حدیث نمبر: 169
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدَّجَّالَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، أَلَا وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِئَةٌ " ،
عبید اللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تبارک وتعالیٰ کانا نہیں ہے، سن رکھو! بلاشبہ مسیح دجال داہنی آنکھ سے کانا ہے۔ اس کی آنکھ اس طرح ہے جیسے ابھرا ہوا انگور کا دانہ۔“
حدیث نمبر: 169
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
ایوب اور موسیٰ بن عقبہ دونوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔
حدیث نمبر: 2933
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَمَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر " .
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نبی نہیں (گزرا مگر اس نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ڈرایا ہے۔ یاد رکھو، وہ کانا ہے جبکہ تمھارا عزت اور جلال والا رب کانا نہیں، اس (دجال) کی دونوں آنکھوں کے درمیان ’ك ف ر‘ لکھا ہوا ہے۔“
حدیث نمبر: 2933
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الدَّجَّالُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر أَيْ كَافِرٌ " .
ہشام نے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ك ف ر یعنی كافر لکھا ہوا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2933
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، ثُمَّ تَهَجَّاهَا ك ف ر يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ " .
شعیب بن جنحاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال بے نور آنکھ والا ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہے كافر۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہجے کیے: ك ف ر۔ ”اس کو ہر مسلمان پڑھ لے گا۔“
حدیث نمبر: 2934
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى ، جُفَالُ الشَّعَرِ مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ " .
شقیق نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کی بائیں آنکھ (بھی) عیب دار ہو گی اور بال گھنے گچھے دار ہوں گے، اس کے ہمراہ ایک جنت ہو گی اور ایک دوزخ ہو گی۔ اس کی دوزخ (حقیقت میں) جنت ہو گی اور اس کی جنت اصل میں دوزخ ہو گی۔“
حدیث نمبر: 2934
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْهُ مَعَهُ نَهْرَانِ يَجْرِيَانِ ، أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَاءٌ أَبْيَضُ ، وَالْآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ ، فَإِمَّا أَدْرَكَنَّ أَحَدٌ فَلْيَأْتِ النَّهْرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا وَلْيُغَمِّضْ ، ثُمَّ لَيُطَأْطِئْ رَأْسَهُ ، فَيَشْرَبَ مِنْهُ ، فَإِنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ ، وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ " .
حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" میں خوب جانتا ہوں"دجال کے ساتھ کیا ہو گا(میں اس کی حقیقت اس سے بھی زیادہ جاتنا ہوں)اس کے ساتھ دو بہتی ہوئی نہریں ہوں گی، ان میں سے ایک بھری آنکھوں کے دیکھنے میں (بصیرت کی نظر سے نہیں) سفید پانی ہوگا اور دوسرا آنکھ کے دیکھنے میں (حقیقت کی نظر سے نہیں) بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی اگر کوئی شخص یہ نظارہ دیکھے تو اس نہر (دریا) میں چھلانگ لگائے، جس کو آگ دیکھے اور آنکھیں بندکر لے پھر اپنا سر جھکا کر اس سے پانی پی لے، کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہو گا اور دجال منسوح العین (مٹی ہوئی آنکھ) ہو گا، اس آنکھ پر گوشت کی گلٹی ہوگی، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا جسے ہر مومن پڑھا ہوا اور ان پڑھ،پڑھ لے گا۔"
حدیث نمبر: 2934
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ : " إِنَّ مَعَهُ مَاءً وَنَارًا ، فَنَارُهُ مَاءٌ بَارِدٌ ، وَمَاؤُهُ نَارٌ فَلَا تَهْلِكُوا " ،
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے ربعی بن حراش سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں، (فرمایا) ”بے شک اس کے ہمراہ پانی ہو گا اور آگ ہو گی، اس کی آگ (اصل میں) ٹھنڈا پانی ہو گا اور اس کا پانی آگ ہو گی، تو تم لوگ (دھوکے میں) ہلاک نہ ہو جانا۔“
حدیث نمبر: 2935
قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے دجال کے بارے میں فرمایا:"حقیقت یہ ہےاس کے ساتھ آگ اور پانی ہو گا چنانچہ اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہو گی، اور اس کےساتھ پانی اور آگ ہےتو اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہے اور اس کا پانی آگ ہے تو تم ہلاک نہ ہو جاناتو حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اور میں اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے بھی یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
حدیث نمبر: 2935
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، فَقَالَ لَهُ عُقْبَةُ حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدَّجَّالِ ، قَالَ : " إِنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ وَإِنَّ مَعَهُ مَاءً وَنَارًا ، فَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ مَاءً ، فَنَارٌ تُحْرِقُ ، وَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ نَارًا ، فَمَاءٌ بَارِدٌ عَذْبٌ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ ، فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَاهُ نَارًا ، فَإِنَّهُ مَاءٌ عَذْبٌ طَيِّبٌ " ، فَقَالَ عُقْبَةُ : وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ تَصْدِيقًا لِحُذَيْفَةَ .
