کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: جب اللہ کریم کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام کو بھی اس سے محبت رکھنے کا حکم کرتے ہیں اور آسمان کے فرشتے بھی اس سے محبت کر تے ہیں۔
حدیث نمبر: 2637
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ ، فَقَالَ : إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ ، قَالَ : فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ، ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ ، فَيَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، قَالَ : ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ ، وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ ، فَيَقُولُ : إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْهُ ، قَالَ : فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ ، ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ ، قَالَ : فَيُبْغِضُونَهُ ثُمَّ تُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے جبریل ؑ کو طلب کر کے فرماتا ہے میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو،چنانچہ جبریل ؑ اس سے محبت کرتے ہیں پھر آسمان میں منادی کرتے ہیں کہ ا للہ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، سو آسمان والے بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر زمین میں بھی اس کے لیے قبولیت رکھدی جاتی ہے اور جب وہ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے جبریل کو طلب کر کے فرماتا ہے، میں فلاں سے بغض رکھتا ہوں تم بھی اس سے بغض رکھو، چنانچہ جبریل ؑ اس سے بغض رکھتا ہے تو پھر آسمان والوں میں اعلان کرتا ہے، اللہ فلاں سے بغض رکھتا ہے تو بھی اس سے بغض رکھو تو وہ اس سے بغض رکھتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین والوں میں بغض رکھ دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 2637
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ . ح وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْبُغْضِ .
عبدالعزیز دراوردی، علاء بن مسیب اور امام مالک بن انس سب نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، البتہ علاء بن مسیب کی حدیث میں بغض کا ذکر نہیں ہے (صرف محبت کرنے کی بات ہے۔)
حدیث نمبر: 2637
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : كُنَّا بِعَرَفَةَ ، فَمَرَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ عَلَى الْمَوْسِمِ ، فَقَامَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ لِأَبِي : يَا أَبَتِ ، إِنِّي أَرَى اللَّهَ يُحِبُّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قُلْتُ : لِمَا لَهُ مِنَ الْحُبِّ فِي قُلُوبِ النَّاسِ ، فَقَالَ : بِأَبِيكَ أَنْتَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ .
عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ ماجشون نے سہیل سے، انہوں نے ابوصالح سے روایت کی، کہا: ہم عرفہ میں تھے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ حج کے امیر تھے، لوگ کھڑے ہو کر انہیں دیکھنے لگے، میں نے اپنے والد سے کہا: ابا جان! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عمر بن عبدالعزیز سے محبت کرتا ہے، انہوں نے پوچھا: اس کا کیا سبب ہے؟ میں نے کہا: اس لیے کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پائی جاتی ہے، انہوں (ابوصالح) نے کہا: تیرا باپ قربان ہو! تم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے سہیل سے جریر کی روایت کردہ حدیث بیان کی۔