کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب نماز ترک کرنے کی شدید مذمت ‘ جو شخص اسے ترک کردے وہ کفر (کا مرتکب ہوتا) ہے تاہم ایسا کرنے والے کو قتل کرنا منع ہے
حدیث نمبر: 1750
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ : جَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، حِينَ طُعِنَ ، فَقَالَ : الصَّلاةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ عُمَرُ : " إِنَّهُ لا حَظَّ فِي الإِسْلامِ لأَحَدٍ أَضَاعَ الصَّلاةَ " ، فَصَلَّى عُمَرُ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا .
محمد محی الدین .
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا جا چکا تھا، انہوں نے عرض کی: ”امیر المؤمنین! نماز کا وقت ہو گیا ہے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایسے شخص کے لیے اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے جو نماز ادا نہ کرے۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز ادا کی، حالانکہ اس وقت ان کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔
حدیث نمبر: 1751
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ " .
محمد محی الدین .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہمارے اور ان (کفار) کے درمیان بنیادی فرق نماز ادا کرنا ہے، جو شخص اسے ترک کر دیتا ہے، وہ کفر کا مرتکب ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1752
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ الإِسْكَافُ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا الْعَلاءُ بْنُ عِمْرَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثنا خَالِدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْعَتَكِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
محمد محی الدین .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ عبداللہ بن بریدہ کے حوالے سے ان کے والد سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1753
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا وَكِيعٌ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلاةِ " .
محمد محی الدین .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بندے اور کفر کے درمیان (بنیادی فرق) نماز ترک کرنا ہے۔“
حدیث نمبر: 1754
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ ، أنا أَبُو مَسْعُودٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَيْنَ الْكُفْرِ أَوِ الشِّرْكِ وَالإِيمَانِ تَرْكُ الصَّلاةِ " .
محمد محی الدین .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”کفر (راوی کو شک ہے شاید یہ لفظ ہے) شرک اور ایمان کے درمیان (بنیادی فرق) نماز ترک کرنا ہے۔“
حدیث نمبر: 1755
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الصُّورِيُّ ، ثنا مُؤَمَّلٌ ، ثنا سُفْيَانُ بِهَذَا ، وَقَالَ : " لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ إِلا تَرْكُ الصَّلاةِ " .
محمد محی الدین .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”بندے اور کفر کے درمیان (بنیادی فرق) نماز ترک کرنا ہے۔“
حدیث نمبر: 1756
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، أنا هُودُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُعْجِبُنَا تَعَبُّدُهُ وَاجْتِهَادُهُ ، فَذَكَرْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاسْمِهِ ، وَوَصَفْنَاهُ بِصِفَتِهِ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذَا طَلَعَ الرَّجُلُ فَقُلْنَا : هُوَ هَذَا ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ لَتُخْبِرُونَ عَنْ رَجُلٍ عَلَى وَجْهِهِ سَفْعَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ " ، فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يُسَلِّمْ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَشَدْتُكَ اللَّهَ ، هَلْ قُلْتَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَى الْمَجْلِسِ مَا فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ أَفْضَلُ مِنِّي وَخَيْرٌ مِنِّي ؟ " ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، ثُمَّ دَخَلَ يُصَلِّي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَقْتُلُ الرَّجُلَ ؟ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يُصَلِّي ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، أُقْتَلُ رَجُلا يُصَلِّي ، وَقَدْ " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّينَ " ، فَخَرَجَ . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
محمد محی الدین .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص تھا، جس کی عبادت و ریاضت ہمیں بہت پسند تھی، ہم نے اس شخص کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، ہم نے اس کا نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہچان نہیں سکے، جب ہم نے اس کا حلیہ بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی اسے نہیں پہچان سکے، ابھی ہم اس شخص کا تذکرہ ہی کر رہے تھے کہ اسی دوران وہ شخص سامنے آ گیا، ہم نے عرض کی: یہ وہ شخص ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم مجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتا رہے ہو، جس کے چہرے پر شیطان کا نشان ہے۔“ پھر وہ شخص آگے آیا اور ان لوگوں کے پاس آ کر ٹھہر گیا، اس نے سلام نہیں کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ کہتا ہوں کہ کیا تم نے ابھی، جب تم اس محفل کے پاس آ کر ٹھہرے ہو، یہ سوچا ہے، اس وقت ان حاضرین میں کوئی بھی شخص مجھ سے زیادہ فضیلت والا اور مجھ سے بہتر نہیں ہے؟“ اس شخص نے جواب دیا: ”اللہ جانتا ہے، ایسا ہی ہے۔“ پھر وہ شخص نماز پڑھنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اسے کون قتل کرے گا؟“ سیدنا ابوبکر نے عرض کی: ”میں!“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے، تو وہ نماز پڑھ رہا تھا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ سوچا: ”سبحان اللہ! کیا میں ایسے شخص کو قتل کروں گا جو نماز ادا کر رہا ہے، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے۔“ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آ گئے (اس کے بعد راوی نے مکمل حدیث ذکر کی ہے)۔
حدیث نمبر: 1757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي هُودُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّينَ " .
محمد محی الدین .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1758
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الرَّبِيعِ ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي يَسَارٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مَخْضُوبِ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُحِّيَ عَنِ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَانٍ يُقَالُ لَهُ : النَّقِيعُ وَلَيْسَ بِالْبَقِيعِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا نَقْتُلُهُ ، فَقَالَ : " لا ، إِنِّي نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ " . وَقَالَ حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ : أُتِيَ بِمُخَنَّثٍ قَدْ خَضَبَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ.
محمد محی الدین .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص کو لایا گیا، جس کے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں پر مہندی لگی ہوئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرتا ہے۔“ تو اس کے بارے میں یہ حکم دیا گیا کہ اسے مدینہ منورہ سے نکال کر نقیع نامی جگہ پر بھیج دیا جائے، عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ایک ہیجڑے کو لایا گیا، جس نے اپنے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں مہندی لگائی ہوئی تھی۔