مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 2956
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2956
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2957
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالسُّوقِ دَاخِلًا مِنْ بَعْضِ الْعَالِيَةِ ، وَالنَّاسُ كَنَفَتَهُ فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ ، فَتَنَاوَلَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ " ، فَقَالُوا : مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ ، وَمَا نَصْنَعُ بِهِ ، قَالَ : " أَتُحِبُّونَ أَنَّهُ لَكُمْ ؟ " ، قَالُوا : وَاللَّهِ لَوْ كَانَ حَيًّا كَانَ عَيْبًا فِيهِ لِأَنَّهُ أَسَكُّ ، فَكَيْفَ وَهُوَ مَيِّتٌ ؟ ، فَقَالَ : " فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ " ،
سلیمان بن بلال نے جعفر سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ کی) کسی بالائی جانب سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے، لوگ آپ کے پہلو میں (آپ کے ساتھ چل رہے) تھے۔ آپ حقیر سے کانوں والے مرے ہوئے میمنے کے پاس سے گزرے، آپ نے اسے کان سے پکڑ کر اٹھایا، پھر فرمایا: ”تم میں سے کون اسے ایک درہم کے عوض لینا پسند کرے گا؟“ تو انہوں (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: ہمیں یہ کسی بھی چیز کے عوض لینا پسند نہیں، ہم اسے لے کر کیا کریں گے؟ آپ نے فرمایا: ”(پھر) کیا تم پسند کرتے ہو کہ یہ تمھیں مل جائے؟“ انہوں (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کی: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تو تب بھی اس میں عیب تھا، کیونکہ (ایک تو) یہ حقیر سے کانوں والا ہے (بھلا نہیں لگتا)۔ پھر جب وہ مرا ہوا ہے تو کس کام کا؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جتنا تمھارے نزدیک یہ حقیر ہے اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2957
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2957
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِيَانِ الثَّقَفِيَّ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ : فَلَوْ كَانَ حَيًّا كَانَ هَذَا السَّكَكُ بِهِ عَيْبًا .
محمد بن مثنیٰ عنزی اور ابراہیم بن محمد بن عروہ سامی نے مجھے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں عبدالوہاب ثقفی نے جعفر (صادق) سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (محمد باقر) سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، البتہ ثقفی کی روایت میں ہے: (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا:) اگر یہ زندہ ہوتا تب بھی حقیر سے کانوں والا ہونا اس کا عیب تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2957
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2958
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ قَالَ : يَقُولُ ابْنُ آدَمَ : " مَالِي مَالِي ، قَالَ : وَهَلْ لَكَ يَابْنَ آدَمَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ ، فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ ، فَأَبْلَيْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ ، فَأَمْضَيْتَ " ،
ہمام (بن یحییٰ بن دینار) نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں قتادہ نے مطرف سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ (سورت) أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ تلاوت فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا ہے میرا مال، میرا مال۔“ فرمایا: ”آدم علیہ السلام کے بیٹے! تیرے مال میں سے تیرے لیے صرف وہی ہے جو تم نے کھا کر فنا کر دیا، یا پہن کر پرانا کر دیا، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2958
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2958
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَقَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هَمَّامٍ .
شعبہ، سعید (بن ابی عروبہ) اور ہشام سب نے قتادہ سے، انہوں نے مطرف سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا۔ (آگے) ہمام کی حدیث کے مانند بیان کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2958
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2959
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَقُولُ الْعَبْدُ مَالِي مَالِي ، إِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ مَا أَكَلَ ، فَأَفْنَى أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى أَوْ أَعْطَى ، فَاقْتَنَى وَمَا سِوَى ذَلِكَ ، فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ " ،
حفص بن میسرہ نے علاء (بن عبدالرحمٰن) سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ کہتا ہے میرا مال، میرا مال، اس لیے تو اس کے مال سے صرف تین چیزیں ہیں: جو اس نے کھایا اور فنا کر دیا، جو پہنا اور بوسیدہ کر دیا، یا جو کسی کو دے کر (آخرت کے لیے) ذخیرہ کر لیا۔ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے تو وہ (بندہ جانے والا اور اس (مال) کو لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2959
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2959
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
محمد بن جعفر نے کہا: مجھے علاء بن عبدالرحمٰن نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند بیان کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2959
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2960
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ ، فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ ، فَيَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى عَمَلُهُ " .