شعیب بن صفوان نے ہمیں عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ربعی بن حراش سے، انہوں نے عقبہ بن عمرو ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (ربعی نے) کہا: میں ان (عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) کے ہمراہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، عقبہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے دجال کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ہے وہ مجھے بیان کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال نکلے گا، اس کے ساتھ پانی ہو گا اور آگ ہو گی۔ جو لوگوں کو پانی نظر آ رہا ہو گا (وہ) آگ ہو گی۔ اور جو لوگوں کو نظر آ رہی ہو گی، وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہو گا، تم میں سے جو شخص اس کو پائے وہ اس میں کود جائے جو اسے آگ نظر آ رہی ہو۔ بلاشبہ وہ میٹھا پاکیزہ پانی ہو گا۔“ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: اور میں نے (بھی) یہ حدیث سنی تھی۔
حدیث نمبر: 2935
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ ابْنُ حُجْرٍ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مَسْعُودٍ ، فقال حذيفة " لَأَنَا بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ أَعْلَمُ مِنْهُ إِنَّ مَعَهُ نَهْرًا مِنْ مَاءٍ وَنَهْرًا مِنْ نَارٍ ، فَأَمَّا الَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ نَارٌ مَاءٌ ، وَأَمَّا الَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ مَاءٌ نَارٌ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَأَرَادَ الْمَاءَ ، فَلْيَشْرَبْ مِنَ الَّذِي يَرَاهُ أَنَّهُ نَارٌ ، فَإِنَّهُ سَيَجِدُهُ مَاءً " ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : هَكَذَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ .
نعیم بن ابی ہند نے ربعی بن حراش سے روایت کی، کہا: (ایک بار جب) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: دجال کے ہمراہ جو کچھ ہو گا اسے مجھے خود اس کی نسبت زیادہ علم ہے، اس کے ہمراہ ایک دریا پانی کا ہو گا اور ایک دریا آگ کا ہو گا، جو تمھیں نظر آئے گا کہ وہ آگ ہے وہ پانی ہو گا اور جو تمھیں نظر آئے گا کہ وہ پانی ہے وہ آگ ہو گی۔ تم میں سے جو شخص اس کو پائے اور پانی پینا چاہے وہ اس دریا سے پیے جو اسے نظر آتا ہے کہ وہ آگ ہے۔ بلاشبہ وہ اسے پانی پائے گا۔ حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا تھا۔
حدیث نمبر: 2936
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَدِيثًا مَا حَدَّثَهُ نَبِيٌّ قَوْمَهُ ، إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّهُ يَجِيءُ مَعَهُ مِثْلُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَالَّتِي يَقُولُ إِنَّهَا الْجَنَّةُ هِيَ النَّارُ ، وَإِنِّي أَنْذَرْتُكُمْ بِهِ كَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" کیا میں تمھیں دجال کے بارے میں ایسی بات نہ بتاؤں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی؟وہ کانا ہو گا اور اس صورت حال میں آئے گا کہ اس کے ساتھ جنت اور دوزخ کی مثل ہو گی چنانچہ جس کو وہ جنت کہے گا وہ آگ ہوگی اور میں نے تمھیں دجال سے خبردار کر دیا، جیسا کہ اس سے حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم کو متنبہ کیا تھا۔"
حدیث نمبر: 2937
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ قَاضِي حِمْصَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ ، فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ ، فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِينَا ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ ؟ " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ غَدَاةً ، فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ ، فَقَالَ : " غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ إِنْ يَخْرُجْ ، وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ ، فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِئَةٌ كَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ ، فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ ، فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ إِنَّهُ خَارِجٌ خَلَّةً بَيْنَ الشَّأْمِ وَالْعِرَاقِ ، فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالًا ، يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُتُوا " قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ ؟ ، قَالَ : " أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ ؟ ، قَالَ : لَا اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ ؟ ، قَالَ : " كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ ، فَيَأْتِي عَلَى الْقَوْمِ ، فَيَدْعُوهُمْ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ ، فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ ، وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ ، فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا كَانَتْ ذُرًا وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا ، وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ ، فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ ، فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ ، فَيَقُولُ : لَهَا أَخْرِجِي كُنُوزَكِ ، فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا مُمْتَلِئًا شَبَابًا ، فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ ، فَيُقْبِلُ وَيَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ ، وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ ، وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ ، فَلَا يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ ، فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ ، فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يَأْتِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمُ اللَّهُ مِنْهُ ، فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ ، فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ ، وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ ، فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ ، فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ ، فَيَقُولُونَ : لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ ، وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى ، وَأَصْحَابُهُ حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لِأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّه عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ ، فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ، ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْأَرْضِ ، فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ ، فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ ، فَيُرْسِلُ اللَّهُ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ ، فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لَا يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ ، وَلَا وَبَرٍ فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ ، ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ : أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ ، فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا ، وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى أَنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ ، وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ لَتَكْفِي الْقَبِيلَةَ مِنَ النَّاسِ ، وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْغَنَمِ لَتَكْفِي الْفَخِذَ مِنَ النَّاسِ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً ، فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ ، فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَكُلِّ مُسْلِمٍ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ فِيهَا تَهَارُجَ الْحُمُرِ ، فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ " ،
