حدیث نمبر: 456
حَدَّثَنَا ابْنُ بَحِيرٍ ، نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نا أَبُو دَاوُدَ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ ، نا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَبِي غَسَّانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَنَّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يُفْتُونَ ، " أَنَّ الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ كَانَتْ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَدْءِ الإِسْلامِ ، ثُمَّ أَمَرَنَا بِالاغْتِسَالِ بَعْدُ " . صَحِيحٌ.
محمد محی الدین .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے: ”کچھ لوگ یہ کہتے ہیں: انزال کی وجہ سے غسل لازم ہوتا ہے (حالانکہ در حقیقت) یہ ایک رخصت تھی، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے ابتدائی زمانے میں عطا کی تھی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غسل کرنے کا حکم دیا۔“ یہ روایت مستند ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 456
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث تخریج «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 99، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 225، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1173، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 214، 215، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 110، 111، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 786، 787، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 609، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 456، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 21487» ¤ «قال البیھقي: هذا إسناد صحيح موصول ، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (1 / 373)»
حدیث نمبر: 457
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمَرْوَزِيُّ ، نا عَبْدَانُ ، نا أَبُو حَمْزَةَ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ عِمْرَانَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عُرْوَةَ عَنِ الَّذِي يُجَامِعُ وَلا يُنْزِلُ ؟ فَقَالَ : قَوْلُ أَنْ يَأْخُذُوا بِالآخِرَةِ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ وَلا يَغْتَسِلُ وَذَلِكَ قَبْلَ فَتْحِ مَكَّةَ ، ثُمَّ اغْتَسَلَ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالْغُسْلِ " .
محمد محی الدین .
زہری بیان کرتے ہیں: میں نے عروہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو صحبت کرتا ہے، لیکن اسے انزال نہیں ہوتا تو عروہ نے جواب دیا: ”لوگوں کی رائے یہ ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری حکم کو اختیار کرتے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ایسا ہی کیا کرتے تھے اور غسل نہیں کرتے تھے، لیکن یہ مکہ فتح ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ اس کے بعد آپ نے غسل کرنا شروع کیا اور لوگوں کو بھی (ایسی صورتحال میں) غسل کرنے کی ہدایت کی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 457
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث تخریج «إسناده ضعيف ، أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 348، 349، 350، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 143، 144، 145، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 227، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1175، ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 108، 109، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 608، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 392، 393، 394،2293،457، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24843» ¤ « قال البخاری: لا يتابع على حديثه ثم ذكر هذا الحديث يعني الحسين بن عمران ، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 51)»