حدیث نمبر: 42
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى التَّوْأَمُ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ التَّوْأَمُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهُ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ ، فَقَالَ : مَا هَذَا يَا عُمَرُ ؟ . فَقَالَ : هَذَا مَاءٌ تَتَوَضَّأُ بِهِ ، قَالَ : " مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ ، وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا ، عمر رضی اللہ عنہ پانی کا ایک کوزہ ( کلھڑ ) لے کر آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” عمر ! یہ کیا چیز ہے ؟ “ ، عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : آپ کے وضو کا پانی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے ایسا حکم نہیں ہوا کہ جب بھی میں پیشاب کروں تو وضو کروں ، اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت ( واجبہ ) بن جائے گی “ ۔