حدیث نمبر: 66
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ ، وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا الْحِيَضُ وَلَحْمُ الْكِلَابِ وَالنَّتْنُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَقَالَ بَعْضُهُمْ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا : کیا ہم بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں ، جب کہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں حیض کے کپڑے ، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی پاک ہے ، اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کچھ لوگوں نے عبداللہ بن رافع کی جگہ عبدالرحمٰن بن رافع کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 67
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيَّانِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقَالُ لَهُ : إِنَّهُ يُسْتَقَى لَكَ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ ، وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا لُحُومُ الْكِلَابِ وَالْمَحَايِضُ وَعَذِرُ النَّاسِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وسَمِعْت قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ قَيِّمَ بِئْرِ بُضَاعَةَ عَنْ عُمْقِهَا . قَالَ : أَكْثَرُ مَا يَكُونُ فِيهَا الْمَاءُ إِلَى الْعَانَةِ ، قُلْتُ : فَإِذَا نَقَصَ ؟ قَالَ : دُونَ الْعَوْرَةِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَقَدَّرْتُ أَنَا بِئْرَ بُضَاعَةَ بِرِدَائِي مَدَدْتُهُ عَلَيْهَا ، ثُمَّ ذَرَعْتُهُ فَإِذَا عَرْضُهَا سِتَّةُ أَذْرُعٍ ، وَسَأَلْتُ الَّذِي فَتَحَ لِي بَابَ الْبُسْتَانِ ، فَأَدْخَلَنِي إِلَيْهِ ، هَلْ غُيِّرَ بِنَاؤُهَا عَمَّا كَانَتْ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : لَا . وَرَأَيْتُ فِيهَا مَاءً مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت یہ فرماتے سنا جب کہ آپ سے پوچھا جا رہا تھا کہ بئر بضاعہ ۱؎ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی لایا جاتا ہے ، حالانکہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں کتوں کے گوشت ، حیض کے کپڑے ، اور لوگوں کے پاخانے ڈالے جاتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے قتیبہ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے : میں نے بئر بضاعہ کے متولی سے اس کی گہرائی کے متعلق سوال کیا ، تو انہوں نے جواب دیا : پانی جب زیادہ ہوتا ہے تو زیر ناف تک رہتا ہے ، میں نے پوچھا : اور جب کم ہوتا ہے ؟ تو انہوں نے جواباً کہا : تو ستر یعنی گھٹنے سے نیچے رہتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے بئر بضاعہ کو اپنی چادر سے ناپا ، چادر کو اس پر پھیلا دیا ، پھر اسے اپنے ہاتھ سے ناپا ، تو اس کا عرض ( ۶ ) ہاتھ نکلا ، میں نے باغ والے سے پوچھا ، جس نے باغ کا دروازہ کھول کر مجھے اندر داخل کیا : کیا بئر بضاعہ کی بناوٹ و شکل میں پہلے کی نسبت کچھ تبدیلی ہوئی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے دیکھا کہ پانی کا رنگ بدلا ہوا تھا ۔
وضاحت:
۱؎: بئر بضاعہ: مدینہ نبویہ میں مسجد نبوی سے جنوب مغرب میں واقع کنواں تھا، اس وقت یہ جگہ مسجد نبوی کی توسیع جدید میں مسجد کے اندر داخل ہو چکی ہے۔