کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: دجال کے زمانہ میں رومی عیسائیوں کا پیش قدمی کرنا اور قتل عام کرنا۔
حدیث نمبر: 2899
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرَى إِلَّا يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، جَاءَتِ السَّاعَةُ ، قَالَ : فَقَعَدَ وَكَانَ مُتَّكِئًا ، فَقَالَ : إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ ، وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ ، قَالَ بِيَدِهِ : هَكَذَا وَنَحَّاهَا نَحْوَ الشَّأْمِ ، فَقَالَ عَدُوٌّ : يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ ، وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ ، قُلْتُ : الرُّومَ تَعْنِي ، قَالَ : نَعَمْ ، وَتَكُونُ عِنْدَ ذَاكُمُ الْقِتَالِ رَدَّةٌ شَدِيدَةٌ ، فَيَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً ، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً ، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً ، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يُمْسُوا فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الرَّابِعِ نَهَدَ إِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ أَهْلِ الْإِسْلَامِ ، فَيَجْعَلُ اللَّهُ الدَّبْرَةَ عَلَيْهِمْ ، فَيَقْتُلُونَ مَقْتَلَةً إِمَّا ، قَالَ : لَا يُرَى مِثْلُهَا ، وَإِمَّا قَالَ : لَمْ يُرَ مِثْلُهَا حَتَّى إِنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنَبَاتِهِمْ ، فَمَا يُخَلِّفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيْتًا ، فَيَتَعَادُّ بَنُو الْأَبِ كَانُوا مِائَةً ، فَلَا يَجِدُونَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ إِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ ، فَبِأَيِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ أَوْ أَيُّ مِيرَاثٍ يُقَاسَمُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعُوا بِبَأْسٍ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ ، فَجَاءَهُمُ الصَّرِيخُ إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِي ذَرَارِيِّهِمْ ، فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ ، فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ ، وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ ، أَوْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ " ، قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ،
یسیر بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک مرتبہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی تو ایک شخص آیا اس کا تکیہ کلام ہی یہ تھا۔عبداللہ بن مسعود!قیامت آگئی ہے۔وہ(عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نیک لگائے ہوئے تھے(یہ بات سنتے ہی) اٹھ کر بیٹھ گئے، پھر کہنے لگے۔قیامت نہیں آئے گی۔یہاں تک کہ نہ میراث کی تقسیم ہو گی نہ غنیمت حاصل ہونے کی خوشی پھر انھوں نے اس طرح ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس کا رخ شام کی طرف کیا اور کہا: دشمن (غیر مسلم) اہل اسلام کے خلاف اکٹھے ہو جا ئیں گے اور اہل اسلام ان کے (مقابلے کے)لیے اکٹھے ہو جا ئیں گے۔میں نے کہا: آپ کی مراد رومیوں (عیسائیوں)سے ہے؟انھوں نے کہا: ہاں پھر کہا: تمھاری اس جنگ کے زمانے میں بہت زیادہ پلٹ پلٹ کر حملے ہوں گے۔مسلمان موت کی شرط قبول کرنے والے دستے آگے بھیجیں کے کہ وہ غلبہ حاصل کیے بغیر واپس نہیں ہوں گے(وہیں اپنی جانیں دے دیں گے۔)پھر وہ سب جنگ کریں گے۔حتیٰ کہ رات درمیان میں حائل ہو جائے گی۔یہ لو گ بھی واپس ہوجائیں گے اور وہ بھی۔دونوں (میں سےکسی) کوغلبہ حاصل نہیں ہو گا۔اور (موت کی)شرط پرجانے والے سب ختم ہو جا ئیں گے۔ پھر مسلمان موت کی شرط پر (جانے والے دوسرے)دستےکو آکے کریں گے کہ وہ غالب آئے بغیر واپس نہیں آئیں گےپھر(دونوں فریق) جنگ کریں گے۔یہاں تک کہ ان کے درمیان رات حائل ہو جائے گی۔یہ بھی واپس ہو جا ئیں اور وہ بھی کوئی بھی غالب نہیں(آیا) ہو گااورموت کی شرط پر جانے والے ختم ہوجائیں گے۔پھر مسلمان موت کے طلبگاروں کادستہ آگے کریں گے۔اور شام تک جنگ کریں گے، پھر یہ بھی واپس ہو جا ئیں گے اور وہ بھی کوئی بھی غالب نہیں (آیا)ہو گا اور موت کے طلبگار ختم ہو جا ئیں گے۔ جب چوتھا دن ہو گا تو باقی تمام اہل اسلام ان کے خلاف انھیں کے،اللہ تعالیٰ (جنگ کے) چکرکوان(کافروں) کے خلاف کردے گا۔وہ سخت خونریزجنگ کریں گے۔انھوں نے یا تویہ الفاظ کہے۔اس کی مثال نہیں دیکھی جائے گی۔یہاں تک کہ پرندہ ان کے پہلوؤں سے گزرے گاوہ ان سے جونہی گزرےگامرکز جائے گا۔(ہوابھی اتنی زہریلی ہو جا ئےگی۔)ایک باپ کی اولاد اپنی گنتی کرے گی،جو سوتھے،تو ان میں سے ایک کے سواکوئی نہ بچا ہوگا۔(اب)وہ کس غنیمت پر خوش ہوں گے۔اور کیسا ورثہ (کن وارثوں میں)تقسیم کریں گے۔ وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ ایک (نئی)مصیبت کے بارے میں سنیں گے۔جو اس سے بھی بڑی ہوگی۔ان تک یہ زوردار پکار پہنچےگی۔کہ دجال ان کے پیچھے ان کے بال بچوں تک پہنچ گیا ہے۔ ان کے ہاتھوں میں جو ہوگا۔سب کچھ پھینک دیں گے اور تیزی سے آئیں گے اور دس جاسوس شہسوار آگے بھیجیں گے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں ان کے اور ان کے آباء کے نام اور ان کےگھوڑوں(سواریوں) کے رنگ تک پہچانتا ہوں۔وہ اسوقت روئے زمین پر بہترین شہسوار ہوں گے۔یا(فرمایا:)روئے زمین کے بہترین شہسواروں میں سے ہوں گے۔"ابن ابی شیبہ کی روایت میں یسیر کی بجائے اُسیربن جابرہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2899
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2899
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَهَبَّتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَحَدِيثُ ابْنِ عُلَيَّةَ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ ،
حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے حمید بن ہلال سے، انہوں نے ابوقتادہ سے اور انہوں نے یسیر بن جابر سے روایت کی، کہا: میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ سرخ آندھی آئی، پھر اسی کے مطابق حدیث بیان کی، البتہ ابن علیہ کی روایت مکمل اور سیر حاصل ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2899
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2899
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنْتُ فِي بَيْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَالْبَيْتُ مَلْآنُ ، قَالَ : فَهَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ .
شیبان بن فروخ نے کہا: ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حمید بن ہلال نے ابوقتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اسیر بن جابر سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے، جبکہ گھر بھرا ہوا تھا۔ کہا: اس وقت کوفہ میں سرخ آندھی چلی، پھر ابن علیہ کی حدیث کے مانند روایت کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2899
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»