کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب : وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنا
حدیث نمبر: 221
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، قَالا : نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، نا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَقَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : نَظَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءًا فَلَمْ يَجِدُوا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَا هُنَا مَاءٌ " ، فَأُتِيَ بِهِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ الَّذِي فِيهِ الْمَاءُ ، ثُمَّ قَالَ : " تَوَضَّئُوا بِسْمِ اللَّهِ " ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ مِنْ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَالْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ حَتَّى فَرَغُوا مِنْ آخِرِهِمْ ، قَالَ ثَابِتٌ : قُلْتُ لأَنَسٍ : كَمْ تُرَاهُمْ كَانُوا ؟ قَالَ : نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ رَجُلا.
محمد محی الدین .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا تو انہیں پانی نہیں ملا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کہیں تھوڑا سا پانی بھی ہے؟“ (وہ موجود تھا)، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس برتن پر رکھا جس میں پانی موجود تھا، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر وضو کرنا شروع کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی کے چشمے جاری ہو گئے اور لوگوں نے وضو کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ ثابت نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”اس وقت آپ کی تعداد کتنی تھی؟“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”(ہم) ستر کے قریب لوگ تھے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 221
حدیث تخریج «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 169، 195، 200، 3572، 3573، 3574، 3575، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 2279،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 86، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 124، ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6539، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 76، برقم: 78، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 84، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3631، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 116، 938، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 221، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 474، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12214»