کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: (وتر اور ہر نماز میں) قنوت رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد پڑھ سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1001
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : " سُئِلَ أَنَسُ ، أَقَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصُّبْحِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقِيلَ لَهُ : أَوَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ ؟ قَالَ : بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ان سے محمد بن سیرین نے ، انہوں نے کہا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں پھر پوچھا گیا کہ کیا رکوع سے پہلے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ رکوع کے بعد تھوڑے دنوں تک ۔
حدیث نمبر: 1002
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، قَالَ : " سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْقُنُوتِ ، فَقَالَ : قَدْ كَانَ الْقُنُوتُ ، قُلْتُ : قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ ؟ ، قَالَ : قَبْلَهُ ، قَالَ : فَإِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ ، فَقَالَ : كَذَبَ ، إِنَّمَا " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا أُرَاهُ ، كَانَ بَعَثَ قَوْمًا يُقَالُ لَهُمْ : الْقُرَّاءُ زُهَاءَ سَبْعِينَ رَجُلًا إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ دُونَ أُولَئِكَ ، وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ ، فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ` میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ دعائے قنوت ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ) پڑھی جاتی تھی ۔ میں نے پوچھا کہ رکوع سے پہلے یا اس کے بعد ؟ آپ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے ۔ عاصم نے کہا کہ آپ ہی کے حوالے سے فلاں شخص نے خبر دی ہے کہ آپ نے رکوع کے بعد فرمایا تھا ۔ اس کا جواب انس نے یہ دیا کہ انہوں نے غلط سمجھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد صرف ایک مہینہ دعائے قنوت پڑھی تھی ۔ ہوا یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں سے ستر قاریوں کے قریب مشرکوں کی ایک قوم ( بنی عامر ) کی طرف سے ان کو تعلیم دینے کے لیے بھیجے تھے ، یہ لوگ ان کے سوا تھے جن پر آپ نے بددعا کی تھی ۔ ان میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان عہد تھا ، لیکن انہوں نے عہد شکنی کی ( اور قاریوں کو مار ڈالا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ( رکوع کے بعد ) قنوت پڑھتے رہے ان پر بددعا کرتے رہے ۔
حدیث نمبر: 1003
أخبرنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ ، وَذَكْوَانَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے زائدہ نے بیان کیا ، ان سے تیمی نے ، ان سے ابومجلز نے ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعا قنوت پڑھی اور اس میں قبائل رعل و ذکوان پر بددعا کی تھی ۔
حدیث نمبر: 1004
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ الْقُنُوتُ فِي الْمَغْرِبِ وَالْفَجْرِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں اسماعیل بن علیہ نے خبر دی ، کہا کہ ہمیں خالد حذاء نے خبر دی ، انہیں ابوقلابہ نے ، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ، آپ نے فرمایا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قنوت مغرب اور فجر میں پڑھی جاتی تھی ۔