عبداللہ بن ابی بکر نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کے پیچھے تین چیزیں ہوتی ہیں، ان میں سے دو لوٹ آتی ہیں اور ایک ساتھ رہ جاتی ہے، اس کے گھر والے، اس کا مال اور اس کا عمل اس کے پیچھے رہ جاتے ہیں، گھر والے اور مال لوٹ آتے ہیں اور عمل ساتھ رہ جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2960
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2961
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ ، فَسَمِعَتْ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ ، فَوَافَوْا صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ ، فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : " أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَيْءٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ ؟ ، فَقَالُوا : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ ، فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ ، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ " ،
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے انھیں بتایا کہ عمرو بن عوف جو بنی عامر کے حلیف تھے، انہوں نے جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی تھی، انہوں نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین بھیجا تاکہ وہاں کا جزیہ لے آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود اہل بحرین سے صلح کی تھی اور علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کیا تھا، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے آئے، انصار نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے آنے کی خبر سنی تو وہ سب صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی، واپس ہوئے تو وہ (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انھیں دیکھا تو مسکرا دیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تم لوگوں نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ بحرین سے کچھ لے کر آئے ہیں؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے بجا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ اور اس کی امید رکھو جس سے تمھیں خوشی ہو گی۔ اللہ کی قسم! مجھے تم پر فقر کا خوف نہیں (کہ تمھیں اس سے نقصان پہنچے گا) لیکن مجھے تم پر اس بات کا خوف ہے کہ دنیا اسی طرح تم پر کشادہ کر دی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کر دی گئی تھی۔ پھر تم اس میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرو گے جس طرح ان لوگوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا اور یہ تمھیں بھی تباہ کر دے گی جس طرح اس نے ان کو تباہ کر دیا تھا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2961
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2961
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ ، وَمِثْلِ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ ، وَتُلْهِيَكُمْ كَمَا أَلْهَتْهُمْ .
صالح اور شعیب دونوں نے زہری سے یونس کی سند کے ساتھ اس کی حدیث کے مانند روایت کی،مگر صالح کی حدیث میں ہے:"اور یہ تمھیں بھی اس طرح لبھائے گی (دنیا میں مگن اور آخرت سے غافل کردے گی) جس طرح اس نے ان کو لبھایا تھا۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2961
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2962
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ رَبَاحٍ هُوَ أَبُو فِرَاسٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا فُتِحَتْ عَلَيْكُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ أَيُّ قَوْمٍ أَنْتُمْ ؟ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ نَقُولُ : كَمَا أَمَرَنَا اللَّهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ تَتَنَافَسُونَ ثُمَّ تَتَحَاسَدُونَ ثُمَّ تَتَدَابَرُونَ ثُمَّ تَتَبَاغَضُونَ ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ ثُمَّ تَنْطَلِقُونَ فِي مَسَاكِينِ الْمُهَاجِرِينَ ، فَتَجْعَلُونَ بَعْضَهُمْ عَلَى رِقَابِ بَعْضٍ " .
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مولی یزید بن ابوفراس رباح نے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جب روم اور فارس فتح ہو جائیں گے تو تم کس طرح کی قوم ہو گے؟“ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم وہی بات کریں گے جس کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اس کے برعکس تم (دنیا کے معاملے میں) ایک دوسرے سے مقابلہ کرو گے، پھر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگو گے، پھر ایک دوسرے سے منہ موڑ لو گے، پھر ایک دوسرے سے بغض میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ پھر مسلمین مہاجرین کے ہاں جاؤ گے اور ان میں سے کچھ کو (حاکم بنا کر) دوسروں کی گردنوں پر مسلط کر دو گے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2962
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2963
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ " ،
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جب تم میں سے کوئی شخص اس کی طرف دیکھے جسے مال اور جمال میں فضیلت حاصل ہے تو اس کو بھی دیکھے جو اس سے کمتر ہے،جس پر(خود) اسے فضیلت حاصل ہے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2963
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2963
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ سَوَاءً .
معمر نے ہمام بن منبہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، بالکل ابوزناد کی حدیث کے مانند۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2963
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2963
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ ، فَوْقَكُمْ فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ " ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : عَلَيْكُمْ .
