حدیث نمبر: 2809
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ ، وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تَسْتَحْصِدَ " ،
عبدالاعلیٰ نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے۔ ہوا مسلسل اس کو (ایک یا دوسری طرف) جھکاتی رہتی ہے اور مومن پر مسلسل مصیبتیں آتی رہتی ہیں، اور منافق کی مثال ویدار درخت کی طرح ہے (جس کا تنا ہوا میں بھی تن کر کھڑا رہتا ہے)۔ جھکتا نہیں حتیٰ کہ (ایک ہی بار) اسے کاٹ کر گرا دیا جاتا ہے“۔
حدیث نمبر: 2809
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مَكَانَ قَوْلِهِ تُمِيلُهُ تُفِيئُهُ .
یہی روایت دو اور اساتذہ سے عبدالرزاق کی سند سے بیان کرتے ہیں اور اس میں "تُمِيلُه"کی جگہ "تُفِيئُه"ہے معنی دونوں کا جھکانا مائل کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 2810
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرَى حَتَّى تَهِيجَ ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا لَا يُفِيئُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً " .
زکریا بن ابی زائدہ نے سعد بن ابراہیم سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھیتی کے باریک تیلی جیسے تنے کی ہے۔ ہوا اسے موڑ دیتی ہے، ایک مرتبہ زمین پر لٹا دیتی ہے اور دوسری مرتبہ اسے سیدھا کریتی ہے، یہاں تک کہ وہ پیلا ہو کر خشک ہو جاتا ہے اور کافر کی مثال ویدار درخت کی سی ہے جو اپنی جڑوں پر تن کر کھڑا ہوتا ہے، اسے کوئی چیز جھکا نہیں سکتی، یہاں تک کہ اس کا اکھڑ کر گرنا ایک ہی بار ہوتا ہے“۔
حدیث نمبر: 2810
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيَاحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً " ،
زہیر بن حرب نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بشر بن سری اور عبدالرحمان بن مہدی نے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں سفیان بن عینیہ نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے عبدالرحمان بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھیتی کے تیلی نما نرم تنے کی سی ہے جس کو ہوا موڑتی رہتی ہے، کبھی اس کو لٹا دیتی ہے اور کبھی کھڑا کر دیتی ہے، حتیٰ کہ اس (کے پک کر کٹنے) کا وقت آ جاتا ہے، اور منافق کی مثال ویدار کے مضبوط جڑوں والے درخت کی طرح ہے، کوئی چیز اسے جھکاتی نہیں، حتیٰ کہ ایک ہی دفعہ وہ جڑوں سے اکھڑ (کر گر) جاتا ہے“۔
حدیث نمبر: 2810
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّ مَحْمُودًا ، قَالَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ بِشْرٍ : وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ ، وَأَمَّا ابْنُ حَاتِمٍ ، فَقَالَ : مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَا قَالَ زُهَيْرٌ ،
یہی روایت امام صاحب محمد بن حاتم اور محمد بن غیلان سے بیان کرتے ہیں محمود کی روایت میں ہے۔"کافر کی مثال صنوبر کی سی ہے۔"اور ابن حاتم کہتے ہیں۔"منافق کی مثال۔"جیسا کہ مذکورہ بالا روایت میں ہے۔
حدیث نمبر: 2810
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ ابْنُ هَاشِمٍ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ ، وَقَالَا جَمِيعًا فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ يَحْيَى : وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ .
یہی روایت امام صاحب اپنے دواور ساتذہ سے کرتے ہیں، دونوں کہتے ہیں۔"کافر کی مثال صنو بر کی سی ہے۔"