی عبدالرحمٰن نے بھی اسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے لیکن ان لوگوں نے مٹی کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 74
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ ابْنِ مُغَفَّلٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ، ثُمَّ قَالَ مَا لَهُمْ وَلَهَا ، فَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ ، وَفِي كَلْبِ الْغَنَمِ ، وَقَالَ : إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ ، فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مِرَارٍ ، وَالثَّامِنَةُ عَفِّرُوهُ بِالتُّرَابِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَكَذَا قَالَ ابْنُ مُغَفَّلٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا پھر فرمایا : ” لوگوں کو ان سے کیا سروکار ؟ “ ۱؎ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتوں اور بکریوں کے نگراں کتوں کے پالنے کی اجازت دی ، اور فرمایا : ” جب کتا برتن میں منہ ڈال دے ، تو اسے سات بار دھوؤ اور آٹھویں بار مٹی سے مانجھو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن مغفل نے ایسا ہی کہا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس میں سابق حکم کی منسوخی اور کتوں کے قتل سے باز رہنے کی دلیل ہے۔