مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2459
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَ سَهْلٌ وَمِنْجَابٌ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا سورة المائدة آية 93 ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قِيلَ لِي : أَنْتَ مِنْهُمْ " .
حضرت عبداللہ(بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کر تے ہیں،جب یہ آیت اتری،"ان لوگوں پر سے،جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے،کوئی گناہ نہیں ہے،اس سلسلہ میں جوانہوں نے کھایاپیا،جبکہ انہوں نے پرہیزگاری اختیار کی اور وہ ایمان لائے،(مائدہ آیت نمبر 93)آخر تک مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مجھے بتایاگیاہے کہ تو(عبداللہ) ان میں سے ہے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2459
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2460
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ ، فَكُنَّا حِينًا وَمَا نُرَى ابْنَ مَسْعُودٍ وَأُمَّهُ إِلَّا مِنْ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ كَثْرَةِ دُخُولِهِمْ وَلُزُومِهِمْ لَهُ " .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،میں اور میرا یمن سے آئے تو کچھ عرصہ ہم یہ سمجھتے رہے کہ ابن مسعود اور اس کی والدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے افراد ہیں،کیونکہ وہ کثرت کے ساتھ آپ کے گھر جاتےتھے اور آپ کے ساتھ رہتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2460
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2460
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْأَسْوَدَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى ، يَقُولُ : لَقَدْ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
یوسف نے ابواسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے اسود کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں نے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں اور میرا بھائی یمن سے آئے، پھر اسی کے مانند بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2460
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2460
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أُرَى أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ ، أَوْ مَا ذَكَرَ مِنْ نَحْوِ هَذَا .
سفیان نے ابواسحاق سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں یہ سمجھتا تھا کہ حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ اہل بیت میں سے ہیں یا انہوں نے اسی طرح (کے الفاظ میں) بیان کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2460
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2461
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ ، قَالَ : " شَهِدْتُ أَبَا مُوسَى ، وَأَبَا مَسْعُودٍ حِينَ مَاتَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ أَتُرَاهُ تَرَكَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، فَقَالَ : إِنْ قُلْتَ ذَاكَ إِنْ كَانَ لَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا وَيَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا " .
انھوں نے کہا: جس وقت حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا میں نے اس وقت حضرت ابو موسیٰ اور حضرت مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں حاضری دی تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے پو چھا:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بعد کو ئی ایسا شخص چھوڑ گئے ہیں جو ان جیسا ہو؟انھوں نے جواب دیا: جب آپ نے یہ بات کہہ دی تو حقیقت یہ ہے کہ انھیں اس وقت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضری کی اجا زت ہو تی تھی،جب ہمیں روک لیا جا تاتھا،اور وہ اس وقت بھی حاضر رہتے تھےجب ہم مو جو دنہ ہو تے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2461
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2461
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ : " كُنَّا فِي دَارِ أَبِي مُوسَى مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُمْ يَنْظُرُونَ فِي مُصْحَفٍ ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالُ أَبُو مَسْعُودٍ ، مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَرَكَ بَعْدَهُ أَعْلَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْقَائِمِ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَمَا لَئِنْ ، قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ كَانَ يَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا وَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا " .
قطبہ بن عبدالعزیز نے اعمش سے، انہوں نے مالک بن حارث سے، انہوں نے ابواحوص سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے چند ساتھیوں (شاگردوں) کے ہمراہ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے۔ وہ سب ایک مصحف (قرآن مجید کا نسخہ) دیکھ رہے تھے، اس اثنا میں حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد اس شخص سے، جو (ابھی) اٹھا ہے، زیادہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کو جاننے والا کوئی اور آدمی چھوڑا ہو! حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ نے یہ کہا ہے تو (اس کی وجہ یہ ہے کہ) یہ اس وقت حاضر رہتے جب ہم موجود نہ ہوتے اور انہیں (اس وقت بھی) حاضری کی اجازت دی جاتی جب ہمیں اجازت نہ ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2461
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2461
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا مُوسَى ، فَوَجَدْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، وَأَبَا مُوسَى . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ حُذَيْفَةَ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَحَدِيثُ قُطْبَةَ أَتَمُّ وَأَكْثَرُ .
ابوعبیدہ نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب سے روایت کی، کہا: میں حضرت حذیفہ اور ابوموسی رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اور (یہی) حدیث بیان کی۔ قطبہ کی حدیث مکمل اور زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2461
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2462
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 161 ، ثُمَّ قَالَ عَلَى : قِرَاءَةِ مَنْ تَأْمُرُونِي ، أَنْ أَقْرَأَ ، فَلَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً ، وَلَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَعْلَمُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا أَعْلَمُ مِنِّي لَرَحَلْتُ إِلَيْهِ ، قَالَ شَقِيقٌ : فَجَلَسْتُ فِي حَلَقِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرُدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَلَا يَعِيبُهُ " .
شقیق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے پڑھا: «وَمَنْ یَغْلُلْ یَأْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ» (سورۃ آل عمران: 161) پھر کہا کہ تم مجھے کس شخص کی قرآت کی طرح قرآن پڑھنے کا حکم کرتے ہو؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ستر سے زیادہ سورتیں پڑھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سب میں اللہ کی کتاب کو زیادہ جانتا ہوں اور اگر میں جانتا کہ کوئی مجھ سے زیادہ اللہ کی کتاب کو جانتا ہے تو میں اس شخص کی طرف سفر اختیار کرتا۔ شفیق نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے حلقوں میں بیٹھا ہوں، میں نے کسی کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس بات کو رد کرتے یا ان پر عیب لگاتے نہیں سنا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2462
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2463
أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، مَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ سُورَةٌ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ حَيْثُ نَزَلَتْ ، وَمَا مِنْ آيَةٍ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ فِيمَا أُنْزِلَتْ ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا هُوَ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ مِنِّي ، تَبْلُغُهُ الْإِبِلُ لَرَكِبْتُ إِلَيْهِ "
مسروق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کتاب اللہ کی کوئی سورت نہیں مگر میں اس کے متعلق جانتا ہوں کہ وہ کب نازل ہوئی، اور کتاب اللہ کی کوئی آیت نہیں مگر مجھے علم ہے کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی، اور اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والا ہے اور اونٹ اس تک پہنچ سکتے ہیں تو میں (اونٹوں پر سفر کر کے) اس کے پاس جاؤں (اور قرآن کا علم حاصل کروں)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2463
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2464
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : كُنَّا نَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، فَنَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ عِنْدَهُ : فَذَكَرْنَا يَوْمًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : لَقَدْ ذَكَرْتُمْ رَجُلًا لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ شَيْءٍ ، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِهِ ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ " .
حضرت مسروق رحمۃ ا للہ علیہ بیان کرتے ہیں،ہم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاتے تھے اور ان کے ساتھ(علمی) گفتگو کیاکرتے تھے۔اور ابن نمیر نے کہا:ان کے پاس(گفتگو کیا کرتے تھے)چنانچہ ایک دن ہم نے(ان کے سامنے)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کیا تو انھوں نےکہا:تم نے مجھ سے اس شخص کا ذکر کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سننے کے بعد سے مسلسل اس سے محبت کرتا ہوں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"قرآن چار آدمیوں سے سیکھو:ابن ام عبد(حضرت ابن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔آپ نے ابتداء ان سے کی۔معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ابن ابی کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ،اور ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےآزاد کردہ غلام سالم سے۔"بعض راویوں نے نتحدث الیہ کی جگہ نتحدث عندہ کہا مقصد ایک ہی ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2464
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2464
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَذَكَرْنَا حَدِيثًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ شَيْءٍ ، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ : مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِه ، وَمِنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَمِنْ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَمِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ " ، وَحَرْفٌ لَمْ يَذْكُرْهُ زُهَيْرٌ ، قَوْلُهُ يَقُولُهُ .
قتیبہ بن سعید، زہیر بن حرب اور عثمان بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابووائل (شقیق) سے، انہوں نے مسروق سے روایت کی، مسروق کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس تھے کہ ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ تم نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جس سے میں (اس وقت سے) محبت کرتا ہوں جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے۔ میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ”تم قرآن چار آدمیوں سے سیکھو: ابن ام عبد(یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود) سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی سے شروع کیا اور ابی بن کعب سے اور سالم مولی ابوحذیفہ سے اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے۔“ اور زہیر بن حرب نے (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی طرف سے) جو ایک لفظ بیان نہیں کیا وہ ہے: جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2464
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2464
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ ، وَوَكِيعٍ ، في رواية أبي بكر ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَدَّمَ مُعَاذًا قَبْلَ أُبَيٍّ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ أُبَيٌّ قَبْلَ مُعَاذٍ .
امام صاحب یہی روایت اپنے دواساتذہ،ابوبکر بن ابی شیبہ اورابوکریب سے بیان کرتے ہیں،ابوبکرنے اپنی روایت میں ابی سے پہلے معاذ کا نام لیا ہے اور ابوکریب نے معاذ سے پہلے ابی کانام لیاہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2464
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2464
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِمْ ، وَاخْتَلَفَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، فِي تَنْسِيقِ الْأَرْبَعَةِ .
امام صاحب یہی روایت اپنے تین اساتذہ سے بیان کرتے ہیں،لیکن چاروں ناموں کی ترتیب میں اختلاف پایاجاتا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2464
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2464
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : ذَكَرُوا ابْنَ مَسْعُودٍ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَقَالَ : ذَاكَ رَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ " .
حضرت مسروق رحمۃ ا للہ علیہ بیان کرتے ہیں،لوگوں نےحضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا: وہ ایسے ہیں جن سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (ایک بات) سننے کے بعد سے مسلسل محبت کرتا آیا ہوں،آپ نے فرمایا تھا؛"چارآدمیوں سے قرآن پڑھنا سیکھو:ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ابوحذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2464
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2464
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ، قَالَ شُعْبَةُ : بَدَأَ بِهَذَيْنِ ، لَا أَدْرِي بِأَيِّهِمَا بَدَأَ .
ہمیں عبیداللہ بن معاذ نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی اور کچھ مزید بیان کیا، شعبہ نے کہا: آپ نے ان دونوں کے نام سے ابتداء کی، مجھے یاد نہیں کہ ان دونوں میں سے کس کا نام پہلے لیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2464
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