کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق، عمر، عمل، شقاوت و سعادت لکھے جانے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 2643
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا وَاللَّفْظُ لَهُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ يَكُونُ فِي ذَلِكَ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ بِكَتْبِ رِزْقِهِ ، وَأَجَلِهِ ، وَعَمَلِهِ ، وَشَقِيٌّ ، أَوْ سَعِيدٌ ، فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا " .
عبداللہ بن نمیر ہمدانی، ابومعاویہ اور وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے زید بن وہب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ سچ بتاتے ہیں اور انہیں (وحی کے ذریعے سے) سچ بتایا جاتا ہے نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک شخص کا مادہ تخلیق چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں اکٹھا کیا جاتا ہے، پھر وہ اتنی مدت (چالیس دن) کے لیے علقہ (جونک کی طرح رحم کی دیوار کے ساتھ چپکا ہوا) رہتا ہے، پھر اتنی ہی مدت کے لیے مضغہ کی شکل میں رہتا ہے (جس میں ریڑھ کی ہڈی کے نشانات دانت سے چبائے جانے کے نشانات سے مشابہ ہوتے ہیں۔) پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو (پانچویں مہینے نیوروسیل، یعنی دماغ کی تخلیق ہو جانے کے بعد) اس میں روح پھونکتا ہے۔ اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے کہ اس کا رزق، اس کی عمر، اس کا عمل اور یہ کہ وہ خوش نصیب ہو گا یا بدنصیب، لکھ لیا جائے۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! تم میں سے کوئی ایک شخص اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کے اور جنت کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو (اللہ کے علم کے مطابق) لکھا ہوا اس پر غالب آ جاتا ہے تو وہ اہل جہنم کا عمل کر لیتا ہے اور اس (جہنم) میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور تم میں سے ایک شخص اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو (اللہ کے علم کے مطابق) لکھا ہوا اس پر غالب آ جاتا ہے اور وہ اہل جنت کا عمل کر لیتا ہے اور اس (جنت) میں داخل ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2643
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2643
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ : إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، وقَالَ فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ ، عَنْ شُعْبَةَ : أَرْبَعِينَ لَيْلَةً أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، وَأَمَّا فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، وَعِيسَى : أَرْبَعِينَ يَوْمًا .
عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے جریر بن عبدالحمید سے روایت کی، نیز ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے عیسیٰ بن یونس سے خبر دی۔ اور ابوسعید اشج نے مجھے بیان کیا، کہا: ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی کہ عبیداللہ بن معاذ نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ بن حجاج نے حدیث بیان کی، ان سب (جریر، عیسیٰ، وکیع اور شعبہ) نے اعمش سے، اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ وکیع کی حدیث میں کہا: ”تم میں سے ایک انسان کا مادہ تخلیق چالیس راتوں تک اپنی ماں کے پیٹ میں اکٹھا (ہونے کے مرحلے میں) ہوتا ہے۔“ اور شعبہ سے معاذ کی حدیث میں ”چالیس راتیں یا چالیس دن“ اور جریر اور عیسیٰ کی حدیث میں ”چالیس دن“ ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2643
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2644
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَدْخُلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ ، أَوْ خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَيَقُولُ يَا رَبِّ : أَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ؟ فَيُكْتَبَانِ ، فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ : أَذَكَرٌ ، أَوْ أُنْثَى ؟ فَيُكْتَبَانِ ، وَيُكْتَبُ عَمَلُهُ ، وَأَثَرُهُ ، وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ ، ثُمَّ تُطْوَى الصُّحُفُ ، فَلَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ " .
عمرو بن دینار نے ابوطفیل (عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت کی جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی (مرفوع بیان کی)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نطفہ (چالیس چالیس دنوں کے دو مرحلوں کے بعد تیسرے مرحلے میں) چالیس یا پینتالیس راتیں رحم میں ٹھہرا رہتا ہے تو (اللہ کا مقرر کیا ہوا) فرشتہ اس کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے: اے رب! یہ خوش نصیب ہو گا یا بدنصیب ہو گا؟ تو دونوں (باتوں میں سے اللہ کو بتائے اس) کو لکھ لیا جاتا ہے، پھر کہتا ہے: اے رب! یہ مرد ہے یا عورت؟ پھر دونوں (میں سے جو اللہ بتائے اس) کو لکھ لیا جاتا ہے، پھر اس کا عمل، اس کے قدموں کے نشانات، اس کی مدت عمر اور اس کا رزق لکھ لیا جاتا ہے، پھر (اندراج کے) صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں، پھر ان میں کوئی چیز نہ بڑھائی جاتی ہے، نہ کم کی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2644
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2645
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ ، فَأَتَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُقَالُ لَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ ، فَحَدَّثَهُ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : وَكَيْفَ يَشْقَى رَجُلٌ بِغَيْرِ عَمَلٍ ؟ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : أَتَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ثِنْتَانِ ، وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً ، بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهَا مَلَكًا ، فَصَوَّرَهَا ، وَخَلَقَ سَمْعَهَا ، وَبَصَرَهَا ، وَجِلْدَهَا ، وَلَحْمَهَا ، وَعِظَامَهَا ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ أَجَلُهُ ؟ فَيَقُولُ رَبُّكَ مَا شَاءَ ، وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ رِزْقُهُ ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ ، وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ الْمَلَكُ بِالصَّحِيفَةِ فِي يَدِهِ ، فَلَا يَزِيدُ عَلَى مَا أُمِرَ وَلَا يَنْقُصُ " .
عمرو بن حارث نے ابوزبیر علی سے روایت کی کہ حضرت عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں (تھا تو اللہ کے علم کے مطابق) بدبخت تھا اور سعادت مند وہ ہے جو اپنے علاوہ دوسرے سے نصیحت حاصل کرے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص آئے جنہیں حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، انہوں (عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ) نے ان کو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں یہ حدیث سنائی اور (ان سے پوچھنے کے لیے) کہا: وہ شخص کوئی عمل کیے بغیر بدبخت کیسے ہو جاتا ہے؟ تو اس (عامر) کو آدمی (حذیفہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: کیا آپ اس پر تعجب کرتے ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب نطفے پر (تیسرے مرحلے کی) بیالیس راتیں گزر جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے، وہ اس کی صورت بناتا ہے، اس کے کان، آنکھیں، کھال، گوشت اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے، پھر کہتا ہے: اے میرے رب! یہ مرد ہو گا کہ عورت؟ پھر تمہارا رب جو چاہتا ہوتا ہے وہ فیصلہ بتاتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب! اس کی مدت حیات (کتنی ہو گی؟) پھر تمہارا رب جو اس کی تقدیر ہوتی ہے، بتاتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے، پھر وہ (فرشتہ) کہتا ہے: اے میرے رب! اس کا رزق (کتنا ہو گا؟) تو تمہارا رب جو چاہتا ہوتا ہے وہ فیصلہ بتاتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے، پھر فرشتہ اپنے ہاتھ میں صحیفہ لے کر نکل جاتا ہے، چنانچہ وہ شخص کسی معاملے میں نہ اس سے بڑھتا ہے، نہ کم ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2645
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2645
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ .
امام صاحب ایک اور استاد سے،عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2645
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2645
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ حَدَّثَهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ ، يَقُولُ : " إِنَّ النُّطْفَةَ تَقَعُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، ثُمَّ يَتَصَوَّرُ عَلَيْهَا الْمَلَكُ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَسِبْتُهُ ، قَالَ : الَّذِي يَخْلُقُهَا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى ؟ فَيَجْعَلُهُ اللَّهُ ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ أَسَوِيٌّ ، أَوْ غَيْرُ سَوِيٍّ ؟ فَيَجْعَلُهُ اللَّهُ سَوِيًّا ، أَوْ غَيْرَ سَوِيٍّ ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا رِزْقُهُ ، مَا أَجَلُهُ ، مَا خُلُقُهُ ؟ ثُمَّ يَجْعَلُهُ اللَّهُ شَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا " .
یحییٰ بن ابوبکیر نے کہا: ہمیں ابوخیثمہ زہیر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن عطاء نے حدیث بیان کی، انہیں عکرمہ بن خالد نے حدیث بیان کی، انہیں ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں ابوسریحہ حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”نطفہ (اصل میں تین مرحلوں میں چالیس) چالیس راتیں رحم مادر میں رہتا ہے، پھر فرشتہ اس کی صورت بناتا ہے۔“ زہیر نے کہا: میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا: (فرشتہ) اسے بتایا ہے: ”تو وہ کہتا ہے: اے میرے رب! عورت ہو گی یا مرد ہو گا؟ پھر اللہ تعالیٰ اس کے مذکر یا مؤنث ہونے کا فیصلہ بتا دیتا ہے، وہ (فرشتہ) پھر کہتا ہے: اے میرے رب! مکمل (پورے اعضاء والا ہے) یا غیر مکمل؟ پھر اللہ تعالیٰ مکمل یا غیر مکمل ہونے کے بارے میں اپنا فیصلہ بتا دیتا ہے، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے پروردگار! اس کا رزق کتنا ہو گا؟ اس کی مدت حیات کتنی ہو گی؟ اس کا اخلاق کیسا ہو گا؟ پھر اللہ تعالیٰ اس کے بدبخت یا خوش بخت ہونے کے بارے میں بھی (جو طے ہو چکا) بتا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2645
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2645
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ كُلْثُومٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي كُلْثُومٌ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ مَلَكًا مُوَكَّلًا بِالرَّحِمِ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا بِإِذْنِ اللَّهِ لِبِضْعٍ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
کلثوم نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی: ”تخلیق کے دوران رحم پر ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جب اللہ تعالیٰ اپنے اذن سے کوئی چیز پیدا کرنا چاہتا ہے تو چالیس اور کچھ اوپر راتیں گزرنے کے بعد“ پھر ان سب کی روایت کردہ حدیث کے مطابق بیان کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2645
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2646
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَرَفَعَ الْحَدِيثَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ ؟ أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ ؟ أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ ؟ فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقًا ، قَالَ : قَالَ الْمَلَكُ : أَيْ رَبِّ ذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى ؟ شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ؟ فَمَا الرِّزْقُ ؟ فَمَا الْأَجَلُ ؟ فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ " .
عبیداللہ بن ابی بکر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے یہ حدیث مرفوعاً بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر دیتا ہے، وہ کہتا ہے: اے میرے رب! (اب) یہ نطفہ ہے، اے میرے رب! (اب) یہ علقہ ہے، اے میرے رب! (اب) یہ مضغہ ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی (انسان کی صورت میں) تخلیق کا فیصلہ کرتا ہے تو انہوں نے کہا: فرشتہ کہتا ہے: اے میرے رب! مرد ہو یا عورت؟ بدبخت ہو یا خوش نصیب؟ رزق کتنا ہو گا؟ مدت عمر کتنی ہو گی؟ وہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اور اسی طرح (سب کچھ) لکھ لیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2646
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2647
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ ، فَنَكَّسَ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا وَقَدْ كَتَبَ اللَّهُ مَكَانَهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، وَإِلَّا وَقَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً " ، قَالَ : فَقَالَ رَجَلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نَمْكُثُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ ؟ فَقَالَ : مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ ، فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ ، ثُمَّ قَرَأَ : فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى { 5 } وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى { 6 } فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى { 7 } وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى { 8 } وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى { 9 } فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى { 10 } سورة الليل آية 5-10 .
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم ایک جنازہ کے سلسلہ میں بقیع غرقد میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور ہم آپ نے ارد گردبیٹھ گئے اور آپ کے پاس ایک چھڑی تھی چنانچہ آپ نے سر جھکا لیا اور اپنی چھڑی سے زمین کرید نے لگے پھر فرمایا،"تم میں سے ہر ایک شخص اور ہر جان دار، نفس کا ٹھکانا جنت اور دوزخ میں اللہ نے لکھا دیا ہے اور یہ بھی لکھ دیا گیا ہےبد بخت ہے یا نیک بخت "ایک آدمی نے پوچھا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم اپنے نوشتہ پر نہ ٹھہر جائیں اور عمل چھوڑدیں۔؟"تو آپ نے فرمایا:"جو اہل سعادت میں سے ہے وہ یقیناً اہل سعادت والے اعمال کی طرف رخ کرے گا اور جو اہل شقاوت میں سے ہیں وہ یقیناً اہل شقاوت کے اعمال کی طرف چلے گا۔"اور آپ نے فرمایا:"عمل کرو، ہر ایک کے لیے آسان ہوگا،پس جو کوئی اہل سعادت سے ہے تو ان کے لیے اہل سعادت والے کام آسان کردئیے جائیں گے اور رہے اہل شقاوت تو ان کے لیے اہل شقاوت والے اعمال آسان کردئیے جائیں گے۔"پھر آپ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی،"پس جس نے اللہ کی راہ میں دیا اور حدود الٰہی کی پابندی کی اور اچھی بات (شریعت)کی تصدیق کی تو ہم اس کو چین و راحت کی زندگی یعنی جنت حاصل کرنے کی توفیق دیں گےاور پس جس نے بخل سے کام لیا اور بے نیازی اختیار کی اور اچھی بات (دعوت اسلام) کو جھٹلایا تو ہم اس کے لیے تکلیف دہ اور دشواری والی زندگی یعنی دوزخ کی طرف چلنا آسان کردیں گے۔"(سورۃ اللیل آیت نمبر5تا10)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2647
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2647
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَاهُ ، وَقَالَ : فَأَخَذَ عُودًا ، وَلَمْ يَقُلْ مِخْصَرَةً ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
امام صاحب مذکورہ بالا حدیث اپنے دواور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں اور اس میں مخصرہ کی جگہ عود(لکڑی)ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2647
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2647
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلِمَ نَعْمَلُ أَفَلَا نَتَّكِلُ ؟ قَالَ : لَا ، اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ، ثُمَّ قَرَأَ : فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى { 5 } وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى { 6 } سورة الليل آية 5-6 إِلَى قَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 10 " .
