حدیث نمبر: 65
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ : أَنَّ زِنْجِيًّا وَقَعَ فِي زَمْزَمَ ، يَعْنِي فَمَاتَ ، فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَأُخْرِجَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُنْزَحَ ، قَالَ : فَغَلَبَتْهُمْ عَيْنٌ جَاءتْهُمْ مِنَ الرُّكْنِ ، فَأَمَرَ بِهَا فَدُسِمَتْ بِالْقُبَاطِيِّ وَالْمَطَارِفِ حَتَّى نَزَحُوهَا فَلَمَّا نَزَحُوهَا انْفَجَرَتْ عَلَيْهِمْ " .
محمد محی الدین .
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک حبشی زم زم کے کنویں میں گر گیا، یعنی گر کے مر گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حکم کے تحت اس کی لاش کو باہر نکالا گیا اور کنویں کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ ہدایت دی کہ اسے صاف کر دیا جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: لیکن چشمے کا پانی لوگوں کے قابومیں نہیں آیا، وہ رکن (حجر اسود) کی طرف سے آ گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے بارے میں ہدایت کی: وہ پوری طرح سے کپڑوں کے ذریعے بند کیا جائے، یہاں تک کہ وہ مکمل بند ہو جائے، جب لوگوں نے اسے بند کیا تو پھر اس میں سے پانی باہر نکل آیا۔
حدیث نمبر: 66
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا قَبِيصَةُ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أَنَّ غُلامًا وَقَعَ فِي بِئْرِ زَمْزَمَ فَنُزِحَتْ " .
محمد محی الدین .
سیدنا ابوطفیل بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک لڑکا زم زم کے کنویں میں گر گیا تو اس کا سارا پانی نکالا گیا۔
حدیث نمبر: 67
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " كُلُّ نَفْسٍ سَائِلَةٌ لا يُتَوَضَّأُ مِنْهَا ، وَلَكِنْ رُخِّصَ فِي الْخُنْفِسَاءِ ، وَالْعَقْرَبِ ، وَالْجَرَادِ ، وَالْجُدْجُدِ ، إِذَا وَقَعْنَ فِي الرِّكَاءِ فَلا بَأْسَ " . قَالَ شُعْبَةُ : وَأَظُنُّهُ قَدْ ذَكَرَ الْوَزَغَةَ.
محمد محی الدین .
ابراہیم نخعی فرماتے ہیں: ہر وہ جاندار جس کا خون بہتا ہوا (اگر وہ کنویں میں گر جائے) تو اس کنویں کے پانی سے وضو نہیں کیا جائے گا، البتہ خنفساء، بچھو، ٹڈی، جھینگر، اگر کنویں میں گر جاتے ہیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے (یعنی ایسے کنویں کے پانی سے وضو کیا جا سکتا ہے)۔ شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے، انہوں نے گرگٹ کا بھی ذکر کیا تھا۔