کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: خروج دجال اور اس کا زمین میں ٹھہرنے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور اسے قتل کرنے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 2940
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، وَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : مَا هَذَا الْحَدِيثُ تُحَدِّثُ بِهِ ؟ ، تَقُولُ : إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ أَوْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهُمَا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَ أَحَدًا شَيْئًا أَبَدًا إِنَّمَا ، قُلْتُ : إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا يُحَرَّقُ الْبَيْتُ وَيَكُونُ وَيَكُونُ ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي ، فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا ، أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ ، ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّأْمِ ، فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ ، إِلَّا قَبَضَتْهُ حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَهُ " ، قَالَ : سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ ، لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا ، وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا ، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ ، فَيَقُولُ : أَلَا تَسْتَجِيبُونَ ، فَيَقُولُونَ : فَمَا تَأْمُرُنَا فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ ، وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ، فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا ، قَالَ وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ : رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ ، قَالَ : فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ ، أَوَ قَالَ يُنْزِلُ اللَّهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوِ الظِّلُّ نُعْمَانُ الشَّاكُّ ، فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى ، فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ ، وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ ، قَالَ : ثُمَّ يُقَالُ أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ ، فَيُقَالُ : مِنْ كَمْ ، فَيُقَالُ : مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ، قَالَ : فَذَاكَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا وَذَلِكَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ " ،
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی سے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سنا، ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: یہ کیا حدیث ہے جو آپ بیان کرتے ہیں کہ فلاں فلاں بات ہونے تک قیامت قائم ہو جائے گی، انہوں نے سبحان اللہ! یا لا إلہ إلا اللہ یا اس جیسا کوئی کلمہ کہا: (اور کہنے لگے) میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ میں کسی کو کبھی کوئی بات بیان نہیں کروں گا۔ میں نے یہ کہا تھا تم لوگ تھوڑے عرصے بعد بہت بڑا معاملہ دیکھو گے۔ بیت اللہ کو جلا دیا جائے گا اور یہ ہو گا، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دجال نمودار ہو گا اور چالیس، مجھے یاد نہیں کہ چالیس دن (فرمائے) یا چالیس مہینے یا چالیس سال رہے گا تو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیج دیں گے۔ وہ اس طرح ہیں جیسے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، آپ اسے ڈھونڈیں گے اور اسے ہلاک کر دیں گے، پھر لوگ سات سال تک اس حالت میں رہیں گے کہ کسی دو آدمیوں کے درمیان دشمنی تک نہ ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا چلائے گا تو روئے زمین پر ایک بھی ایسا آدمی نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی یا ایمان ہو گا مگر وہ ہوا اس کی روح قبض کرے گی، یہاں تک کہ اگر تم میں سے کوئی شخص پہاڑ کے جگر میں گھس جائے گا تو وہاں بھی وہ (ہوا) داخل ہو جائے گی، یہاں تک کہ اس کی روح قبض کر لے گی۔“ انہوں نے کہا: یہ بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ آپ نے فرمایا: ”پرندوں جیسا ہلکا پن اور درندوں جیسی عقلیں رکھنے والے بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے۔ نہ اچھائی کو اچھا سمجھیں گے نہ برائی کو برا جانیں گے۔ شیطان کوئی شکل اختیار کر کے ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: کیا تم میری بات پر عمل نہیں کرو گے؟ وہ کہیں گے: تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے؟ وہ انھیں بت پوجنے کا حکم دے گا، وہ اسی حالت میں رہیں گے، ان کا رزق اترتا ہو گا، ان کی معیشت بہت اچھی ہو گی، پھر صور پھونکا جائے گا۔ جو بھی اسے سنے گا وہ گردن کی ایک جانب کو جھکائے گا اور دوسری جانب کو اونچا کرے گا (گردنیں ٹیڑھی ہو جائیں گی)، سب سے پہلا شخص جو اسے سنے گا وہ اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کر رہا ہو گا۔ وہ پچھاڑ کھا کر گر جائے گا اور دوسرے لوگ بھی گر (کر مر) جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک بارش نازل فرمائے گا جو ایک پھوار کے مانند ہو گی یا سائے کی طرح ہو گی۔ شک کرنے والے نعمان (بن سالم) ہیں، اس سے انسانوں کے جسم اگ آئیں گے۔ پھر صور میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تو وہ سب لوگ کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے (زندہ ہو جائیں گے)، پھر کہا جائے گا: لوگو! اپنے پروردگار کی طرف آؤ! اور (فرشتوں سے کہا جائے گا: ان کو لاکھڑا کرو، ان سے سوال پوچھے جائیں گے۔ حکم دیا جائے گا: آگ میں بھیجے جانے والوں کو (اپنی صفوں سے) باہر نکالو، پوچھا جائے گا: کتنوں میں سے (کتنے؟) کہا جائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ انہوں نے کہا: تو یہ وہ دن ہو گا جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور وہی دن ہو گا جب پنڈلی سے پردہ ہٹا (کر دیدار جمال کرایا) جائے گا۔“
حدیث نمبر: 2940
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : إِنَّكَ تَقُولُ : إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمْ بِشَيْءٍ إِنَّمَا ، قُلْتُ : إِنَّكُمْ تَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا ، فَكَانَ حَرِيقَ الْبَيْتِ ، قَالَ شُعْبَةُ هَذَا : أَوْ نَحْوَهُ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍوَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرَّاتٍ وَعَرَضْتُهُ عَلَيْهِ .
