کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : زخمی شخص کے لیے پانی استعمال کرنے اور زخم پر متی کے ہمراہ، تیمم کا جائز ہونا
حدیث نمبر: 728
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ أَصَابَتْهُمَا جَنَابَةٌ فَتَيَمَّمَا نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا سَعِيدٍ.
محمد محی الدین .
عبداللہ بن مبارک کے حوالے سے منقول ہے، عطاء بن یسار یہ بیان کرتے ہیں: ان دونوں آدمیوں کو جنابت لاحق ہوئی تھی۔ ان دونوں نے تیمم کیا، اس روایت میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 728
حدیث تخریج «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 637، 638، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 431، برقم: 432، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 338، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 727، 728، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 8116، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 1842، 7922»
حدیث نمبر: 729
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ لَفْظًا فِي كِتَابِ النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ ، نا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَلَبِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِي رَأْسِهِ ، ثُمَّ احْتَلَمَ . فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ هَلْ تَجِدُونَ فِيَّ رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ ؟ قَالُوا : مَا نَجْدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُخْبِرَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : " قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ ، أَلا سَأَلُوا إِذَا لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ أَوْ يَعْصِبَ عَلَى جَرْحِهِ ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهِ وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ " . شَكَّ مُوسَى ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذِهِ سُنَّةٌ تَفَرَّدَ بِهَا أَهْلُ مَكَّةَ ، وَحَمَلَهَا أَهْلُ الْجَزِيرَةِ . لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ جَابِرٍ ، غَيْرُ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَخَالَفَهُ الأَوْزَاعِيُّ ، فَرَوَاهُ عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ وَاخْتُلِفَ عَلَى الأَوْزَاعِيِّ ، فَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عَطَاءٍ ، وَقِيلَ عَنْهُ بَلَغَنِي عَنْ عَطَاءٍ ، وَأَرْسَلَ الأَوْزَاعِيُّ آخِرَهُ عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ الصَّوَابُ ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ : سَأَلْتُ أَبِي ، وَأَبَا زُرْعَةَ عَنْهُ ، فَقَالا : رَوَاهُ ابْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ وَأَسْنَدَ الْحَدِيثَ.
محمد محی الدین .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم سفر پر روانہ ہوئے۔ ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگا جس نے اس کے سر کو زخمی کر دیا پھر اس شخص کو احتلام ہو گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا: ”کیا آپ سمجھتے ہیں مجھے تیمم کرنے کی ضرورت ہے؟“ ساتھیوں نے جواب دیا: ”جب تم پانی کے استعمال پر قادر ہو تو ہمارے نزدیک تمہارے لیے رخصت نہیں ہو گی۔“ اس شخص نے غسل کیا تو اس کا انتقال ہو گیا۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان لوگوں نے اسے مار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو برباد کرے۔ جب انہیں علم نہیں تھا تو انہوں نے دریافت کیوں نہیں کیا، بیمار شخص کی شفاء سوال کرنے میں ہے۔ اس شخص کے لیے اتنا کافی تھا کہ وہ تیمم کر لیتا (پٹی باندھ لیتا) اور (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اپنے زخم پر پٹی لپیٹ لیتا اور اس پر مسح کر لیتا اور باقی جسم کو دھو لیتا۔“ یہاں پر شک موسیٰ نامی راوی کو ہے۔ شیخ ابوبکر بیان کرتے ہیں: اس روایت کو نقل کرنے میں اہل مکہ منفرد ہیں اور اہل جزیرہ نے اسے محمول کیا ہے۔ انہوں نے اسے عطاء کے حوالے سے سیدنا جابر سے روایت نہیں کیا ہے۔ اس روایت کو صرف زبیر نامی راوی نے نقل کیا ہے اور مستند نہیں ہے। امام اوزاعی نے اس کے برعکس روایت نقل کی ہے جو عطاء کے حوالے سے سیدنا عبداللہ سے منقول ہے۔ امام اوزاعی سے نقل کرنے میں بھی اختلاف کیا گیا ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ عطاء سے منقول ہے اور ایک روایت کے مطابق ان سے یہ بات منقول ہے: ”مجھے عطاء کے حوالے سے یہ بات پتا چلی ہے۔“ اور امام اوزاعی نے اس کے آخری حصے کو مرسل روایت کے طور پر عطاء کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے اور یہی درست ہے۔ ابن ابی حاتم بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد اور شیخ ابی زرعہ نامی راوی سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو ان دونوں نے اس بات کا جواب دیا: اس روایت کو ابن العشیرین، اوزاعی کے حوالے سے، اسماعیل کے حوالے سے، عطاء کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے۔ ان حضرات نے اسے مستند روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 729
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث تخریج «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 144، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 273، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1314، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 589، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 336، 337، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 779، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 572، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 729، 730، 731، 732، 733، 734، 735، 736، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3114» ¤ «قال الدارقطني: لم يروه عن عطاء عن جابر غير الزبير بن خريق وليس بالقوي وخالفه الأوزاعي فرواه عن عطاء عن ابن عباس وهو الصواب ، سنن الدارقطني: (1 / 349) برقم: (729)»
حدیث نمبر: 730
قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الَّعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمُ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، نا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ رَجُلا أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ عَلَى عَهْدِ ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ فَاسْتَفْتَى ، فَأُفْتِيَ بِالْغُسْلِ ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ ؟ " . قَالَ عَطَاءٌ : فَبَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ بَعْدُ ، فَقَالَ : " لَوْ غَسَلَ جَسَدَهُ وَتَرَكَ رَأْسَهُ حَيْثُ أَصَابَتْهُ الْجِرَاحُ أَجْزَاءَهُ " .
محمد محی الدین .
عطاء بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے: ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں زخم لگ گیا۔ اسے جنابت لاحق ہوئی۔ اس نے مسئلہ دریافت کیا تو اسے بتایا گیا کہ اسے غسل کرنا ہو گا، اس نے غسل کیا تو اس کا انتقال ہو گیا۔ اس بات کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے اسے مار دیا ہے۔ اللہ ان کو برباد کرے۔ کیا بیمار شخص کی شفاء سوال کرنے میں نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 730
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث تخریج «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 144، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 273، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1314، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 589، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 336، 337، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 779، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 572، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 729، 730، 731، 732، 733، 734، 735، 736، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3114» ¤ «قال الدارقطني: لم يروه عن عطاء عن جابر غير الزبير بن خريق وليس بالقوي وخالفه الأوزاعي فرواه عن عطاء عن ابن عباس وهو الصواب ، سنن الدارقطني: (1 / 349) برقم: (729)»
حدیث نمبر: 731
حَدَّثَنَا الْمَحَامِلِيُّ ، نا الزَّعْفَرَانِيُّ ، نا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ .
محمد محی الدین .
عطاء نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر وہ شخص اپنے جسم کو دھو لیتا اور سر کو چھوڑ دیتا جہاں زخم لگا تھا تو اس طرح کرنا اس کے لیے جائز ہوتا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 731
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث تخریج «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 144، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 273، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1314، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 589، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 336، 337، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 779، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 572، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 729، 730، 731، 732، 733، 734، 735، 736، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3114» ¤ «قال الدارقطني: لم يروه عن عطاء عن جابر غير الزبير بن خريق وليس بالقوي وخالفه الأوزاعي فرواه عن عطاء عن ابن عباس وهو الصواب ، سنن الدارقطني: (1 / 349) برقم: (729)»
حدیث نمبر: 732
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو عُتْبَةَ ، نا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِهِ إِلَى آخِرِهِ مثل قَوْلِ هِقْلٍ.
