حدیث نمبر: 3031
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ " سُورَةُ التَّوْبَةِ ، قَالَ : آلتَّوْبَةِ ، قَالَ : بَلْ هِيَ الْفَاضِحَةُ مَا زَالَتْ تَنْزِلُ وَمِنْهُمْ وَمِنْهُمْ حَتَّى ظَنُّوا أَنْ لَا يَبْقَى مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا ذُكِرَ فِيهَا ، قَالَ : قُلْتُ : سُورَةُ الْأَنْفَالِ ، قَالَ : تِلْكَ سُورَةُ بَدْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : فَالْحَشْرُ قَالَ : نَزَلَتْ فِي بَنِي النَّضِيرِ " .
حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں،کہ میں نے سیدنا ابن عباس ؓ سے کہا کہ سورۃ التوبہ؟ انہوں نے کہا کہ سورۃ التوبہ؟ اور کہا کہ بلکہ وہ سورت تو ذلیل کرنے والی ہے اور فضیحت کرنے والی ہے (کافروں اور منافقوں کی)۔ اس سورت میں برابر اترتا رہا کہ"منهم "منهم"یہاں تک کہ منافق لوگ سمجھے کہ کوئی باقی نہ رہے گا جس کا ذکر اس سورت میں نہ کیا جائے گا۔ میں نے کہا کہ سورۃ الانفال؟ انہوں نے کہا کہ وہ سورت تو بدر کی لڑائی کے بارے میں ہے (اس میں مال غنیمت کے احکام مذکور ہیں)۔ میں نے کہا کہ سورۃ الحشر؟ انہوں نے کہا کہ وہ بنی نضیر (کے انجام)کے بارے میں نازل ہوئی۔