کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ماں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2455
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ عَلَى أَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِ ، إِلَّا أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَرْحَمُهَا ، قُتِلَ أَخُوهَا مَعِي " .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات اور حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوا اور کسی عورت کے گھر نہیں جاتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف لے جاتے تھے،اس کے متعلق آپ سے بات کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مجھے اس پر رحم آتا ہے،اس کا بھائی میرے ساتھ (لڑتا ہوا) شہید ہوا۔"
حدیث نمبر: 2456
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْفَةً ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذِهِ الْغُمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں جنت میں داخل ہواتو میں نے آہٹ سنی،میں نے پوچھا،یہ کون ہے؟انہوں(فرشتوں) نے کہا،یہ انس بن مالک کی ماں"غميصاء" بنت ملحان ہے۔
حدیث نمبر: 2457
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُرِيتُ الْجَنَّةَ ، فَرَأَيْتُ امْرَأَةَ أَبِي طَلْحَةَ ، ثُمَّ سَمِعْتُ خَشْخَشَةً أَمَامِي ، فَإِذَا بِلَالٌ " .
محمد بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جنت دکھائی گئی، میں نے وہاں ابوطلحہ کی بیوی (ام سلیم رضی اللہ عنہا) کو دیکھا، پھر میں نے اپنے آگے کسی کے چلنے کی آہٹ سنی، تو وہ بلال تھے۔“