محمد محی الدین .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 732
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث تخریج «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 144، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 273، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1314، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 589، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 336، 337، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 779، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 572، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 729، 730، 731، 732، 733، 734، 735، 736، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3114» ¤ «قال الدارقطني: لم يروه عن عطاء عن جابر غير الزبير بن خريق وليس بالقوي وخالفه الأوزاعي فرواه عن عطاء عن ابن عباس وهو الصواب ، سنن الدارقطني: (1 / 349) برقم: (729)»
حدیث نمبر: 733
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالا : نا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي أبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، قَالَ : بَلَغَنِي عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يُخْبِرُ أَنَّ رَجُلا أَصَابَهُ جَرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَصَابَهُ احْتِلامٌ فَأُمِرَ بِالاغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَكُزَّ فَمَاتَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ " . قَالَ عَطَاءٌ : فَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " لَوْ غَسَلَ جَسَدَهُ وَتَرَكَ رَأْسَهُ حَيْثُ أَصَابَهُ الْجَرْحُ " .
محمد محی الدین .
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص زخمی ہو گیا، پھر اسے احتلام ہو گیا، تو اسے غسل کرنے کے لیے کہا گیا۔ اس نے غسل کیا تو اس کا انتقال ہو گیا۔ جب اس بات کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”ان لوگوں نے اسے مار دیا۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو برباد کرے، کیا بیمار شخص کی شفاء سوال کرنے میں نہیں ہے؟“ عطاء نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اس بات کا معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر وہ شخص اپنے جسم کو دھو لیتا اور اپنے سر کے اس حصے کو چھوڑ دیتا جہاں زخم لگا ہوا تھا تو یہ درست ہوتا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 733
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث تخریج «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 144، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 273، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1314، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 589، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 336، 337، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 779، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 572، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 729، 730، 731، 732، 733، 734، 735، 736، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3114» ¤ «قال الدارقطني: لم يروه عن عطاء عن جابر غير الزبير بن خريق وليس بالقوي وخالفه الأوزاعي فرواه عن عطاء عن ابن عباس وهو الصواب ، سنن الدارقطني: (1 / 349) برقم: (729)»
حدیث نمبر: 734
حَدَّثَنَا الْفَارِسِيُّ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
محمد محی الدین .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 734
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث تخریج «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 144، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 273، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1314، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 589، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 336، 337، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 779، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 572، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 729، 730، 731، 732، 733، 734، 735، 736، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3114» ¤ «قال الدارقطني: لم يروه عن عطاء عن جابر غير الزبير بن خريق وليس بالقوي وخالفه الأوزاعي فرواه عن عطاء عن ابن عباس وهو الصواب ، سنن الدارقطني: (1 / 349) برقم: (729)»
حدیث نمبر: 735
نا أحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، نا أبُو الْمُغِيرَةِ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : بَلَغَنِي عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مثل حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ .
محمد محی الدین .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 735
حدیث تخریج «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 144، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 273، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1314، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 589، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 336، 337، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 779، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 572، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 729، 730، 731، 732، 733، 734، 735، 736، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3114» ¤ «قال الدارقطني: لم يروه عن عطاء عن جابر غير الزبير بن خريق وليس بالقوي وخالفه الأوزاعي فرواه عن عطاء عن ابن عباس وهو الصواب ، سنن الدارقطني: (1 / 349) برقم: (729)»
حدیث نمبر: 736
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ ، نا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ قَوْلِ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ . وَتَابَعَهُمَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سَمَاعَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ.
محمد محی الدین .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے جبکہ دیگر راویوں نے اس کی متابعت بھی کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 736
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث تخریج «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 144، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 273، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1314، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 589، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 336، 337، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 779، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 572، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 729، 730، 731، 732، 733، 734، 735، 736، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3114» ¤ «قال الدارقطني: لم يروه عن عطاء عن جابر غير الزبير بن خريق وليس بالقوي وخالفه الأوزاعي فرواه عن عطاء عن ابن عباس وهو الصواب ، سنن الدارقطني: (1 / 349) برقم: (729)»