ابوخیثمہ زہیر بن حراب اور محمد بن مہران رازی نے مجھے حدیث بیان کی۔ الفاظ رازی کے ہیں۔ کہا: ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے یحییٰ بن جابر قاضی حمص سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر سے، انہوں نے اپنے والد جبیر بن نفیر سے اور انہوں نے حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح دجال کا ذکر کیا۔ آپ نے اس (کے ذکر کے دوران) کبھی آواز دھیمی کی کبھی اونچی کی۔ یہاں تک کہ ہمیں ایسے لگا جیسے وہ کھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے۔ جب شام کو ہم آپ کے پاس (دوبارہ) آئے تو آپ نے ہم میں اس (شدید تاثر) کو بھانپ لیا۔ آپ نے ہم سے پوچھا: ”تم لوگوں کو کیا ہوا ہے؟“ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! صبح کے وقت آپ نے دجال کا ذکر فرمایا تو آپ کی آواز میں (ایسا) اتار چڑھاؤ تھا کہ ہم نے سمجھا کہ وہ کھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے تم لوگوں (حاضرین) پر دجال کے علاوہ دیگر (جہنم کی طرف بلانے والوں) کا زیادہ خوف ہے۔ اگر وہ نکلتا ہے اور میں تمہارے درمیان موجود ہوں تو تمہاری طرف سے اس کے خلاف (اس کی تکذیب کے لیے) دلائل دینے والا میں ہوں گا اور اگر وہ نکلا اور میں موجود نہ ہوا تو ہر آدمی اپنی طرف سے حجت قائم کرنے والا خود ہو گا اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ (خود نگہبان) ہوگا۔ وہ گچھے دار بالوں والا ایک جوان شخص ہے، اس کی ایک آنکھ بے نور ہے۔ میں ایک طرح سے اس کو عبدالعزیٰ بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں۔ تم میں سے جو اسے پائے تو اس کے سامنے سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے۔ وہ عراق اور شام کے درمیان ایک راستے سے نکل کر آئے گا۔ وہ دائیں طرف بھی تباہی مچانے والا ہوگا اور بائیں طرف بھی۔ اے اللہ کے بندو! تم ثابت قدم رہنا۔“ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! زمین میں اس کی سرعت رفتار کیا ہوگی؟ آپ نے فرمایا: ”بادل کی طرح جس کے پیچھے ہوا ہو۔ وہ ایک قوم کے پاس آئے گا، انہیں دعوت دے گا، وہ اس پر ایمان لائیں گے اور اس کی باتیں مانیں گے۔ تو وہ آسمان (کے بادل) کو حکم دے گا، وہ بارش برسائے گا اور وہ زمین کو حکم دے گا تو وہ فصلیں اگائے گی۔ شام کے اوقات میں ان کے جانور (چراگاہوں سے) واپس آئیں گے تو ان کے کوہان سب سے زیادہ اونچے اور تھن انتہائی زیادہ بھرے ہوئے اور کوکھیں پھیلی ہوئی ہوں گی۔ پھر ایک (اور) قوم کے پاس آئے گا اور انہیں (بھی) دعوت دے گا۔ وہ اس کی بات ٹھکرا دیں گے۔ وہ انہیں چھوڑ کر چلا جائے گا تو وہ قحط کا شکار ہو جائیں گے۔ ان کے مال و مویشی میں سے کوئی چیز ان کے ہاتھ میں نہیں ہوگی۔ وہ (دجال) بنجر زمین سے گزرے گا تو اس سے کہے گا: اپنے خزانے نکال، تو اس (بنجر زمین) کے خزانے اس طرح (نکل کر) اس کے پیچھے لگ جائیں گے جیسے شہد کی مکھیوں کی رانیاں۔ پھر وہ ایک بھرپور جوان کو بلائے گا اور اسے تلوار مار کر (یکبارگی) دو حصوں میں تقسیم کر دے گا جیسے نشانہ بنایا جانے والا ہدف (یکدم ٹکڑے ہو گیا) ہو۔ پھر وہ اسے بلائے گا تو وہ (زندہ ہو کر دیکھتے ہوئے چہرے کے ساتھ) ہنستا ہوا آئے گا۔ وہ (دجال) اسی عالم میں ہوگا جب اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام کو معبوث فرمائے گا۔ وہ دمشق کے مشرقی حصے میں ایک سفید مینار کے قریب دو کیسری کپڑوں میں، دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو قطرے گریں گے، اور سر اٹھائیں گے تو اس سے چمکتے موتیوں کی طرح پانی کی بوندیں گریں گی۔ کسی کافر کے لیے جو ان کی سانس کی خوشبو پائے گا مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ ان کی سانس (کی خوشبو) وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر جائے گی۔ آپ علیہ السلام اسے ڈھونڈیں گے تو اسے ”لود“ کے دروازے پر پائیں گے اور اسے قتل کر دیں گے۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس وہ لوگ آئیں گے جنہیں اللہ نے اس (دجال کے دام میں آنے) سے محفوظ رکھا ہوگا، تو وہ اپنے ہاتھ ان کے چہروں پر پھیریں گے اور انہیں جنت میں ان کے درجات کی خبر دیں گے۔ وہ اسی عالم میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائے گا: میں نے اپنے (پیدا کیے ہوئے) بندوں کو باہر نکال دیا ہے، ان سے جنگ کرنے کی طاقت کسی میں نہیں۔ آپ میری بندگی کرنے والوں کو اکٹھا کر کے طور کی طرف لے جائیں۔ اور اللہ یاجوج و ماجوج کو بھیج دے گا، وہ ہر اونچی جگہ سے امڈتے ہوئے آئیں گے۔ ان کے پہلے لوگ (میٹھے پانی کی بہت بڑی جھیل) بحیرہ طبریہ سے گزریں گے اور اس میں جو (پانی) ہوگا اسے پی جائیں گے، پھر آخری لوگ گزریں گے تو کہیں گے: ”کبھی اس (بحیرہ) میں (بھی) پانی ہوا کرتا تھا۔“ اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی محصور ہو کر رہ جائیں گے، حتیٰ کہ ان میں سے کسی ایک کے لیے بیل کا سر اس سے بہتر (قیمتی) ہوگا جتنے آج تمہارے لیے سو دینار ہیں۔ اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی گڑگڑا کر دعائیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان (یاجوج و ماجوج) پر ان کی گردنوں میں کیڑوں کا عذاب نازل کر دے گا تو وہ ایک انسان کے مرنے کی طرح (یکبارگی) اس کا شکار ہو جائیں گے۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اتر کر (میدانی) زمین پر آئیں گے تو انہیں زمین میں بالشت بھر بھی جگہ نہیں ملے گی جو ان کی گندگی اور بدبو سے بھری ہوئی نہ ہو۔ اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ کے سامنے گڑگڑائیں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی طرح (لمبی گردنوں والے) پرندے بھیجے گا جو انہیں اٹھائیں گے اور جہاں اللہ چاہے گا جا پھینکیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش بھیجے گا جس سے کوئی گھر اینٹوں کا ہو یا اون کا (خیمہ) اوٹ مہیا نہیں کر سکے گا۔ وہ زمین کو دھو کر شیشے کی طرح (صاف) کر چھوڑے گی۔ پھر زمین سے کہا جائے گا: اپنے پھل اگاؤ اور اپنی برکت لوٹا لاؤ، تو اس وقت ایک انار کو پوری جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکے سے سایہ حاصل کرے گی اور دودھ میں (اتنی) برکت ڈالی جائے گی کہ اونٹنی کا ایک دفعہ کا دودھ لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہوگا اور گائے کا ایک دفعہ کا دودھ لوگوں کے قبیلے کو کافی ہوگا اور بکری کا ایک دفعہ کا دودھ قبیلے کی ایک شاخ کو کافی ہوگا۔ وہ اسی عالم میں رہ رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک عمدہ ہوا بھیجے گا، وہ لوگوں کو ان کی بغلوں کے نیچے سے پکڑے گی اور ہر مومن اور ہر مسلمان کی روح قبض کر لے گی اور بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے، وہ گدھوں کی طرح (برسرعام) آپس میں اختلاط کریں گے، تو انہی پر قیامت قائم ہو گی۔
حدیث نمبر: 2937
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ : دَخَلَ حَدِيثُ أَحَدِهِمَا فِي حَدِيثِ الْآخَرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، نَحْوَ مَا ذَكَرْنَا وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ ، ثُمَّ يَسِيرُونَ حَتَّى يَنْتَهُوا إِلَى جَبَلِ الْخَمَرِ ، وَهُوَ جَبَلُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَيَقُولُونَ : لَقَدْ قَتَلْنَا مَنْ فِي الْأَرْضِ هَلُمَّ ، فَلْنَقْتُلْ مَنْ فِي السَّمَاءِ ، فَيَرْمُونَ بِنُشَّابِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ ، فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نُشَّابَهُمْ مَخْضُوبَةً دَمًا ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ حُجْرٍ ، فَإِنِّي قَدْ أَنْزَلْتُ عِبَادً إلي لَا يَدَيْ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ .
علی بن حجر سعدی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر اور ولید بن مسلم نے حدیث بیان کی (علی) ابن حجر نے کہا: ایک کی حدیث دوسرے کی حدیث میں شامل ہو گئی ہے۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے اسی کی سند کے ساتھ جس طرح ہم نے ذکر کیا اسی کے مطابق بیان کیا۔ اور اس جملے کے بعد ”اس میں کبھی پانی تھا“ مزید بیان کیا: ”پھر وہ (آگے) چلیں گے یہاں تک کہ وہ جبل خمر تک پہنچیں گے اور وہ بیت المقدس کا پہاڑ ہے تو کہیں گے: جو کوئی بھی زمین میں تھا ہم نے اسے قتل کر دیا، آؤ! اب اسے قتل کریں جو آسمان میں ہے، پھر وہ اپنے تیروں (جیسے ہتھیاروں) کو آسمان کی طرف چھوڑیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے ہتھیاروں کو خون آلود کر کے انھی کی طرف واپس بھیج دے گا۔“ اور ابن حجر کی روایت میں ہے: ”میں نے اپنے (پیدا کیے ہوئے) بندوں کو اتارا ہے، کسی ایک کے پاس بھی ان سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں۔“