کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: قیامت کے قریب فتنوں کی وجہ سے انسان کا قبرستان سے گزرتے ہوئے موت کی تمنا کرنا۔
حدیث نمبر: 157
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ ، فَيَقُولُ : يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت قائم نہیں ہو گی،حتی کہ ایک شخص دوسرے شخص کی قبر سے گزرے گا۔ تو کہے گا، اے کاش، اس کی جگہ میں ہوتا۔
حدیث نمبر: 157
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبَانَ قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ ، فَيَتَمَرَّغُ عَلَيْهِ ، وَيَقُولُ : يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَكَانَ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ ، وَلَيْسَ بِهِ الدِّينُ إِلَّا الْبَلَاءُ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے،دنیا ختم نہیں ہوگی، حتی کہ ایک آدمی قبر سے گزرے گا تو اس پر لوٹ پوٹ ہو گا اور کہے گا۔اے کاش اس قبر والے کی جگہ میں ہوتا اور یہ دین کی خاطر نہیں محض مصیبت کی بنا پر ہوگا۔"
حدیث نمبر: 2908
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَدْرِي الْقَاتِلُ فِي أَيِّ شَيْءٍ قَتَلَ ، وَلَا يَدْرِي الْمَقْتُولُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ قُتِلَ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اس ذات کی قسم! جس کےہاتھ میں میری جان ہے لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا،قاتل کو پتہ نہیں ہوگا، اس نے قتل کیوں،کس سبب کی بنا پر کیا ہے اور نہ مقتول کو پتہ ہوگا، اسے اس وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 2908
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ يَوْمٌ لَا يَدْرِي الْقَاتِلُ فِيمَ قَتَلَ ، وَلَا الْمَقْتُولُ فِيمَ قُتِلَ " ، فَقِيلَ : كَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : " الْهَرْجُ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبَانَ ، قَالَ هُوَ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ : عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، لَمْ يَذْكُرْ الْأَسْلَمِيَّ .
عبداللہ بن عمر بن ابان اور واصل بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں محمد بن فضیل نے ابواسماعیل اسلمی سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ لوگوں پر ایسا دن آ جائے جس میں قاتل کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو یہ پتہ نہ ہو کہ اسے کیوں قتل کیا گیا۔“ عرض کی گئی: یہ کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندھا دھند خونریزی ہو گی، قاتل اور مقتول دونوں (جہنم کی) آگ میں جائیں گے۔“ ابن ابان کی روایت میں (اس طرح) ہے: کہا: وہ یزید بن کیسان ہے (جس کے بارے میں کہا گیا ہے) ابواسماعیل سے روایت ہے (اس کا پورا نام ابواسماعیل یزید بن کیسان ہے) انہوں نے (اس کی نسبت) ”اسلمی“ کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2909
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنْ الْحَبَشَةِ " .
زیاد بن سعد نے زہری سے اور انہوں نے سعید (بن مسیب) سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے: ”کعبہ وحبشہ سے (تعلق رکھنے والا) وہ چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا شخص گرائے گا۔“
حدیث نمبر: 2909
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنْ الْحَبَشَةِ " .
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا حبشی کعبہ کو گرائے گا۔“
حدیث نمبر: 2909
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنْ الْحَبَشَةِ يُخَرِّبُ بَيْتَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
قتیبہ بن سعید نے ہمیں عبدالعزیز دراوری سے روایت کی، انہوں نے ثور بن زید سے، انہوں نے ابوالغیث سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حبشہ کا دو چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا شخص اللہ عزوجل کے گھر کو گرائے گا۔“
حدیث نمبر: 2910
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ " .
قتیبہ بن سعید نے اسی سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ قحطان کا ایک شخص لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا۔“
حدیث نمبر: 2911
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَذْهَبُ الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْجَهْجَاهُ " ، قَالَ مُسْلِم : هُمْ أَرْبَعَةُ إِخْوَةٍ شَرِيكٌ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ ، وَعُمَيْرٌ ، وَعَبْدُ الْكَبِيرِ بَنُو عَبْدِ الْمَجِيدِ .
عبدالکبیر بن عبدالجبار ابوبکر حنفی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عمر بن حکم کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دن اور رات کا سلسلہ منقطع نہیں ہو گا یہاں تک کہ ایک شخص بادشاہ بنے گا جسے جہجاہ کہا جائے گا۔“ امام مسلم رحمہ اللہ نے (عبدالکبیر کے حوالے سے) کہا: یہ چار بھائی ہیں: شریک، عبید اللہ، عمیر اور عبدالکبیر، یہ عبدالمجید کے بیٹے ہیں۔
حدیث نمبر: 2912
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ " .
سفیان نے زہری سے، انہوں نے سعید (بن مسیب) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے اور قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے جوتے بالوں (اون) کے ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 2912
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلَكُمْ أُمَّةٌ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ ، وُجُوهُهُمْ مِثْلُ الْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ " .
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی امت سے جنگ کرو گے جو بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے اور ان کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 2912
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الْأَعْيُنِ ذُلْفَ الْآنُفِ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم تک پہنچاتے ہیں،آپ نے فرمایا:" قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ تم ایسی قوم سے جنگ لڑو گے، جن کے جوتے بالوں کے ہیں اور قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے،جن کی آنکھیں چھوٹی اور ناک چپٹی ہو گی۔"
حدیث نمبر: 2912
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ قَوْمًا ، وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ يَلْبَسُونَ الشَّعَرَ وَيَمْشُونَ فِي الشَّعَرِ " .
سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ مسلمان ترکوں سے جنگ کریں گے، یہ ایسی قوم ہے جن کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے، یہ لوگ بالوں کا لباس پہنتے ہوں گے، بالوں (کے جوتوں) میں چلتے ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 2912
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُقَاتِلُونَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ حُمْرُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْأَعْيُنِ " .
قیس بن ابی حازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے، ان کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے، وہ سرخ چہروں اور چھوٹی آنکھوں والے ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 2913
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : يُوشِكُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ قَفِيزٌ وَلَا دِرْهَمٌ ، قُلْنَا : مِنْ أَيْنَ ذَاكَ ؟ قَالَ : مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ يَمْنَعُونَ ذَاكَ ، ثُمَّ قَالَ : يُوشِكُ أَهْلُ الشَّأْمِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ دِينَارٌ وَلَا مُدْيٌ ، قُلْنَا : مِنْ أَيْنَ ذَاكَ ؟ قَالَ : مِنْ قِبَلِ الرُّومِ ثُمَّ سَكَتَ هُنَيَّةً ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا لَا يَعُدُّهُ عَدَدًا " ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي نَضْرَةَ ، وَأَبِي الْعَلَاءِ : أَتَرَيَانِ أَنَّهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ؟ ، فَقَالَا : لَا ،
اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں جریری سے حدیث بیان کی اور انہوں نے ابونضرہ سے روایت کی، کہا: ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ انہوں نے کہا: وہ وقت قریب ہے کہ اہل عراق کے پاس کوئی قفیر (پیمانہ) نہ آئے گا نہ درہم۔ ہم نے پوچھا: کہاں سے؟ انہوں نے کہا: عجم سے، وہ اس کو روک لیں گے۔ پھر کہا: عنقریب اہل شام کے پاس کوئی دینار نہ آئے گا نہ مدی (پیمانہ)۔ ہم نے پوچھا: کہاں سے؟ انہوں نے کہا: روم کی جانب سے۔ پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے آخر (کے دور) میں ایک خلیفہ ہو گا جو لپیں بھر بھر کے مال دے گا اور اس کی گنتی نہیں کرے گا۔“ (جریری نے) کہا: میں نے ابونضرہ اور ابوالعلاء سے پوچھا: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ عمر بن عبدالعزیز ہیں؟ تو دونوں نے کہا: نہیں۔
حدیث نمبر: 2913
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي الْجُرَيْرِيَّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
عبدالوہاب نے کہا: ہمیں سعید جریری نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔
حدیث نمبر: 2914
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ خُلَفَائِكُمْ خَلِيفَةٌ يَحْثُو الْمَالَ حَثْيًا لَا يَعُدُّهُ عَدَدًا " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ حُجْرٍ يَحْثِي الْمَالَ .
نصر بن علی جہضمی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بشر بن مفضل نے حدیث بیان کی، نیز ہمیں علی بن حجر سعدی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اسماعیل بن علیہ نے حدیث بیان کی، دونوں (بشر بن مفضل اور ابن علیہ) نے سعید بن یزید سے، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید (خدری رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارے خلفاء میں سے ایک خلیفہ ہو گا جو لپیں بھر بھر کر مال دے گا اور اس کو شمار نہیں کرے گا۔“ اور (علی) بن حجر کی روایت میں یَحْثُو الْمَالَ کے بجائے یحثی المال ہے (معنی ایک ہی ہے)۔
حدیث نمبر: 2914
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يَقْسِمُ الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ " ،
عبدالصمد بن عبدالوارث نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں داؤد نے ابونضرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوسعید اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخری زمانے میں ایک خلیفہ ہو گا جو مال تقسیم کرے گا اور اس کو شمار نہیں کرے گا۔“
حدیث نمبر: 2914
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
اور ابومعاویہ نے داؤد بن ابی ہند سے، انہوں نے ابونضرہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔
حدیث نمبر: 2915
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ حِينَ جَعَلَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ ، وَجَعَلَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ ، وَيَقُولُ : " بُؤْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ فِئَةٌ بَاغِيَةٌ " ،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابومسلمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابونضرہ سے سنا، وہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ایک ایسے شخص نے مجھے بتایا جو مجھ سے بہتر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ نے خندق کھودنے کا آغاز کیا تو عمار رضی اللہ عنہ سے ایک بات ارشاد فرمائی، آپ ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور فرمانے لگے: ”سمیہ کے بیٹے کی مصیبت! تمھیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔“
حدیث نمبر: 2915
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَهُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ النَّضْرِ ، أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو قَتَادَةَ ، وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : أُرَاهُ يَعْنِي أَبَا قَتَادَةَ ، وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ ، وَيَقُولُ : يَا وَيْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ .
اور خالد بن حارث اور نضر بن شمیل دونوں نے شعبہ سے روایت کی، انہوں نے ابومسلمہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، البتہ نضر کی حدیث میں ہے: مجھے مجھ سے بہتر شخص ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی۔ اور خالد بن حارث کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا: میرا خیال ہے ان کی مراد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے تھی۔ اور خالد کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”افسوس!“ یا فرمایا: ”وائے افسوس ابن سمیہ پر!“
حدیث نمبر: 2916
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ عُقْبَةُ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدًا يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعَمَّارٍ : " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " ،
محمد بن جعفر غندر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے خالد حذاء کو سعید بن ابوالحسن سے حدیث روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے اپنی والدہ سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تمھیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔“
حدیث نمبر: 2916
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ وَالْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِمَا ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
عبدالصمد بن عبدالوارث نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں خالد حذاء نے سعید بن ابی حسن اور حسن سے حدیث بیان کی، ان دونوں نے اپنی والدہ سے، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔
حدیث نمبر: 2916
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " .
حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کو فرمایا:" عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔"
حدیث نمبر: 2917
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُهْلِكُ أُمَّتِي هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ " ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ " ،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" میری امت کی ہلاکت و بربادی اس قریشی خاندان کے ہاتھوں ہو گی۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پوچھا:"تو آپ کا ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا:"اے کاش!لوگ ان سے الگ رہیں۔"
حدیث نمبر: 2917
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَاهُ .
امام صاحب ایک دو اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت کہ ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔"
حدیث نمبر: 2918
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ مَاتَ كِسْرَى ، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ،
سفیان نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا اور جب قیصر مر جائے گا تو اس کے بعد (شام میں) کوئی قیصر نہیں ہو گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان دونوں کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 2918
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي ابْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ سُفْيَانَ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ .
یونس اور معمر دونوں نے زہری سے سفیان کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے ہم معنی روایت کی۔
حدیث نمبر: 2918
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَكَ كِسْرَى ، ثُمَّ لَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ ، وَقَيْصَرُ لَيَهْلِكَنَّ ، ثُمَّ لَا يَكُونُ قَيْصَرُ بَعْدَهُ ، وَلَتُقْسَمَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ،
معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں، ان میں سے (یہ حدیث بھی) ہے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسریٰ ہلاک ہو گیا، پھر اس کے بعد کسریٰ نہیں ہو گا، اور قیصر بھی ہلاک ہو جائے گا پھر اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہو گا اور ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں تقسیم کیے جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 2919
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ سَوَاءً .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا۔“ (آگے) انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مانند ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 2919
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَنْزَ آلِ كِسْرَى الَّذِي فِي الْأَبْيَضِ " ، قَالَ قُتَيْبَةُ : مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَلَمْ يَشُكَّ ،
قتیبہ بن سعید اور ابوکامل جحدری نے کہا: ہمیں ابوعوانہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مسلمانوں یا (فرمایا:) مومنوں کی ایک جماعت آل کسریٰ کے خزانے کو، جو سفید (عمارت) میں ہے ضرور بالضرور فتح کرے گی۔“ قتیبہ نے ”مسلمانوں کی“ (جماعت) کہا اور کسی شک کا اظہار نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2919
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ .
شعبہ نے سماک بن حرب سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، (آگے) ابوعوانہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 2920
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَمِعْتُمْ بِمَدِينَةٍ جَانِبٌ مِنْهَا فِي الْبَرِّ ، وَجَانِبٌ مِنْهَا فِي الْبَحْرِ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَغْزُوَهَا سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ بَنِي إِسْحَاقَ ، فَإِذَا جَاءُوهَا نَزَلُوا ، فَلَمْ يُقَاتِلُوا بِسِلَاحٍ وَلَمْ يَرْمُوا بِسَهْمٍ ، قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، فَيَسْقُطُ أَحَدُ جَانِبَيْهَا ، قَالَ : ثَوْرٌ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ، قَالَ : الَّذِي فِي الْبَحْرِ ، ثُمَّ يَقُولُوا الثَّانِيَةَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، فَيَسْقُطُ جَانِبُهَا الْآخَرُ ، ثُمَّ يَقُولُوا الثَّالِثَةَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، فَيُفَرَّجُ لَهُمْ فَيَدْخُلُوهَا ، فَيَغْنَمُوا فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْمَغَانِمَ إِذْ جَاءَهُمُ الصَّرِيخُ ، فَقَالَ : إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ فَيَتْرُكُونَ كُلَّ شَيْءٍ وَيَرْجِعُونَ " ،
عبدالعزیز بن محمد نے ثور بن زید دیلی سے، انہوں نے ابوالغیث سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایسے شہر کے بارے میں سنا ہے جس کی ایک جانب خشکی میں ہے اور دوسری جانب سمندر میں ہے؟“ انہوں (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کی، جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ اس کے خلاف بنو اسحاق میں سے ستر ہزار لوگ جہاد کریں گے، وہاں پہنچ کر وہ اتریں گے تو نہ ہتھیار سے جنگ کریں گے نہ تیر اندازی کریں گے، وہ کہیں گے: لا إله إلا الله والله أكبر، تو اس (شہر) کی ایک جانب گر جائے گی۔“ ثور نے کہا: میں ہی جانتا ہوں کہ انہوں (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے وہی (کنارہ) کیا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سمندر میں ہے، پھر وہ دوسری بار لا إله إلا الله والله أكبر کہیں گے تو اس (شہر) کا دوسرا کنارہ بھی گر جائے گا، پھر وہ تیسری بار لا إله إلا الله والله أكبر کہیں گے تو ان کے لیے راستہ کھل جائے گا اور وہ اس (شہر) میں داخل ہو جائیں گے اور غنائم حاصل کریں گے۔ جب وہ مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے تو ایک چیختی ہوئی آواز آئے گی جو کہے گی: دجال نمودار ہو گیا۔ چنانچہ وہ (مسلمان) ہر چیز چھوڑ دیں گے اور واپس پلٹ پڑیں گے۔“
حدیث نمبر: 2920
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
سلیمان بن بلال نے کہا: ہمیں ثور بن زید دیلی نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 2921
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَتُقَاتِلُنَّ الْيَهُودَ ، فَلَتَقْتُلُنَّهُمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ : يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ " ،
محمد بن بشیر نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود تم سے جنگ کریں گے اور تم انھیں اچھی طرح قتل کرو گے یہاں تک کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! یہ یہودی ہے، آگے بڑھ، اس کو قتل کر۔“
حدیث نمبر: 2921
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي .
یحییٰ نے ہمیں عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اپنی حدیث میں کہا: ”یہ یہودی میرے پیچھے ہے۔“
حدیث نمبر: 2921
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَقْتَتِلُونَ أَنْتُمْ وَيَهُودُ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ : يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي تَعَالَ فَاقْتُلْهُ " .
عمر بن حمزہ نے کہا: میں نے سالم کو کہتے ہوئے سنا: ہمیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور یہود آپس میں جنگ کرو گے، یہاں تک کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! یہ میرے پیچھے ایک یہودی ہے، آگے بڑھ، اسے قتل کر دے۔“
حدیث نمبر: 2921
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُقَاتِلُكُمْ الْيَهُودُ فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ : يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ " .
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یہودی تمھارے کے ساتھ جنگ کریں گےچنانچہ تمھیں ان پر غلبہ دیا جائے گا،، حتی کہ پتھر کہے گا۔اے مسلمان!یہ یہودی میرے پیچھے ہے،اس کو قتل کردے۔"
حدیث نمبر: 2922
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ ، فَيَقْتُلُهُمُ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ : يَا مُسْلِمُ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ ، إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں کے خلاف جنگ لڑیں گے اور مسلمان ان کو قتل کریں گے حتیٰ کہ یہودی درخت یا پتھر کے پیچھے چھپے گا اور پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان! اے اللہ کے بندے! میرے پیچھے یہ ایک یہودی ہے، آگے بڑھ، اس کو قتل کر دے، سوائے غرقد کے درخت کے (وہ نہیں کہے گا) کیونکہ وہ یہود کا درخت ہے۔“
حدیث نمبر: 2923
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ " ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ ،
امام صاحب مختلف اساتذہ سے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے سنا:"قیامت سے پہلے جھوٹے لوگ نمودار ہوں گے۔"ابو الاحوص کی روایت میں ہے سماک نے پوچھا کیا آپ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا،ہاں۔
…