وکیع، عبداللہ بن نمیر اور ابومعاویہ نے کہا: ہمیں اعمش نے سعد بن عبیدہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوعبدالرحمان سلمی سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن بیٹھے ہوئے تھے، اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، پھر آپ نے اپنا سر اقدس اٹھا کر فرمایا: ”تم میں سے کوئی ذی روح نہیں مگر جنت اور دوزخ میں اس کا مقام (پہلے سے) معلوم ہے۔“ انہوں (صحابہ) نے عرض کی: اللہ کے رسول! پھر ہم کس لیے عمل کریں؟ ہم اسی (لکھے ہوئے) پر تکیہ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، تم عمل کرو، ہر شخص کے لیے اسی کی سہولت میسر ہے جس (کو خود اپنے عمل کے ذریعے حاصل کرنے) کے لیے اس کو پیدا کیا گیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”تو وہ شخص جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور اچھی بات کی تصدیق کی“ سے لے کر ”تو ہم اسے مشکل زندگی (تک جانے) کے لیے سہولت دیں گے“ تک پڑھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2647
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2647
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَيُحَدِّثُهُ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِهِ .
ہمیں شعبہ نے منصور اور اعمش سے حدیث بیان کی، ان دونوں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، وہ ابوعبدالرحمان سلمی سے، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کر رہے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2647
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2648
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ ، فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ ؟ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ ؟ أَمْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ ؟ قَالَ : لَا ، بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ ، قَالَ : فَفِيمَ الْعَمَلُ ، قَالَ زُهَيْرٌ : ثُمَّ تَكَلَّمَ أَبُو الزُّبَيْرِ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ ، فَسَأَلْتُ مَا قَالَ ؟ فَقَالَ : اعْمَلُوا ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ " .
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے کہ حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آکر دریافت کیا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے لیے ہمارا دین (دستور زندگی)اس طرح بیان فرمائیں گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں (ہمیں کسی چیز کا پتہ نہیں)آج کل جو ہم کر رہے اس کی کیا صورت ہے؟ کیا یہ ان چیزوں میں سے ہے جسے قلم لکھ کر خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر طے ہو چکی ہے یا ہم نئے سرے سے کر رہے ہیں (تقدیر کا دخل نہیں ہے) آپ نے فرمایا:"نہیں بلکہ ان امور میں سے ہے جو قلم لکھ کر خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر (فیصلہ) طے ہو چکا ہے۔"انھوں نے عرض کیا:تو پھر عمل کی کیا حیثیت؟ زہیر کہتے ہیں، پھر ابو زبیر نے کوئی بات کہی جو میں سمجھ نہ سکا تو میں نے پوچھا کیا کہا؟ انھوں نے کہا،آپ نے فرمایا:"عمل کرتے رہو ہر ایک کے لیے آسان کردئیے جائیں گے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2648
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2648
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْمَعْنَى وَفِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ .
عمرو بن حارث نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی میں روایت کی اور اس میں یہ الفاظ ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر عمل کرنے والا اپنے عمل کے لیے آسانی پاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2648
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2649
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ الضُّبَعِيِّ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ أَهْلِ النَّارِ ؟ قَالَ : فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : قِيلَ : فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ ؟ قَالَ : " كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " .
حماد بن زید نے یزید ضبعی سے روایت کی، کہا: ہمیں مطرف نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: اللہ کے رسول! کیا یہ معلوم ہے کہ جہنم والوں سے (الگ) جنت والے کون ہیں؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ کہا: عرض کی گئی: تو پھر عمل کرنے والے کس لیے عمل کریں؟ آپ نے فرمایا: ”ہر ایک کو اسی (منزل کی طرف جانے) کی سہولت میسر کر دی جاتی ہے جس (تک اپنے اعمال کے ذریعے پہنچنے) کے لیے اسے پیدا کیا گیا تھا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2649
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2649
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادٍ ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ .
عبدالوارث، ابن علیہ، جعفر بن سلیمان اور شعبہ سب نے یزید رشک سے اسی سند کے ساتھ حماد کی حدیث کے ہم معنی روایت کی اور عبدالوارث کی حدیث میں (عرض کی گئی کے بجائے) اس طرح ہے: (عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول!
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2649
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2650
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ : " أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ ، وَمَضَى عَلَيْهِمْ مِنْ قَدَرِ مَا سَبَقَ ؟ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ ؟ فَقُلْتُ : بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ ، قَالَ : فَقَالَ : أَفَلَا يَكُونُ ظُلْمًا ؟ قَالَ : فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَزَعًا شَدِيدًا ، وَقُلْتُ : كُلُّ شَيْءٍ خَلْقُ اللَّهِ وَمِلْكُ يَدِهِ فَلَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ، فَقَالَ لِي : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، إِنِّي لَمْ أُرِدْ بِمَا سَأَلْتُكَ إِلَّا لِأَحْزِرَ عَقْلَكَ ، إِنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ مِنْ قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ ؟ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ ؟ فَقَالَ : لَا ، بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا { 7 } فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا { 8 } سورة الشمس آية 7-8 " .
یحییٰ بن یعمر نے ابواسود دیلی سے روایت کی، کہا: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ جو عمل لوگ آج کر رہے ہیں اور اس میں مشقت اٹھا رہے ہیں، کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا اور پہلے ہی سے مقدر ہے جو ان میں جاری ہو چکا ہے یا وہ نئے سرے سے ان کے سامنے پیش کی جا رہی ہے، جس طرح اسے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس لائے ہیں اور ان پر حجت قائم ہوئی ہے؟ میں نے جواب دیا: بلکہ جس طرح ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے اور اس کا سلسلہ ان میں جاری ہے۔ (دیلی نے) کہا: تو (عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو کیا یہ ظلم نہیں؟ (دیلی نے) کہا: تو اس بات پر میں سخت خوفزدہ اور پریشان ہو گیا اور میں نے کہا: ہر چیز اللہ کی پیدا کی ہوئی ہے اور اس کی ملکیت ہے۔ جو بھی وہ کرے اس سے پوچھا نہیں جا سکتا اور وہ (اس کے مملوک بندے) جو کریں ان سے پوچھا جا سکتا ہے۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا: اللہ تم پر رحم کرے! میں نے جو تم سے پوچھا صرف اسی لیے پوچھا تھا تاکہ تمہاری عقل کا امتحان لوں۔ مزینہ کے دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کس طرح دیکھتے ہیں، لوگ جو عمل آج کر رہے اور اس میں مشقت اٹھا رہے ہیں کوئی ایسی چیز ہے جو ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا اور پہلے سے مقدر ہے جو ان میں جاری ہو چکی ہے یا وہ اب ان کے سامنے پیش کی جا رہی ہے، جس طرح اسے ان کے رسول ان کے پاس لائے ہیں اور ان پر حجت تمام ہوئی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ایسی چیز ہے جو ان کے بارے میں طے ہو گئی ہے اور ان میں جاری ہو چکی، اور اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں ہے: ’’اور نفس انسانی اور اس ذات کی قسم جس نے اس کو ٹھیک بنایا! پھر اس کو اس کی بدی بھی الہام کر دی اور نیکی بھی۔‘‘“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2650
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2651
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِيلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ عَمَلُهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِيلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ عَمَلُهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " .
علاء کے والد (عبدالرحمان) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ انسان ایک لمبی مدت تک اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے، پھر اس کے لیے اس کے عمل کا خاتمہ اہل جہنم کے سے عمل پر ہوتا ہے اور بلاشبہ ایک آدمی لمبا زمانہ اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے، پھر اس کے لیے اس کے عمل کا خاتمہ اہل جنت کے سے عمل پر ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2651
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 112
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " .
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص، جس طرح وہ لوگوں کو نظر آ رہا ہوتا ہے، اہل جنت کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے، لیکن (آخر کار) وہ اہل جہنم میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی، جس طرح سے وہ لوگوں کو نظر آ رہا ہوتا ہے اہل جہنم کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے لیکن (انجام کار) وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 112
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»