کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: شیطان کا فساد مسلمانوں میں۔
حدیث نمبر: 2812
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ " ،
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا،"بلا شبہ شیطان اس وقت اس سے مایوس ہو چکا ہے کہ نمازی لوگ جزیرہ عرب میں اس کی پرستش کریں لیکن وہ باہمی لڑائی کے لیے بھڑکانے کی کوشش کرتا ہے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2812
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2812
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
وکیع اور ابومعاویہ دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2812
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2813
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ ، فَيَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً " .
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا،"ابلیس کا تخت سمندر پر ہے،چنانچہ وہ اپنے دستے بھیجتا ہے جو لوگوں کے درمیان فتنہ و فساد پیدا کرتے ہیں اس کے نزدیک سب سے بڑے مرتبہ والا وہ ہے جو سب سے بڑا فتنہ بر پا کرتا ہے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2813
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2813
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً ، يَجِيءُ أَحَدُهُمْ ، فَيَقُولُ : فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا ، فَيَقُولُ : مَا صَنَعْتَ شَيْئًا ، قَالَ : ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ ، فَيَقُولُ : مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ ، قَالَ : فَيُدْنِيهِ مِنْهُ ، وَيَقُولُ : نِعْمَ أَنْتَ " ، قَالَ الْأَعْمَشُ : أُرَاهُ قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ .
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ابلیس اپناعرش (تخت)پانی پر رکھتا ہے پھر وہ اپنے دستے روانہ کرتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ قریبی وہ ہے جو سب سے بڑا فتنہ گرہو،ان میں سے کوئی آکر کہتا ہے میں نے یہ کام کیا یہ کام کیا تو وہ کہتا ہے تونے کچھ نہیں کیا، پھر ان میں سے کوئی آکر کہتا ہےمیں نے پیچھا نہیں چھوڑا، حتی کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی پیدا کردی تو وہ اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے،واقعی تم نے کام کیاہے۔"اعمش کہتے ہیں،میرا خیال ہے، آپ نے فرمایا:"چنانچہ وہ اسے اپنے ساتھ چمٹا لیتا ہے، گلے لگا لیتا ہے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2813
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2813
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَبْعَثُ الشَّيْطَانُ سَرَايَاهُ ، فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً " .
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا،"شیطان اپنے دستے روانہ کرتا ہے۔،چنانچہ وہ لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہیں، اس کے نزدیک اس کا درجہ سب سے بلند ہوتا ہے جو سب سے بڑھ کر فتنہ پیدا کرتا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2813
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2814
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ " ، قَالُوا : وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَإِيَّايَ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ ، فَأَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ " ،
عثمان بن ابی شیبہ اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں جریر نے منصور سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص بھی نہیں مگر اللہ نے اس کے ساتھ جنوں میں سے اس کا ایک ساتھی مقرر کر دیا ہے (جو اسے برائی کی طرف مائل رہتا ہے)“۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور میرے ساتھ بھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہو گیا، اس لیے (اب) وہ مجھے خیر کے سوا کوئی بات نہیں کہتا“۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2814
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2814
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِيَانِ ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ ، وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ .
سفیان اور عمار بن رزیق دونوں نے منصور سے جریر کی سند کے ساتھ انھی کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر سفیان کی حدیث میں ہے: ”ہر شخص کے لیے ایک ساتھی جنوں میں سے اور ایک ساتھی فرشتوں میں سے مقرر کر دیا ہے (جن اسے برائی کی طرف مائل کرتا ہے اور فرشتہ نیکی کی طرف۔ فیصلہ خود اسی کو کرنا ہوتا ہے))“۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2814
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2815
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا ، قَالَتْ : فَغِرْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ ، فَرَأَى مَا أَصْنَعُ ، فَقَالَ : " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ ؟ " ، فَقُلْتُ : وَمَا لِي لَا يَغَارُ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ ؟ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْ مَعِيَ شَيْطَانٌ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِنْ رَبِّي أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ " .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے ہاں سے نکلے تو مجھے اس پر غیرت آگئی(کیونکہ میں نے سمجھا آپ کسی دوسری بیوی کے ہاں تشریف لے گئےہیں) آپ آئے تو آپ نے دیکھا میں کس طرح پیچ و تاب کھارہی ہوں، چنانچہ آپ نے فرمایا:"تمھیں کیا ہوگیا ہے؟ اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا!کیا تم غیرت کھاگئی ہو؟"سو میں نے کہا، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے جیسی آپ جیسے کے بارے ایسی غیرت نہ کھائےمیری جیسی آپ پر غیرت کیوں نہیں کھائے گی؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"کیا تمھارے پاس تمھارا شیطان آچکا ہے؟"میں نے کہا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا میرے ساتھ شیطان ہے؟ آپ نے فرمایا:"ہاں "میں نے کہا اور ہر انسان کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا:"ہاں" میں نے کہا اور آپ کے ساتھ بھی؟اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے فرمایا:"ہاں" لیکن میرے رب نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی ہے، حتی کہ میں محفوظ ہو گیا ہوں، یا وہ فرمانبردار مسلمان ہو گیا ہے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2815
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»