حدیث نمبر: 2655
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُونَ : كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ ، قَالَ : وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتَّى الْعَجْزِ وَالْكَيْسِ ، أَوِ الْكَيْسِ وَالْعَجْزِ " .
عمرو بن مسلم نے طاوس سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد صحابہ کو پایا وہ سب کے سب یہ کہتے تھے کہ ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) مقدار سے ہے اور میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) مقدار سے ہے یہاں تک کہ (کسی کام کو) نہ کر سکنا اور کر سکنا بھی، یا کہا: (کسی کام کو) کر سکنا اور نہ کر سکنا (بھی اسی مقدار سے ہے۔)“
حدیث نمبر: 2656
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَدَرِ ، فَنَزَلَتْ : يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ { 48 } إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ { 49 } سورة القمر آية 48-49 " .
محمد بن عباد بن جعفر مخزومی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مشرکین قریش تقدیر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بحث کرنے کے لیے آئے، اس وقت (یہ آیت) نازل ہوئی: ”جس دن وہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے، (کہا جائے گا:) دوزخ کا عذاب چکھو، بے شک ہم نے ہر چیز کو (طے شدہ) مقدار کے مطابق بنایا ہے۔“