حدیث نمبر: 2889
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيَّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِي الْأَرْضَ ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا ، وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا ، وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ ، وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ ، وَإِنَّ رَبِّي قَالَ يَا مُحَمَّدُ : إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً ، فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ ، وَأَنْ لَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ ، وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بِأَقْطَارِهَا ، أَوَ قَالَ : مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَيَسْبِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا " ،
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو سمیٹ دیا۔ چنانچہ میں نے اس کے مشرقی اور مغربی کناروں کو دیکھ لیا اور یقیناًمیری امت کا اقتدار و حکومت وہاں تک پہنچےگی، جہاں تک اس کو میرے لیےسمیٹ دیا گیا اور مجھے دو خزانے سرخ و سفید عنایت کیے گیے (یعنی قیصر و کسریٰ کے خزانے)اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے دعا کی کہ وہ اس قحط عام کے ذریعہ ہلاک نہ کرے اور ان پر ان کے اپنے سوادشمن کو غلبہ اور تسلط نہ دے (تمام مسلمانوں پر کافر غالب نہ آجائیں)کہ وہ ان کہ اقتدار ووجمعیت کو پامال کردے اور مجھے میرے رب نے فرمایا، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! میں جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو اس کو ٹالا نہیں جا سکتا اور میں نے تجھے تیری امت کے بارے میں یہ وعدہ دے دیا ہے کہ میں انہیں قحط عام سے ہلاک نہیں کروں گا۔ اور میں ان کے سواکوئی ایسا دشمن مسلط نہیں کروں گا، جو ان کی عزت واقتدارکو ختم کردے اگرچہ تمام روئے زمین کے لوگ ان کے خلاف اکھٹے ہو جائیں ہاں وہ خود ہی ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے۔"
حدیث نمبر: 2889
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى زَوَى لِي الْأَرْضَ حَتَّى رَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَأَعْطَانِي الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ .
قتادہ نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابواسماء یحییٰ سے اور انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا، حتیٰ کہ میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھ لیا اور اس نے مجھے سرخ اور سفید وہ خزانے عطا فرمائے۔“ اس کے بعد ابوقلابہ سے ایوب کی روایت کی طرح بیان کیا۔
حدیث نمبر: 2890
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ الْعَالِيَةِ ، حَتَّى إِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ دَخَلَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلًا ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا ، فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً ، سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا " ،
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ کے) بالائی علاقے سے تشریف لائے یہاں تک کہ جب آپ بنو معاویہ کی مسجد کے قریب سے گزرے تو آپ اس میں داخل ہوئے اور وہ رکعتیں ادا فرمائیں۔ ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ نے اپنے رب سے بہت لمبی دعا کی پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا تو فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے تین (چیزیں) مانگیں۔ اس نے وہ مجھے عطا فرما دیں اور ایک مجھ سے روک لی۔ میں نے اپنے رب سے یہ مانگا کہ وہ میری (پوری) امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرے تو اس نے مجھے یہ چیز عطا فرما دی اور میں نے اس سے مانگا کہ وہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرے تو اس نے یہ (بھی) مجھے عطا فرما دی اور میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ ان کی آپس میں جنگ نہ ہو تو اس نے یہ (بات) مجھ سے روک لی۔“
حدیث نمبر: 2890
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَمَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ .
مروان بن معاویہ نے کہا: ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت کے ساتھ آئے اور آپ بنو معاویہ کی مسجد کے قریب سے گزرے۔ (آگے) ابن نمیر کی حدیث کے مانند۔