کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: استنجاء کے وقت عضو تناسل (شرمگاہ) کو داہنے ہاتھ سے چھونا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 31
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ ، وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ ، فَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ ، وَإِذَا شَرِبَ ، فَلَا يَشْرَبْ نَفَسًا وَاحِدًا "
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنے عضو تناسل کو داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے ، اور جب کوئی بیت الخلاء جائے تو داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے ، اور جب پانی پیئے تو ایک سانس میں نہ پیئے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 31
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (153، 154) صحيح مسلم (267)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الوضوء 18 (153)، 19 (154)، الأشربة 25 (5630)، صحیح مسلم/الطھارة 18 (267)، سنن الترمذی/الطھارة 11 (15)، سنن النسائی/الطھارة 23 (24 ، 25)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 15 (310)، (تحفة الأشراف: 12105)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/296، 300، 310)، سنن الدارمی/الطھارة (13/700) (صحیح) »
حدیث نمبر: 32
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ يَعْنِي الْإِفْرِيقِيَّ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، وَمَعْبَدٍ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَثِيَابِهِ ، وَيَجْعَلُ شِمَالَهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حارثہ بن وہب خزاعی کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ کو کھانے ، پینے اور کپڑا پہننے کے لیے استعمال کرتے تھے ، اور اپنے بائیں ہاتھ کو ان کے علاوہ دوسرے کاموں کے لیے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 32
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: 15794)، مسند احمد (6/288) (صحیح) »
حدیث نمبر: 33
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيُمْنَى لِطُهُورِهِ وَطَعَامِهِ ، وَكَانَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ ، وَمَا كَانَ مِنْ أَذًى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ وضو اور کھانے کے لیے ، اور بایاں ہاتھ پاخانہ اور ان چیزوں کے لیے ہوتا تھا جن میں گندگی ہوتی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 33
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سعيد بن أبي عروبة مدلس (طبقات المدلسين: 2/50 وھو من الثالثة) وعنعن, والحديث السابق (الأصل: 32 وسنده حسن) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 14
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15917)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 31 (168)، الصلاة 47 (426)، الجنائز 10 (1255)،الأطمعة 5 (5380)، اللباس 38 (5854)، اللباس 77 (5926)، صحیح مسلم/الطہارة 19 (268)، سنن الترمذی/الجمعة 75 (608)، سنن النسائی/الطہارة 90 (112)، وفي الزینة برقم: (5062)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 42 (401)، مسند احمد (6/170، 265) (صحیح) (وأبو معشر هو زياد بن كليب) »
حدیث نمبر: 34
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بُزَيْعٍ ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 34
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سعيد بن أبي عروبة مدلس (طبقات المدلسين: 2/50 وھو من الثالثة) وعنعن, والحديث السابق (الأصل: 32 وسنده حسن) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 14
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15943)، مسند احمد (6/265) (صحیح) »