حدیث نمبر: 1786
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، ثنا الْوَلِيدُ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ الْيَحْصِبِيُّ أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ ، فَقَالَ الزُّهْرِيُّ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا فَنَادَى : " إِنَّ الصَّلاةَ جَامِعَةٌ " . قَالَ لَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ : هَذِهِ سُنَّةٌ تَفَرَّدَ بِهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، وَلَمْ يَرْوِهِ إِلا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ النِّدَاءُ بِصَلاةِ الْكُسُوفِ . قَالَ الشَّيْخُ : تَابَعَهُ الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .
محمد محی الدین .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ سورج گرہن ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا، اس نے اعلان کیا کہ نماز باجماعت ادا کی جائے گی۔ ابن ابی داؤد نامی راوی کہتے ہیں: یہ سنت ہے اور اسے نقل کرنے میں اہل مدینہ منورہ منفرد ہیں، زہری کے حوالے سے عبدالرحمن نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: نماز کسوف کے لیے اعلان کیا جائے۔
حدیث نمبر: 1787
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، قَالَ : ثنا الْوَلِيدُ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
محمد محی الدین .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1788
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، ثنا أَبُو الْحَارِثِ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسَ وَرَاءَهُ ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " ، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ، وَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مثل ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ .
محمد محی الدین .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی۔ لوگوں نے آپ کے پیچھے صف قائم کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قراءت کی۔ پھر آپ تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں چلے گئے اور آپ نے طویل رکوع کیا۔ پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا اور ”سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولك الحمد“ پڑھا اور پھر آپ نے کھڑے ہو کر قراءت کرنا شروع کی، لیکن یہ پہلے والی قراءت سے کم تھی۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہتے ہوئے طویل رکوع کیا، لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولك الحمد“ پڑھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور آپ نے ان دو رکعت میں چار مرتبہ رکوع کیا اور چار مرتبہ سجدہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم کرنے سے پہلے سورج روشن ہو چکا تھا۔
حدیث نمبر: 1789
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، ثنا عَنْبَسَةُ ، ثنا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : وَكَانَ كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، يُحَدِّثُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، كَانَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ ، مثل حَدِيثِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ صَلَّى فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ ".
محمد محی الدین .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز ادا کی ہے۔ یہ روایت اسی طرح منقول ہے، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، آپ نے ہر ایک رکعت میں دو مرتبہ رکوع کیا تھا۔
حدیث نمبر: 1790
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي أبِي ، ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً يَجْهَرُ بِهَا " ، يَعْنِي فِي صَلاةِ الْكُسُوفِ . قَالَ ابْنُ أَبِي دَاوُدَ : هَذِهِ سُنَّةٌ تَفَرَّدَ بِهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْجَهْرُ.
محمد محی الدین .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورج گرہن کی نماز میں) طویل قراءت کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں قراءت کی تھی، راوی کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز میں ایسا کیا تھا۔ ابن ابی داؤد نامی راوی بیان کرتے ہیں: بلند آواز میں قراءت کرنے کو نقل کرنے میں اہل مدینہ منفرد ہیں۔
حدیث نمبر: 1791
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النِّيلِيُّ ، ثنا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الزَّاهِدُ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ يَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ " .
محمد محی الدین .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند گرہن اور سورج گرہن کی نماز میں چار رکعت میں آٹھ مرتبہ رکوع تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک رکعت میں قراءت کی تھی۔
حدیث نمبر: 1792
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ خَالُ النُّفَيْلِيِّ ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَقَرَأَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى بِ الْعَنْكَبُوتِ ، أَوِ الرُّومِ ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِ يَاسِينَ " .
محمد محی الدین .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز میں (دو رکعت میں) چار مرتبہ رکوع کیا تھا اور چار مرتبہ سجدہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رکعت میں سورۃ العنکبوت اور سورۃ الروم کی تلاوت کی تھی، جبکہ دوسری رکعت میں سورۃ یٰسین کی تلاوت کی تھی۔
حدیث نمبر: 1793
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الثَّلْجِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ ، ثنا بَكَّارُ بْنُ يُونُسَ أَبُو يُونُسَ الرَّامِي ، ثنا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ " . الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِيهِ : " وَلَكِنَّ اللَّهَ إِذَا تَجَلَّى لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ ، فَإِذَا كَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا فَصَلُّوا وَادْعُوا " .
محمد محی الدین .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند یہ دونوں نشانیاں ہیں۔“ اس روایت میں یہ بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی چیز پر تجلی کرتا ہے، تو وہ اس کی بارگاہ میں خشوع و خضوع کے ساتھ (جھک جاتی ہے)، تو جب ان دونوں میں سے کوئی ایک گرہن ہو جائے، تو تم نماز ادا کرو اور دعا مانگو۔“
حدیث نمبر: 1794
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا عِيسَى بْنُ شَاذَانَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ الْبُنَانِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الطَّاحِيُّ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَجَلَّى لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ " . تَابَعَهُ نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ.
محمد محی الدین .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی چیز کے لیے تجلی فرماتا ہے، تو وہ اس کی بارگاہ میں جھک جاتی ہے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1795
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الإِصْطَخْرِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : " إِنَّ لَمَهْدِيِّنَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ ، يَنْخَسِفُ الْقَمَرُ لأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ ، وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ ، وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ " .
محمد محی الدین .
محمد بن علی فرماتے ہیں: ہمارے مہدی کی دو نشانیاں ہیں جو آسمان و زمین کی تخلیق کے بعد کبھی رونما نہیں ہوئیں، وہ رمضان کی پہلی رات میں چاند گرہن ہونا اور پندرھویں تاریخ کو سورج گرہن ہونا، آسمان و زمین کو جب اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، تو اس وقت سے لے کر اب تک (اس تاریخ میں یہ دونوں گرہن نہیں ہوئے)۔
حدیث نمبر: 1796
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالا : نا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا " .
محمد محی الدین .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، یہ دونوں کسی کے مرنے یا کسی کے پیدا ہونے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے، یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، جب تم ان دونوں کو (گرہن کی حالت میں) دیکھو، تو نماز (کسوف) ادا کرو۔“