حدیث نمبر: 2526
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ ، إِذَا فَقِهُوا وَتَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الْأَمْرِ أَكْرَهُهُمْ لَهُ ، قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ ، وَتَجِدُونَ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو معدنیات کی طرح پاؤ گے۔ تو جو لوگ جاہلیت کے دورمیں بہتر تھے وہ اسلام کےدورمیں بھی بہتر ہیں بشرط یہ کہ دین کی سوجھ بوجھ حاصل کرلیں،یا اس میں ملکہ پیدا کرلیں اور تم دین کے معاملہ یا حکومت واقتدار میں ان لوگوں کوبہتر پاؤگے،جواس کو سب سے زیادہ ناپسند کرتے تھے،جبکہ وہ اس میں داخل نہیں ہوئےتھے اور تم بدترین لوگ ان کوپاؤگے،جودورخے ہیں،جن کے دو چہرے ہیں،جو ان لوگوں کے پاس ایک چہرے سے آتے ہیں اور ان کے پاس دوسرے چہرے سے۔"
حدیث نمبر: 2526
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ ، وَالْأَعْرَجِ ، تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الشَّأْنِ أَشَدَّهُمْ لَهُ كَرَاهِيَةً حَتَّى يَقَعَ فِيهِ .
ابوزرعہ اور اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کو معدنیات کی کانوں کی طرح پاؤ گے۔۔۔“ (آگے اسی طرح ہے) جس طرح زہری کی حدیث ہے، البتہ ابوزرعہ اور اعرج کی روایت میں ہے: ”تم اس (دین کے) معاملے میں سب لوگوں سے بہتر انہیں پاؤ گے جو اس (دین) میں داخل ہونے سے پہلے سب لوگوں سے بڑھ کر اس کو ناپسند کرتے تھے۔“