حدیث نمبر: 2716
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ اللَّهَ ؟ قَالَتْ : كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " .
منصور نے ہلال سے اور انہوں نے فروہ بن نوفل اشجعی سے روایت کی، کہا: میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے کیا دعائیں کیا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے: «اللہم انی اعوذ بک من شر ما عملت وشر ما لم اعمل» ”اے اللہ! جو میں نے کیا اس کے شر سے اور جو میں نے نہیں کیا، اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 2716
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ دُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " ،
فروہ بن نوفل رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایسی دعا کے بارے میں دریافت کیا، جو آپ کیا کرتے تھے تو انہوں نے جواب دیا، آپ دعا کرتے تھے۔"اے اللہ! میں تیری پناہ میں ہوں۔ ان اعمال کے شر سے جو میں نے کیے ہیں اور ان اعمال کے شر سے جو میں نے نہیں کیے ہیں۔"
حدیث نمبر: 2716
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ : وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ .
امام صاحب یہی روایت اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں اور محمد بن جعفر روایت میں "شَرمَالَم اَعمَلَ" سے پہلے "مِن" ہے (جبکہ اوپر کی روایت میں "مِن" نہیں ہے۔)
حدیث نمبر: 2716
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " .
عبدہ بن ابولبابہ نے ہلال بن سیاف سے، انہوں نے فروہ بن نوفل سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں فرماتے تھے: «اللہم انی اعوذ بک من شر ما عملت وشر ما لم اعمل» ”اے اللہ! میں ان کاموں کے شر سے جو میں نے کیے اور ان کے شر سے جو نہیں کیے، تیری پناہ میں آتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 2717
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي ، أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ " .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دعا کرتے ہوئے) فرمایا کرتے تھے: «اللہم لک اسلمت وبک آمنت و علیک توکلت والیک انبت وبک خاصمت، اعوذ بعزتک لا الٰہ الا انت ان تضلنی، انت الحی الذی لا یموت والجن والانس یموتون» ”اے اللہ! میں تیرے لیے فرمانبردار ہو گیا، تیرے ساتھ ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رجوع کیا اور تیری مدد سے (کفر کے ساتھ) مخاصمت کی۔ اے اللہ! میں اس بات سے تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں۔۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔۔ کہ تو مجھے سیدھی راہ سے ہٹا دے۔ تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے جس کو موت نہیں آ سکتی اور جن و انس سب مر جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 2718
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَأَسْحَرَ ، يَقُولُ : " سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ ، وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا رَبَّنَا صَاحِبْنَا ، وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر میں ہوتے اور سحر کے وقت اٹھتے تو فرماتے: «سمع سامع بحمد اللہ وحسن بلائہ علینا، ربنا صاحبنا وافعل علینا بالاحسان، اعوذ باللہ من النار» ”(ہماری طرف سے) اللہ کی حمد اور اس کے انعام کی خوبصورتی (کے اعتراف) کا سننے والا یہ بات دوسروں کو بھی سنا دے۔ اے ہمارے رب! ہمارے ساتھ رہ، ہم پر احسان کر، میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے یہ دعا کر رہا ہوں۔“
حدیث نمبر: 2719
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جِدِّي وَهَزْلِي وَخَطَئِي وَعَمْدِي وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " ،
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری سے، انہوں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللہم اغفرلی خطیئتی وجہلی و اسرافی فی امری وما انت اعلم بہ منی، اللہم اغفرلی جدّی و ہزلی و خطئی و عمدی و کل ذٰلک عندی، اللہم اغفرلی ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت وما انت اعلم بہ منی، انت المقدم وانت المؤخر وانت علیٰ کل شیء قدیر» ”اے اللہ! میری خطا، میری لاعلمی، اپنے (کسی) معاملے میں میرا حد سے آگے یا پیچھے رہ جانا اور وہ سب کچھ جو میری نسبت تو زیادہ جانتا ہے سب معاف فرما دے۔ اے اللہ! میرے وہ سب کام جو (تجھے پسند نہ آئے ہوں) میں نے سنجیدگی سے کیے ہوں یا مزاحاً کیے ہوں، بھول چوک سے کیے ہوں یا جان بوجھ کر کیے ہوں اور یہ سب مجھ سے ہوئے ہوں، ان کو بخش دے۔ اے اللہ! میری وہ باتیں (جو تجھے پسند نہیں آئیں) بخش دے جو میں نے پہلے کیں یا جو میں نے بعد میں کیں، اکیلے میں کیں یا جو میں نے سب کے سامنے کیں اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی (جسے چاہے اپنی رحمت کی طرف) آگے بڑھانے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔“
حدیث نمبر: 2719
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ .
عبدالملک بن صباح مسمعی نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند سے (یہی) حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 2720
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ الْقُطَعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي ، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي ، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اللہم اصلح لی دینی الذی ہو عصمة امری، واصلح لی دنیای التي فیہا معاشی، واصلح لی آخرتی التي فیہا معادی، واجعل الحیاة زیادتہ لی فی کل خیر، واجعل الموت راحة لی من کل شر» ”اے اللہ! میرے دین کو درست کر دے، جو میرے (دین و دنیا کے) ہر کام کے تحفظ کا ذریعہ ہے اور میری دنیا کو درست کر دے جس میں میری گزران ہے اور میری آخرت کو درست کر دے جس میں میرا (اپنی منزل کی طرف) لوٹنا ہے اور میری زندگی کو میرے لیے ہر بھلائی میں اضافے کا سبب بنا دے اور میری وفات کو میرے لیے ہر شر سے راحت بنا دے۔“
حدیث نمبر: 2721
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى " ،
محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث سنائی، انہوں نے ابواحوص سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اللہم انی اسألک الہدیٰ والتقویٰ والعفاف والغنٰی» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی، اور (دل کا) غنا مانگتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 2721
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُثَنَّى ، قَالَ فِي رِوَايَتِهِ : وَالْعِفَّةَ .
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا: ہمیں عبدالرحمان نے سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی، البتہ ابن مثنیٰ نے اپنی روایت میں (عفاف کی بجائے) ”عفت“ کا لفظ کہا۔ (مفہوم ایک ہی ہے۔)
حدیث نمبر: 2722
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ، وقَالَ لآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ : لَا أَقُولُ لَكُمْ إِلَّا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا ، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا " .
عبداللہ بن حارث اور ابوعثمان نہدی نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں تمہیں اسی طرح بتاتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، آپ فرماتے تھے: «اللہم انی اعوذ بک من العجز والکسل والجبن والبخل والہرم وعذاب القبر، اللہم آت نفسی تقویہا وزکہا انت خیر من زکیہا، انت ولیہا ومولاہا، اللہم انی اعوذ بک من علم لا ینفع ومن قلب لا یخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعوة لا یستجاب لہا» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیری پناہ میں آتا ہوں، عاجز ہو جانے، سستی، بزدلی، بخل، سخت بڑھاپے اور قبر کے عذاب سے۔ اے اللہ! میرے دل کو تقویٰ دے، اس کو پاکیزہ کر دے، تو ہی اس (دل) کو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے، تو ہی اس کا رکھوالا اور اس کا مددگار ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو کوئی فائدہ نہ دے اور ایسے دل سے جو (تیرے آگے) جھک کر مطمئن نہ ہوتا ہو اور ایسے من سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جسے شرف قبولیت نصیب نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 2723
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ النَّخَعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى ، قَالَ : " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ " . قَالَ الْحَسَنُ : فَحَدَّثَنِي الزُّبَيْدُ أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي هَذَا : لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ ، وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ " .
عبدالواحد بن زیاد نے حسن بن عبیداللہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نخعی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرحمان بن یزید نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب شام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «امسینا وامسی الملک للہ والحمد للہ لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ» ”ہم نے شام کی اور سارا ملک (شام کے وقت بھی) اللہ کا ہوا، سب شکر اور تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا (مالک، معبود) ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔“ حسن (بن عبیداللہ) نے کہا: مجھے زید نے حدیث بیان کی، انہوں نے اس (دعا) میں (یہ حصہ) ابراہیم (نخعی) سے (سن کر) حفظ کہا: «لہ الملک ولہ الحمد وہو علیٰ کل شیء قدیر، اللہم انی اسألک خیر ہٰذہ اللیلة، واعوذ بک من شر ہٰذہ اللیلة وشر ما بعدہا، اللہم انی اعوذ بک من الکسل وسوء الکبر، اللہم انی اعوذ بک من عذاب فی النار وعذاب فی القبر» ”اسی کی بادشاہی اور اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی بھلائی مانگتا ہوں اور تجھ سے اس رات کی اور اس کے بعد (کے ہر لمحے) کی برائی سے پناہ طلب کرتا ہوں، اے اللہ! میں کسل مندی اور بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم میں کسی بھی قسم کے عذاب سے اور قبر میں کسی بھی قسم کے عذاب سے۔“
حدیث نمبر: 2723
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى ، قَالَ : " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ " ، قَالَ : أُرَاهُ قَالَ : " فِيهِنَّ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ ، وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ " ، وَإِذَا أَصْبَحَ ، قَالَ : ذَلِكَ أَيْضًا أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ " .
حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں۔کہ جب شام ہو جاتی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے،"شام اس حال میں ہو رہی ہے کہ ہم اور اور ساری کائنات ہی اللہ کی ہے اور ساری حمدو ستائش اللہ ہی کے لیے ہے۔ اس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔"راوی کہتے ہیں۔ میرے خیال میں ان میں یہ کلمات بھی ہیں۔"راج اور ملک اس کا ہے وہ لائق حمدو ثنا ہے اور وہ ہر چیز قادر ہے اے میرے رب! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اس رات میں جو کچھ ہے، اس کی خیروبھلائی کا اور اس رات کے بعد کے حالات کی خیر کا اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں، اس رات میں جو کچھ ہونے والا ہے۔اس کے شر سے اور اس کے بعد کے حالات کے شر سے، اے میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، سستی اور کاہلی سے اور کبرسنی کے برے اثرات سے، اے میرے رب! میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔ آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے۔"اور جب صبح ہو جاتی تو آپ ایک لفظ کی تبدیلی سے یوں دعا کرتے۔"ہماری صبح اس حال میں ہو رہی ہے کہ ہم اور ساری کائنات اللہ ہی کے ہیں۔"
حدیث نمبر: 2723
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى قَالَ : " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَسُوءِ الْكِبَرِ وَفِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ " ، قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ : وَزَادَنِي فِيهِ زُبَيْدٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَفَعَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " .
زائدہ نے حسن بن عبیداللہ سے، انہوں نے ابراہیم بن سوید سے، انہوں نے عبدالرحمان بن یزید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت (دعا کرتے ہوئے یہ) فرمایا کرتے تھے: «امسینا وامسی الملک للہ والحمد للہ لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ» ”ہم نے اور سارے ملک نے اللہ کے (حکم و فرمان کی پابندی کے) لیے شام کی۔ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔“ حسن بن عبیداللہ نے کہا: زبید نے مجھے ابراہیم بن سوید (نخعی) سے، انہوں نے عبدالرحمان بن یزید سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہوئے مزید یہ بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (جب شام کرتے تو) یہ فرماتے: «لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وہو علیٰ کل شیء قدیر» ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہت اسی کی ہے، سب تعریف اسی کو سزاوار ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔“ «اللہم انی اسألک خیر ہٰذہ اللیلة وخیر ما فیہا، واعوذ بک من شر ہٰذہ اللیلة وشر ما فیہا، اللہم انی اعوذ بک من الکسل ومن سوء العمر والہرم وفتنة الدنیا وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی اور اس میں موجود ہر بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے اس رات کے اور اس میں موجود ہر شر سے پناہ کا طلبگار ہوں۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، سستی طاری ہو جانے سے اور عمر (کے حد سے) بڑھ جانے سے اور بڑھاپے کی خرابی سے اور دنیا کے ہر فتنے اور قبر کے عذاب سے۔“
حدیث نمبر: 2724
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَعَزَّ جُنْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دعا کرتے ہوئے یہ) فرمایا کرتے تھے: «لا الٰہ الا اللہ وحدہ، اعز جندہ ونصر عبدہ وغلب الاحزاب وحدہ، فلا شیء بعدہ» ”اکیلے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس نے اپنے لشکر کو عزت دی، اپنے بندے کی نصرت کی، اکیلا وہ تمام جماعتوں پر غالب آیا، (وہی آخر ہے) اس کے بعد کچھ نہیں۔“
حدیث نمبر: 2725
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ : " اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وَالسَّدَادِ سَدَادَ السَّهْمِ " ،
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یہ دعا کرو، اے اللہ! مجھے ہدایت دے اور سیدھا رکھ اور ہدایت کی دعا کے وقت،راستہ کی ہدایت کا استحضا رکرنا اور سداد کی دعا کے وقت تیرکے سیدھے ہونے کا خیال کرنا۔"
حدیث نمبر: 2725
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
امام صاحب ایک دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یہ دعا کرو۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور درستگی کی درخواست کرتا ہوں۔" پھر آگے مذکورہ بالا ٹکڑا بیان کیا۔