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اس کی طرف دیکھو جو(مال ور جمال میں) تم سے کمتر ہے،اس کی طرف مت دیکھو جو تم سے فائق ہے،یہ لائق تر ہے اسکے کہ تم اللہ کی نعمت کو حقیر نہ سمجھو گے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2963
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2964
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ ثَلَاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَبْرَصَ ، وَأَقْرَعَ ، وَأَعْمَى ، فَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا ، فَأَتَى الْأَبْرَصَ ، فَقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : لَوْنٌ حَسَنٌ ، وَجِلْدٌ حَسَنٌ ، وَيَذْهَبُ عَنِّي الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ ، قَالَ : فَمَسَحَهُ ، فَذَهَبَ عَنْهُ قَذَرُهُ وَأُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا ، قَالَ : فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : الْإِبِلُ أَوَ قَالَ : الْبَقَرُ شَكَّ إِسْحَاقُ إِلَّا أَنَّ الْأَبْرَصَ أَوِ الْأَقْرَعَ ، قَالَ أَحَدُهُمَا : الْإِبِلُ وَقَالَ الْآخَرُ : الْبَقَرُ ، قَالَ : فَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ ، فَقَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا ، قَالَ : فَأَتَى الْأَقْرَعَ ، فَقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : شَعَرٌ حَسَنٌ ، وَيَذْهَبُ عَنِّي هَذَا الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ ، قَالَ : فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ وَأُعْطِيَ شَعَرًا حَسَنًا ، قَالَ : فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : الْبَقَرُ ، فَأُعْطِيَ بَقَرَةً حَامِلًا ، فَقَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا ، قَالَ : فَأَتَى الْأَعْمَى ، فَقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : أَنْ يَرُدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَأُبْصِرَ بِهِ النَّاسَ ، قَالَ : فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ بَصَرَهُ ، قَالَ : فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : الْغَنَمُ ، فَأُعْطِيَ شَاةً وَالِدًا ، فَأُنْتِجَ هَذَانِ وَوَلَّدَ هَذَا ، قَالَ : فَكَانَ لِهَذَا وَادٍ مِنَ الْإِبِلِ ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْبَقَرِ ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْغَنَمِ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى الْأَبْرَصَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِسْكِينٌ : قَدِ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي ، فَلَا بَلَاغَ لِي الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ بَعِيرًا ، أَتَبَلَّغُ عَلَيْهِ فِي سَفَرِي ؟ ، فَقَالَ : الْحُقُوقُ كَثِيرَةٌ ، فَقَالَ لَهُ : كَأَنِّي أَعْرِفُكَ ، أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ فَقِيرًا ، فَأَعْطَاكَ اللَّهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا وَرِثْتُ هَذَا الْمَالَ كَابِرًا ، عَنْ كَابِرٍ ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ ، قَالَ : وَأَتَى الْأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِهَذَا ، وَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ عَلَى هَذَا ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا ، فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ ، قَالَ : وَأَتَى الْأَعْمَى فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ ، فَقَالَ : رَجُلٌ مِسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي ، فَلَا بَلَاغَ لِي الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةً ، أَتَبَلَّغُ بِهَا فِي سَفَرِي ؟ ، فَقَالَ : قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي ، فَخُذْ مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ ، فَوَاللَّهِ لَا أَجْهَدُكَ الْيَوْمَ شَيْئًا أَخَذْتَهُ لِلَّهِ ، فَقَالَ : أَمْسِكْ مَالَكَ ، فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ فَقَدْ رُضِيَ عَنْكَ وَسُخِطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ " .
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا: بنی اسرائیل کے لوگوں میں تین آدمی تھے، ایک کوڑھی سفید داغ والا، دوسرا گنجا اور تیسرا اندھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمانا چاہا کہ تو ان کے پاس فرشتہ بھیجا۔ پس وہ سفید داغ والے کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ تجھے کون سی چیز بہت پیاری ہے؟ اس نے کہا کہ اچھا رنگ اچھی کھال اور مجھ سے یہ بیماری دور ہو جائے جس کے سبب سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا۔ پس اس کی بدصورتی دور ہو گئی اور اس کو اچھا رنگ اور اچھی کھال دی گئی۔ فرشتے نے کہا کہ تجھے کون سا مال بہت پسند ہے؟ اس نے کہا کہ اونٹ یا گائے۔ (راوی حدیث اسحاق بن عبداللہ کو شک ہے کہ اس نے اونٹ مانگا یا گائے لیکن سفید داغ والے یا گنجے نے ان میں سے ایک نے اونٹ کہا اور دوسرے نے گائے)۔ پس اس کو دس مہینے کی گابھن اونٹنی دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ تیرے واسطے اس میں برکت دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا پس کہا کہ تجھے کون سی چیز بہت پسند ہے؟ اس نے کہا کہ اچھے بال اور یہ بیماری جاتی رہے جس کے سبب سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ پھر اس نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری دور ہو گئی اور اس کو اچھے بال ملے۔ فرشتے نے کہا کہ تجھے کون سا مال بہت پسند ہے؟ اس نے کہا کہ گائے۔ پس اس کو گابھن گائے دے دی گئی۔ فرشتے نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تیرے مال میں برکت دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ تجھے کون سی چیز بہت پسند ہے؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آنکھ میں بینائی کر دے تو میں اس کے سبب سے لوگوں کو دیکھوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اللہ نے اس کو بینائی دے دی۔ فرشتے نے کہا کہ تجھے کون سا مال بہت پسند ہے؟ اس نے کہا کہ بھیڑ بکری۔ تو اس کو گابھن بکری ملی۔ پھر ان دونوں (اونٹنی اور گائے) اور اس (بکری) نے بچے دئیے۔ پھر ہوتے ہوتے سفید داغ والے کے جنگل بھر اونٹ ہو گئے اور گنجے کے جنگل بھر گائے بیل ہو گئے اور اندھے کے جنگل بھر بکریاں ہو گئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدت کے بعد وہی فرشتہ سفید داغ والے کے پاس اس کی پہلی صورت اور شکل میں آیا، اور کہا کہ میں محتاج آدمی ہوں، سفر میں میرے تمام اسباب کٹ گئے (یعنی تدبیریں جاتی رہیں اور مال اور اسباب نہ رہا)، پس آج میرے لئے اللہ کی مدد کے سوا اور اس کے بعد تیری مدد کے بغیر منزل پر پہنچنا ممکن نہیں ہے، میں تجھ سے اس کے نام پر جس نے تجھے ستھرا رنگ اور ستھری کھال دی اور مال اونٹ دئیے، ایک اونٹ مانگتا ہوں جو میرے سفر میں کام آئے۔ اس نے کہا کہ مجھ پر لوگوں کے بہت حق ہیں (یعنی قرضدار ہوں یا گھربار کے خرچ سے زیادہ مال نہیں جو تجھے دوں)۔ پھر فرشتہ نے کہا کہ البتہ میں تجھے پہچانتا ہوں بھلا کیا تو محتاج کوڑھی نہ تھا؟ کہ لوگ تجھ سے نفرت کرتے تھے، پھر اللہ نے اپنے فضل سے تجھے یہ مال دیا۔ اس نے جواب دیا کہ میں نے تو یہ مال اپنے باپ دادا سے پایا ہے جو کئی پشت سے نقل ہو کر آیا ہے۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تو جھوٹا ہو تو اللہ تجھے ویسا ہی کر ڈالے جیسا تو پہلے تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کے پاس اس کی پہلی صورت اور شکل میں آیا اور اس سے ویسا ہی کہا جیسا سفید داغ والے سے کہا تھا اور اس نے بھی وہی جواب دیا جو سفید داغ والے نے دیا تھا۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تو جھوٹا ہو تو اللہ تجھے ویسا ہی کر ڈالے جیسا تو تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فرشتہ اندھے کے پاس اس کی پہلی شکل و صورت میں گیا، اور کہا کہ میں محتاج آدمی ہوں اور مسافر ہوں، میرے سفر میں میرے سب وسیلے اور تدبیریں کٹ گئیں، پس مجھے آج منزل پر اللہ کی مدد اور اس کے بعد تیری مدد کے بغیر پہنچنا مشکل ہے۔ پس میں تجھ سے اس اللہ کے نام پر، جس نے تجھے بینائی دی، ایک بکری مانگتا ہوں تاکہ وہ میرے سفر میں کام آئے۔ اس نے کہا کہ بیشک میں اندھا تھا تو اللہ نے مجھے (بینائی والی) آنکھ دی، تو ان بکریوں میں سے جتنی چاہو لے جاؤ اور جتنی چاہو چھوڑ جاؤ۔ اللہ کی قسم! آج جو چیز تو اللہ کی راہ میں لے گا، میں تجھے مشکل میں نہ ڈالوں گا (یعنی تیرا ہاتھ نہ پکڑوں گا)۔ پس فرشتے نے کہا کہ اپنا مال اپنے پاس رکھو، تم تینوں آدمی صرف آزمائے گئے تھے۔ پس تجھ سے تو اللہ تعالیٰ راضی ہوا اور تیرے دونوں ساتھیوں سے ناخوش ہوا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2964
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2965
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ ، قَالَ عَبَّاسٌ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : كَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي إِبِلِهِ ، فَجَاءَهُ ابْنُهُ عُمَرُ ، فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ ، قَالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الرَّاكِبِ ، فَنَزَلَ ، فَقَالَ لَهُ : أَنَزَلْتَ فِي إِبِلِكَ وَغَنَمِكَ وَتَرَكْتَ النَّاسَ يَتَنَازَعُونَ الْمُلْكَ بَيْنَهُمْ ، فَضَرَبَ سَعْدٌ فِي صَدْرِهِ ، فَقَالَ اسْكُتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ " .
عامر رحمۃ اللہ علیہ بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اونٹوں کے پاس تھے کہ ان کےبیٹےعمر(بن سعد)ان کے پاس آئے جب حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں دیکھا تو کہا: میں اس سوار کے شرسے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں وہ اترے اور ان(حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے کہا:آپ اپنے اونٹوں اور بکریوں کے پاس رہائش پذیر ہو گئے ہیں اور لوگوں کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ سلطنت کے بارے میں باہم لڑرہے ہیں (آپ کبھی اپناحصہ مانگیں) حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے سینے پر ضرب لگائی اور کہا:خاموش رہو!میں نے رسول االلہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناہے،"اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے محبت رکھتا ہے جو متقی ہو، غنی ہو، گم نام(گوشہ نشیں)ہو۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2965
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2966
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَابْنُ بِشْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَقَدْ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ نَأْكُلُهُ إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ ، وَهَذَا السَّمُرُ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الدِّينِ لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي وَلَمْ يَقُلْ ابْنُ نُمَيْرٍ إِذًا " ،
معمر، عبداللہ بن نمیر اور ابن بشر نے کہا: ہمیں اسماعیل بن قیس نے حدیث سنائی، کہا: میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ کی قسم! میں عربوں میں سے پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس طرح جنگیں لڑتے تھے کہ ہمارے پاس کھانے کو خاردار درخت کے پتوں اور اس کیکر (کے پتوں) کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی بکری کی مینگنیوں کی طرح پاخانہ کرتا تھا، پھر اب بنو اسد کے لوگ دین کے معاملے میں میری تادیب کرنے لگے ہیں! (اگر اب میں دین سے اس قدر نابلد ہو گیا ہوں) تب تو میں بالکل ناکام ہو گیا اور میرے عمل ضائع ہو گئے۔ اور ابن نمیر نے اپنی روایت میں ”تب تو“ نہیں کہا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2966
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2966
وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الْعَنْزُ مَا يَخْلِطُهُ بِشَيْءٍ .
وکیع نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: یہاں تک کہ ہم سے ایک بکرے کی (مینگنیوں کی) طرح کا پاخانہ کرتا تھا جس میں اور کچھ (کسی اور کھانے کا کوئی حصہ جو اسے پاخانہ کی شکل سے) ملا ہوا نہیں ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2966
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2967
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصَرْمٍ ، وَوَلَّتْ حَذَّاءَ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ يَتَصَابُّهَا صَاحِبُهَا ، وَإِنَّكُمْ مُنْتَقِلُونَ مِنْهَا إِلَى دَارٍ لَا زَوَالَ لَهَا ، فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ ، فَإِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفَةِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا لَا يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا ، وَوَاللَّهِ لَتُمْلَأَنَّ أَفَعَجِبْتُمْ وَلَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهَا يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ مِنَ الزِّحَامِ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا ، فَالْتَقَطْتُ بُرْدَةً فَشَقَقْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، فَاتَّزَرْتُ بِنِصْفِهَا وَاتَّزَرَ سَعْدٌ بِنِصْفِهَا ، فَمَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا أَصْبَحَ أَمِيرًا عَلَى مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ ، وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا وَعِنْدَ اللَّهِ صَغِيرًا ، وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَنَاسَخَتْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَاقِبَتِهَا مُلْكًا ، فَسَتَخْبُرُونَ وَتُجَرِّبُونَ الْأُمَرَاءَ بَعْدَنَا " ،
شیبان بن فروخ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حمید بن بلال نے خالد بن عمیر عدوی سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ایک دن (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے بصرہ کے عامل) حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر کہا: حمد و ثنا کے بعد بے شک یہ دنیا خاتمے کے قریب ہو گئی ہے اور اس (کی مہلت) میں سے تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا ہے جس طرح برتن کے آخری قطرے ہوتے ہیں جنھیں برتن والا انڈیل رہا ہوتا ہے اور تم اس دنیا سے اس گھر کی طرف منتقل ہو رہے ہو جس پر زوال نہیں آئے گا۔ جو تمھارے پاس ہے اس میں سے بہترین متاع کے ساتھ آگے جاؤ۔ کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جاتا ہے تو وہ ستر سال گرتا رہتا ہے۔ اس کی تہ تک نہیں پہنچتا۔ اور اللہ کی قسم! یہ (جہنم) پوری طرح بھر جائے گی۔ کیا تمھیں اس پر تعجب ہے؟ اور ہمیں بتایا گیا کہ جنت کے کواٹروں میں سے دو کواٹروں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے اور اس پر ایک دن آئے گا جب وہ ازدحام کے سبب تنگ پڑ جائے گا اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایمان لانے والے) سات لوگوں میں سے ساتواں میں تھا، ہمارے پاس درختوں کے پتوں کے سوا کھانے کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں۔ میں نے ایک چادر اٹھائی تو اسے اپنے اور سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر لیا، آدھی میں نے کمر پر باندھی اور آدھی سعد رضی اللہ عنہ نے، اب ہم میں سے ہر کوئی شہروں میں سے کسی شہر کا امیر بن گیا ہے۔ میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنے دل میں بڑا اور اللہ کے نزدیک چھوٹا ہو جاؤں اور کبھی کوئی نبوت نہیں تھی، مگر ختم ہو گئی۔ یہاں تک کہ اس کا پچھلا حصہ بادشاہت میں بدل گیا۔ جلد ہی تمھیں (اس کا) پتہ چل جائے گا اور ہمارے بعد کے امیروں کا (بھی تم لوگ خود) تجربہ کر لو گے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2967
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2967
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَقَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ ، قَالَ : خَطَبَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْبَصْرَةِ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ شَيْبَانَ .
خالد بن عمیر،جنھوں نے جاہلیت کا دور پایا ہے،بیان کرتے ہیں،حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطاب کیا،جبکہ وہ بصرہ کے گورنرتھے،آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2967
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2967
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ غَزْوَانَ يَقُولُ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا طَعَامُنَا إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ حَتَّى ، قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا " .
قرہ بن خالد نے حمید بلال سے اور انہوں نے خالد بن عمیر سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، میں نے دیکھا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایمان لانے والے) سات لوگوں میں سے ساتواں شخص تھا، خاردار درختوں کے پتوں کے سوا ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2967
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2968
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ ، قَالَ : " هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ ؟ ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : " فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ ؟ " ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ ، إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا " ، قَالَ : " فَيَلْقَى الْعَبْدَ ، فَيَقُولُ : أَيْ فُلْ ، أَلَمْ أُكْرِمْكَ ، وَأُسَوِّدْكَ ، وَأُزَوِّجْكَ ، وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ ؟ ، فَيَقُولُ : بَلَى ، قَالَ : فَيَقُولُ : أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ ؟ ، فَيَقُولُ : لَا ، فَيَقُولُ : فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِيَ ، فَيَقُولُ أَيْ فُلْ : أَلَمْ أُكْرِمْكَ ، وَأُسَوِّدْكَ ، وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ ؟ ، فَيَقُولُ : بَلَى أَيْ رَبِّ ، فَيَقُولُ : أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ ؟ ، فَيَقُولُ : لَا ، فَيَقُولُ : فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي ، ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ ، فَيَقُولُ لَهُ : مِثْلَ ذَلِكَ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ آمَنْتُ بِكَ وَبِكِتَابِكَ وَبِرُسُلِكَ ، وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ وَتَصَدَّقْتُ ، وَيُثْنِي بِخَيْرٍ مَا اسْتَطَاعَ ، فَيَقُولُ : هَاهُنَا إِذًا قَالَ ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ : الْآنَ نَبْعَثُ شَاهِدَنَا عَلَيْكَ ، وَيَتَفَكَّرُ فِي نَفْسِهِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ ، فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ ، وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ وَلَحْمِهِ وَعِظَامِهِ انْطِقِي ، فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ ، وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ ، وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ ، وَذَلِكَ الَّذِي يَسْخَطُ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کی: اللہ کے رسول! قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں تمھیں سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے؟“ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”چودھویں کی رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا تمھیں چاند کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے؟“ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمھیں اپنے رب کو دیکھنے میں اس سے زیادہ زحمت نہیں ہو گی جتنی زحمت تمھیں ان دونوں کو دیکھنے میں ہوتی ہے۔“ آپ نے فرمایا: ”وہ (رب) بندے سے ملاقات فرمائے گا تو کہے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمھیں عزت نہ دی تھی، تمھیں سردار نہ بنایا تھا، تمھاری شادی نہ کرائی تھی، گھوڑے اور اونٹ تمھارے اختیار میں نہ دیے تھے اور تمھیں ایسا نہیں بنا چھوڑا تھا کہ تم سرداری کرتے تھے اور لوگوں کی آمدنی میں سے چوتھائی حصہ لیتے تھے؟ وہ جواب میں کہے گا: کیوں نہیں! (بالکل ایسا ہی تھا۔) تو وہ فرمائے گا: کیا تم سمجھتے تھے کہ تم مجھ سے ملو گے؟ وہ کہے گا: نہیں۔ تو وہ فرمائے گا: آج میں اسی طرح تمھیں بھول جاؤں گا، جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔ پھر دوسرے سے ملاقات کرے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمھیں عزت اور سیادت سے نہیں نوازا تھا، تمھاری شادی نہیں کرائی تھی، تمھارے لیے اونٹ اور گھوڑے مسخر نہیں کیے تھے اور تمھیں اس طرح نہیں بنا چھوڑا تھا کہ تم ریاست کے مزے لیتے تھے اور لوگوں کے مالوں میں سے چوتھائی حصہ وصول کرتے تھے؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں میرے رب! تو وہ فرمائے گا: تمھیں اس بات کا کوئی گمان بھی تھا کہ تم مجھ سے ملاقات کرو گے؟ وہ کہے گا: نہیں۔ تو وہ فرمائے گا: اب میں بھی اسی طرح تمھیں بھول جاؤں گا جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔ پھر تیسرے سے ملے گا۔ اس سے بھی وہی فرمائے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں تجھ پر، تیری کتابوں اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا تھا اور نمازیں پڑھی تھیں، روزے رکھے تھے اور صدقہ دیا کرتا تھا، جتنا اس کے بس میں ہو گا (اپنی نیکی کی) تعریف کرے گا، چنانچہ وہ فرمائے گا: تب تم یہیں ٹھہرو۔ فرمایا: پھر اس سے کہا جائے گا: اب ہم تمھارے خلاف اپنا گواہ لائیں گے۔ وہ دل میں سوچے گا: میرے خلاف کون گواہی دے گا؟ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران، گوشت اور ہڈیوں سے کہا جائے گا: بولو، تو اس کی ران، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے عمل کے متعلق بتائیں گی۔ یہ (اس لیے) کہا جائے گا کہ وہ (اللہ) اس کی ذات سے اس کا عذر دور کر دے۔ اور وہ منافق ہو گا اور وہی شخص ہو گا جس پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2968
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2969
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ ، فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ ؟ ، قَالَ : قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ ، يَقُولُ يَا رَبِّ : أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ ؟ ، قَالَ : يَقُولُ : بَلَى ، قَالَ : فَيَقُولُ : فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلَّا شَاهِدًا مِنِّي ، قَالَ : فَيَقُولُ : كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا ، وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُهُودًا ، قَالَ : فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ ، فَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ انْطِقِي ، قَالَ : فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ ، قَالَ : ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ ، قَالَ : فَيَقُولُ : بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا ، فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (بیٹھے ہوئے) تھے کہ آپ ہنس پڑے، پھر آپ نے پوچھا: ”کیا تمھیں یہ معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہوں؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے بندے کی اپنے رب کے ساتھ کی گئی بات پر ہنسی آتی ہے، وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: وہ فرمائے گا: کیوں نہیں! فرمایا: بندہ کہے گا: میں اپنے خلاف اپنی طرف کے گواہ کے سوا اور کسی (کی گواہی) کو جائز قرار نہیں دیتا۔ تو وہ فرمائے گا: آج تم اپنے خلاف بطور گواہ خود کافی ہو اور کراماً کاتبین بھی گواہ ہیں، چنانچہ اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی۔ اور اس کے (اپنے) اعضاء سے کہا جائے گا: بولو، فرمایا: تو وہ اس کے اعمال کے بارے میں بتائیں گے، پھر اسے اور (اس کے اعضاء کے) بولنے کو اکیلا چھوڑ دیا جائے گا۔ فرمایا: تو (ان کی گواہی سن کر) وہ کہے گا: دور ہو جاؤ، میں تمھاری طرف سے (دوسروں کے ساتھ) لڑا کرتا تھا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2969
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1055
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی،"اے اللہ!آل محمد کا رزق بقدرکفایت کردے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 1055
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1055
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا " ، وَفِي رِوَايَةِ عَمْرٍو : اللَّهُمَّ ارْزُقْ ،
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےدعافرمائی،"اے اللہ!آل محمد(خاندان محمد) کارزق بقدر کفایت فرما۔"اور عمرو کی روایت میں "اللهم ارزُق"ہے،یعنی "اِجعَل" کی جگہ"اُرزُق"ہے،مقصد ایک ہی ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 1055
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1055
وحَدَّثَنَاه أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ذَكَرَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : كَفَافًا .
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں،اس میں قوت کی جگہ کفاف بقدر گزران ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 1055
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2970
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّى قُبِضَ " .
منصور نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے جب سے آپ مدینہ آئے آپ کی وفات تک کبھی تین راتیں مسلسل گندم کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2970
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2970
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متواتر تین دن گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے،حتی کہ فوت ہوگئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2970
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2970
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عبدالرحمٰن بن یزید نے ہمیں اسود سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کبھی دو دن متواتر جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2970
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2970
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ فَوْقَ ثَلَاثٍ " .
عابس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے تین دن سے زیادہ کبھی سیر ہو کر گندم کی روٹی نہیں کھائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2970
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2970
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ الْبُرِّ ثَلَاثًا حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ " .
حفص بن غیاث نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کبھی تین دن سیر ہو کر گندم کی روٹی کھائی یہاں تک کہ آپ اپنی راہ پر روانہ ہو گئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2970
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2971
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ ، إِلَّا وَأَحَدُهُمَا تَمْرٌ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کنبہ دودن بھی گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوا،مگران میں ایک دن کھجوریں تھیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2971
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2972
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : وَيَحْيَى بْنُ يَمَانٍ حَدَّثَنَا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنْ كُنَّا آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَمْكُثُ شَهْرًا مَا نَسْتَوْقِدُ بِنَارٍ ، إِنْ هُوَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَاءُ " ،
یحییٰ بن یمان نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک اس حالت میں رہتے تھے کہ آگ نہیں جلاتے تھے، بس کھجور اور پانی پر گزر ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2972
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2972
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، إِنْ كُنَّا لَنَمْكُثُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ آلَ مُحَمَّدٍ وَزَادَ أَبُو كُرَيْبٍ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ ابْنِ نُمَيْرٍ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَنَا اللُّحَيْمُ .
امام صاحب دو اور اساتذہ سے یہی روایت نقل کرتے ہیں،اس میں"اِن كُنَا لَنَمكُث"،ہم ٹھہرتے تھے،ہےدرمیان میں آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں ہوا اور ابوکریب،ابن نمیر سے یہ اضافہ بیان کرتے ہیں،الا یہ کہ کہیں سے تھوڑا ساگوشت ہمیں مل جاتا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2972
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2973
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ ، ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي ، فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور میرے طاقچے میں کسی جگر رکھنے والے (ذی روح) کے کھانے کے لیے تھوڑے سے جو کے سوا کچھ نہ تھا، میں اس میں سے (پکا کر) کھاتی رہی یہاں تک کہ بہت دن گزر گئے (ایک دن) میں نے ان کو ماپ لیا تو وہ ختم ہو گئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2973
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2972
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ " وَاللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى الْهِلَالِ ، ثُمَّ الْهِلَالِ ، ثُمَّ الْهِلَالِ ثَلَاثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ ، وَمَا أُوقِدَ فِي أَبْيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ ، قَالَ : قُلْتُ يَا خَالَةُ : فَمَا كَانَ يُعَيِّشُكُمْ ؟ ، قَالَتِ الْأَسْوَدَانِ : التَّمْرُ وَالْمَاءُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيرَانٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، وَكَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ ، فَكَانُوا يُرْسِلُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَلْبَانِهَا فَيَسْقِينَاهُ " .
یزید بن رومان نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ آپ بتایا کرتی تھیں: اللہ کی قسم! میرے بھانجے! ہم ایک دفعہ پہلی کا چاند دیکھتے، پھر (اگلے مہینے) پہلی کا چاند دیکھتے، دو مہینوں میں تین دفعہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں میں چولہا نہ جلا ہوتا۔ (عروہ نے) کہا: میں نے پوچھا: خالہ! تو آپ کی گزران کے لیے کون سی چیز ہوتی؟ انہوں نے کہا: وہ کالی چیزیں، کھجور اور پانی، البتہ انصار میں سے کچھ (گھرانے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسائے تھے اور انھیں دودھ دینے والی اونٹنیاں ملی ہوئی تھیں۔ وہ ان کے دودھ میں سے کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا کرتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمیں پلا دیتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2972
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2974
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا شَبِعَ مِنْ خُبْزٍ وَزَيْتٍ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ " .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اور آپ نے ایک دن میں دو دفعہ پیٹ بھرکر روٹی اور زیتون نہیں کھایا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2974
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2975
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ الْعَطَّارُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعَ النَّاسُ مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ " .
داؤد بن عبدالرحمٰن عطار نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے منصور بن عبدالرحمٰن یحییٰ نے اپنی والدہ صفیہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب لوگ دو سیاہ چیزیں، کھجور اور پانی، سے سیر ہونے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2975
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2975
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءِ وَالتَّمْرِ " ،
عبدالرحمٰن (بن مہدی) نے ہمیں سفیان (ثوری) سے حدیث بیان کی، انہوں نے منصور بن صفیہ سے، انہوں نے اپنی والدہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت ہو گئی اور ہم دو سیاہ چیزوں، پانی اور کھجور، سے سیر ہونے لگے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2975
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2975
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا ، عَنْ سُفْيَانَ : وَمَا شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ .
امام صاحب دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم دو سیاہ چیزوں سے بھی سیر نہیں ہوئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2975
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