حدیث نمبر: 2821
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ بَابِ عَبْدِ اللَّهِ نَنْتَظِرُهُ ، فَمَرَّ بِنَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ ، فَقُلْنَا : أَعْلِمْهُ بِمَكَانِنَا ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ : إِنِّي أُخْبَرُ بِمَكَانِكُمْ ، فَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا " ،
شقیق رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروازے پر ان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس سے یزید بن معاویہ نخعی رحمۃ اللہ علیہ گزرے تو ہم نے ان سے کہا۔ حضرت عبداللہ کو ہماری موجود گی سے آگاہ کرو، وہ ان کے پاس گئے اور جلد ہی ہمارے پاس عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگئے اور کہنے لگے،مجھے تمھاری آمد کی اطلاع دی جاتی ہے، مگر میں اس لیے تمھارے پاس نہیں آتا کہ میں تمھیں اکتاہٹ میں مبتلا کرنا نا پسند کرتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف ایام میں وعظ نصیحت کے وقت ہمارا دھیان رکھتے تھے کہ کہیں ہم اکتاہی نہ جائیں۔
حدیث نمبر: 2821
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ مِنْجَابٌ فِي رِوَايَتِهِ ، عَنْ ابْنِ مُسْهِرٍ ، قَالَ الْأَعْمَشُ : وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ .
امام صاحب اپنے بعض دوسرے اساتذہ سے بھی یہی روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2821
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ شَقِيقٍ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُنَا كُلَّ يَوْمِ خَمِيسٍ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ : إِنَّا نُحِبُّ حَدِيثَكَ وَنَشْتَهِيهِ وَلَوَدِدْنَا أَنَّكَ حَدَّثْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ ، فَقَالَ : مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا " .
منصور نے شقیق ابووائل سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمیں ہر جمعرات کے دن وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے تو ایک شخص نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! ہمیں آپ کی باتیں (بہت) پسند ہیں اور ہم ان کی طرف شدید رغبت رکھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہر روز ہمیں احادیث بیان فرمایا کریں۔ انہوں نے کہا: مجھے اس کے علاوہ تمھیں احادیث بیان کرنے سے صرف یہ ناپسندیدگی مانع ہے کہ میں تمھیں اکتاہٹ کا شکار نہ کر دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ ہم پر اکتاہٹ طاری ہو جائے کچھ (خاص) دنوں میں ہی ہمیں وعظ و نصیحت سے نوازا کرتے تھے۔