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو سنا، اس نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے کہا: آپ یہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں (بات پوری ہو جائے) پر قیامت قائم ہو جائے گی۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ میں تم لوگوں کو کوئی حدیث نہ سناؤں، میں تو یہ کہا تھا کہ تم تھوڑی مدت کے بعد ایک بڑا معاملہ دیکھو گے تو بیت اللہ کے جلنے کا واقعہ ہو گیا۔ شعبہ نے یہ الفاظ کہے یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دجال نمودار ہو گا۔“ اور (اس کے بعد محمد بن جعفر نے) معاذ کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی اور اپنی حدیث میں کہا: ”کوئی ایک شخص بھی جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو، نہیں بچے گا مگر وہ (ہوا) اس کی روح قبض کر لے گی۔“ محمد بن جعفر نے کہا: شعبہ نے مجھے یہ حدیث کئی بار سنائی اور میں نے (کئی بار) اسے ان کے سامنے دہرایا۔
حدیث نمبر: 2941
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى ، وَأَيُّهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا ، فَالْأُخْرَى عَلَى إِثْرِهَا قَرِيبًا " ،
محمد بن بشیر نے ابوحیان سے، انہوں نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی حدیث سنی ہے جس کو سننے کے بعد میں اسے بھولا نہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”نمودار ہونے والی سب سے پہلی نشانی مغرب سے سورج کا طلوع ہونا اور دن چڑھے لوگوں کے سامنے زمین کے چوپائے کا نکلنا ہے۔ ان میں سے جو بھی نشانی دوسری سے پہلے ظاہر ہو گی، دوسری اس کے بعد جلد نمودار ہو جائے گی۔“
حدیث نمبر: 2941
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : جَلَسَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ بِالْمَدِينَةِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنِ الْآيَاتِ أَنَّ أَوَّلَهَا خُرُوجًا الدَّجَّالُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا قَدْ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ،
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں ابوحیان نے ابوزرعہ سے بیان کیا، کہا: مسلمانوں میں سے تین شخص مدینہ میں مروان بن حکم کے پاس بیٹھے تھے اور اسے قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے سن رہے تھے کہ ان میں سے پہلی دجال کا ظہور ہو گا، اس پر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: (تم لوگ یوں سمجھو کہ) مروان نے کچھ بھی نہیں کہا (کیونکہ اس کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق نہیں)، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی جسے میں بھولا نہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ پھر اسی (سابقہ حدیث) کے مانند بیان کیا۔
حدیث نمبر: 2941
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : تَذَاكَرُوا السَّاعَةَ عِنْدَ مَرْوَانَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَلَمْ يَذْكُرْ ضُحًى .
سفیان نے ابوحیان سے اور انہوں نے ابوزرعہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: لوگوں نے مروان کی موجودگی میں قیامت کے بارے میں مذاکرہ کیا تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ (آگے) ان دونوں کی حدیث کے مانند بیان کیا اور ”دن چڑھنے کے وقت“ کا ذکر نہیں کیا۔