حدیث نمبر: 2638
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"روح جمع کیے گئے لشکر ہیں جن میں معرفت جان پہچان پیدا ہوگئی وہ باہم جڑ گئے، ان میں الفت پیدا ہوگئی اور جن میں اجنبیت رہی ان میں اختلاف پیدا ہو گیا۔"
حدیث نمبر: 2638
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، بِحَدِيثٍ يَرْفَعُهُ ، قَالَ : " النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ ، إِذَا فَقُهُوا وَالْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " .
یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً حدیث بیان کی، کہا: ”لوگ سونے چاندی کی کانوں کی طرح معدنیات کی کانیں ہیں، جو زمانہ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اگر دین کو سمجھ لیں تو زمانہ اسلام میں بھی اچھے ہیں۔ اور روحیں ایک ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں جو آپس میں (ایک جیسی صفات کی بنا پر) ایک دوسرے کو پہچاننے لگیں ان میں یکجائی پیدا ہو گئی اور جو (صفات کے اختلاف کی بنا پر) ایک دوسرے سے گریزاں رہیں، وہ باہم مختلف ہو گئیں۔“