مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: مسکین اور مسافر پر خرچ کرنے کا ثواب۔
حدیث نمبر: 2984
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ ، فَتَنَحَّى ذَلِكَ السَّحَابُ ، فَأَفْرَغَ مَاءَهُ فِي حَرَّةٍ ، فَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذَلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ ، فَتَتَبَّعَ الْمَاءَ ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ ، فَقَالَ لَهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا اسْمُكَ ، قَالَ : فُلَانٌ لِلِاسْمِ الَّذِي سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ ، فَقَالَ لَهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ لِمَ تَسْأَلُنِي عَنِ اسْمِي ؟ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهُ ، يَقُولُ : اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ لِاسْمِكَ فَمَا تَصْنَعُ فِيهَا ، قَالَ : أَمَّا إِذْ قُلْتَ هَذَا ، فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ ، وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثًا ، وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ " ،
یزید بن ہارون نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالعزیز بن ابوسلمہ نے وہب بن کیسان سے خبر دی، انہوں نے عبید بن عمیر لیثی سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”ایک دفعہ ایک شخص زمین میں ایک صحرائی ٹکڑے پر کھڑا تھا۔ اس نے ایک بادل میں آواز سنی: ’فلاں کے باغ کو سیراب کرو۔‘ وہ بادل ایک جانب بنا اور ایک پتھریلی زمین میں اپنا پانی انڈیل دیا۔ پانی کے بہاؤ والی ندیوں میں سے ایک ندی نے وہ سارا پانی اپنے اندر لے لیا۔ وہ شخص پانی کے پیچھے پیچھے چل پڑا تو وہاں ایک آدمی اپنے باغ میں کھڑا اپنے کدال سے پانی کا رخ (اپنے باغ کی طرف) پھیر رہا تھا۔ اس نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! تمھارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: فلاں، وہی نام جو اس نے بادل میں سنا تھا۔ اس (آدمی) نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! تم نے مجھ سے میرا نام کیوں پوچھا ہے؟ اس نے کہا: میں نے اس بادل میں، جس کا یہ پانی ہے، (کسی کو) یہ کہتے سنا تھا: فلاں کے باغ کو سیراب کرو، تمھارا نام لیا تھا۔ تم اس میں کیا کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا: تم نے یہ بات کہہ دی ہے تو میں (تمھیں بتا دیتا ہوں)، اس باغ سے جو کچھ حاصل ہوتا ہے، میں اس پر نظر ڈال کر اس کا ایک تہائی حصہ صدقہ کر دیتا ہوں، ایک تہائی میں اور میرے گھروالے کھاتے ہیں۔ اور ایک تہائی اسی (باغ کی دیکھ بھال) میں لگا دیتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2984
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2984
وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : وَأَجْعَلُ ثُلُثَهُ فِي الْمَسَاكِينِ وَالسَّائِلِينَ وَابْنِ السَّبِيلِ .
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں،جس میں یہ ہے،"اورمیں اس کاایک تہائی،مسکینوں،مانگنے والوں اور مسافروں پر خرچ کرتا ہوں۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2984
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