حدیث نمبر: 20
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ ، فَقَالَ : " إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ ، أَمَّا هَذَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ ، وَأَمَّا هَذَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ، ثُمَّ دَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ ، فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ ، ثُمَّ غَرَسَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا وَعَلَى هَذَا وَاحِدًا ، وَقَالَ : لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا " ، قَالَ هَنَّادٌ : يَسْتَتِرُ مَكَانَ يَسْتَنْزِهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں پر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( قبر میں مدفون ) ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ، ان میں سے یہ شخص تو پیشاب سے پاکی حاصل نہیں کرتا تھا ، اور رہا یہ تو یہ چغل خوری میں لگا رہتا تھا “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک تازہ ٹہنی منگوائی ، اور اسے بیچ سے پھاڑ کر دونوں قبروں پر ایک ایک شاخ گاڑ دی پھر فرمایا ” جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں شاید ان کا عذاب کم رہے “ ۔ ھناد نے «يستنزه» کی جگہ «يستتر» ( پردہ نہیں کرتا تھا ) ذکر کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 21
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَاهُ ، قَالَ : كَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ . وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : يَسْتَنْزِهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے` اس میں جریر نے «كان لا يستتر من بوله» کہا ہے ، اور ابومعاویہ نے «يستتر» کی جگہ «يستنزه» ” وہ پاکی حاصل نہیں کرتا تھا “ کا لفظ ذکر کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 22
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ دَرَقَةٌ ثُمَّ اسْتَتَرَ بِهَا ثُمَّ بَالَ ، فَقُلْنَا : انْظُرُوا إِلَيْهِ ، يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ ، فَسَمِعَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " أَلَمْ تَعْلَمُوا مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَطَعُوا مَا أَصَابَهُ الْبَوْلُ مِنْهُمْ ، فَنَهَاهُمْ ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ مَنْصُورٌ : عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : جِلْدِ أَحَدِهِمْ . وقَالَ عَاصِمٌ : عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : جَسَدِ أَحَدِهِمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن حسنہ کہتے ہیں :` میں اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے تو ( دیکھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( باہر ) نکلے اور آپ کے ساتھ ایک ڈھال ہے ، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آڑ کی پھر پیشاب کیا ، ہم نے کہا : آپ کو دیکھو عورتوں کی طرح ( چھپ کر ) پیشاب کر رہے ہیں ، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جس سے بنی اسرائیل کا ایک شخص دوچار ہوا ؟ ان میں سے جب کسی شخص کو ( اس کے جسم کے کسی حصہ میں ) پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو کاٹ ڈالتا جہاں پیشاب لگ جاتا ، اس شخص نے انہیں اس سے روکا تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : منصور نے ابووائل سے ، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے ، ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث میں پیشاب لگ جانے پر اپنی کھال کاٹ ڈالنے کی روایت کی ہے ، اور عاصم نے ابووائل سے ، انہوں نے ابوموسیٰ سے ، اور ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا جسم کاٹ ڈالنے کا ذکر کیا ہے ۔