کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: آدمی رات کو اٹھے تو مسواک کرے۔
حدیث نمبر: 55
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ، يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو اپنا منہ مسواک سے صاف کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 55
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (245، 889) صحيح مسلم (255)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الوضوء 73 (245)، الجمعة 8 (889)، التھجد 9 (1136)، صحیح مسلم/الطھارة 15 (255)، سنن النسائی/الطھارة 2 (2)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 7 (286)، (تحفة الأشراف: 3336)، مسند احمد (5/382، 390، 397)، سنن الدارمی/الطھارة 20 (712) (صحیح) »
حدیث نمبر: 56
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوضَعُ لَهُ وَضُوءُهُ وَسِوَاكُهُ ، فَإِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ تَخَلَّى ثُمَّ اسْتَاكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی اور مسواک رکھ دی جاتی تھی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھتے تو قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کرتے پھر مسواک کرتے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 56
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, انفرد به ابو داود
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16111)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 18 (746)، سنن النسائی/الافتتاح 262 (1316)، قیام اللیل 2(1602)، 17(1642)، 18(1652)، 42(1719)، 43 (1721، 1725)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 123 (1190)، مسند احمد (6/44) (صحیح) »
حدیث نمبر: 57
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ فَيَسْتَيْقِظُ ، إِلَّا تَسَوَّكَ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی رات کو یا دن کو سو کر اٹھتے تو وضو کرنے سے پہلے مسواک کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 57
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن دون قوله ولا نهار , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, علي بن زيد بن جدعان ضعيف (تقدم: 54) والجمھور علي تضعيفه, وأم محمد لم أجد من وثقھاوھي مجهولة, وانظر الحديث الآتي (4898), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 15
حدیث تخریج « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17819)، مسند احمد (6/121، 160) (حسن) دون قوله: ’’ولا نهار‘‘ »
حدیث نمبر: 58
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ،عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ ، أَتَى طَهُورَهُ ، فَأَخَذَ سِوَاكَهُ فَاسْتَاكَ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَاتِ : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى قَارَبَ أَنْ يَخْتِمَ السُّورَةَ أَوْ خَتَمَهَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْل ذَلِكَ ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَوْتَرَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، قَالَ : فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری ، جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو اپنے وضو کے پانی کے پاس آئے ، اپنی مسواک لے کر مسواک کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ۱؎ کی تلاوت کی یہاں تک کہ سورۃ ختم کے قریب ہو گئی ، یا ختم ہو گئی ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر اپنے مصلی پر آئے اور دو رکعت نماز پڑھی ، پھر واپس اپنے بستر پر جب تک اللہ نے چاہا جا کر سوئے رہے ، پھر نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا ( یعنی مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی ) پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے ، پھر نیند سے بیدار ہوئے ، اور اسی طرح کیا ، پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے اس کے بعد نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا ، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے ، دو رکعت نماز پڑھتے تھے ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن فضیل نے حصین سے روایت کی ہے ، اس میں اس طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی اور وضو کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض» پڑھ رہے تھے ، یہاں تک کہ پوری سورۃ ختم کر دی ۔
وضاحت:
۱؎: ’’ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں ‘‘ (سورۃ آل عمران: ۱۹۰)
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 58
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (763)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/العلم 41 (117)، الأذان 57 (697)، 59 (699)، 79 (728)، اللباس 71 (5919)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن النسائی/الإمامة 21 (803)، 22 (805)، الغسل 29 (441)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 44 (973)، (تحفة الأشراف: 6287)، وراجع حدیث رقم: (1353، 1357)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215، 252، 285، 287، 341، 347، 354، 357، 360، 365)، سنن الدارمی/الطہارة 3 (684) (صحیح) »