حدیث نمبر: 2613
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : مَرَّ بِالشَّامِ عَلَى أُنَاسٍ وَقَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ ، وَصُبَّ عَلَى رُءُوسِهِمُ الزَّيْتُ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قِيلَ : يُعَذَّبُونَ فِي الْخَرَاجِ ، فَقَالَ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ فِي الدُّنْيَا " .
حفص بن غیاث نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: شام میں ان کا کچھ لوگوں کے قریب سے گزر ہوا جن کو دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کے سروں پر زیتون کا تیل ڈالا گیا تھا، انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہو رہا ہے؟ بتایا گیا: ان کو خراج (نہ دینے) کی وجہ سے سزا دی جا رہی ہے تو (حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرنے کا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 2613
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَرَّ هِشَامُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْبَاطِ بِالشَّامِ ، قَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُهُمْ ؟ قَالُوا : حُبِسُوا فِي الْجِزْيَةِ ، فَقَالَ هِشَامٌ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا " .
حضرت ہشام رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ(عروہ رحمۃ اللہ علیہ) سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گزر شام کے کچھ کسانوں پر ہوا انہیں دھوپ میں کھڑے کیا گیا تھا توانھوں نے پوچھا یہ کیامعاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا گیا ہے انہیں جزیہ(کی وصولی) کی خاطر روکا گیا ہے چنانچہ حضرت ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتےہوئے سنا،"اللہ ان لوگوں کو عذاب دے گا،"جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔"
حدیث نمبر: 2613
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، قَالَ : وَأَمِيرُهُمْ يَوْمَئِذٍ عُمَيْرُ بْنُ سَعْدٍ عَلَى فِلَسْطِينَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَحَدَّثَهُ ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَخُلُّوا .
وکیع، ابومعاویہ اور جریر سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، اور جریر کی حدیث میں مزید یہ ہے، کہا: اور فلسطین پر ان دنوں ان لوگوں کا امیر عمیر بن سعد (انصاری) تھا تو وہ (ہشام رضی اللہ عنہ) ان کے پاس گئے، ان کو حدیث سنائی تو انہوں نے ان کے بارے میں حکم دیا، چنانچہ ان کو چھوڑ دیا گیا۔
حدیث نمبر: 2613
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ وَجَدَ رَجُلًا ، وَهُوَ عَلَى حِمْصَ يُشَمِّسُ نَاسًا مِنَ النَّبْطِ فِي أَدَاءِ الْجِزْيَةِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا " .
حضرت عروہ رحمۃ اللہ علیہ بن زبیر بیان کرتے ہیں، ہشام بن حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حمص کے گورنر کو دیکھا کہ اس نے جزیہ کی ادائیگی کے لیے کچھ کسانوں کا دھوپ میں کھڑا کیا ہوا ہے تو انھوں نے پوچھا یہ کیا سزا ہے؟میں نے کہ میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتےہوئے سنا،"اللہ ان لوگوں کو عذاب دے گا،"جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔"