حدیث نمبر: 2453
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَنَاوَلَتْهُ إِنَاءً فِيهِ شَرَابٌ ، قَالَ : فَلَا أَدْرِي أَصَادَفَتْهُ صَائِمًا ، أَوْ لَمْ يُرِدْهُ ، فَجَعَلَتْ تَصْخَبُ عَلَيْهِ وَتَذَمَّرُ عَلَيْهِ " .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایم ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر کی طرف چلے تو میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا،اس نے آپ کوبرتن پیش کیا،جس میں کوئی پینےکی چیز تھی،مجھے معلوم نہیں،آپ روزے سے تھے،یاآپ کو پینے کی خواہش نہ تھی،(آپ نے واپس کردیا)تو وہ چلانے لگیں اور آپ پر غصہ نکالنے لگیں،"تذمر عليه"آپ سے غصہ نکالنے لگیں۔
حدیث نمبر: 2454
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ : " انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ ، نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ ، فَقَالَا لَهَا : مَا يُبْكِيكِ ؟ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : مَا أَبْكِي أَنْ لَا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ ، فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا " .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ سیدنا ابوبکر ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا عمر ؓ سے کہا کہ ہمارے ساتھ ام ایمن کی ملاقات کے لئے چلو ہم اس سے ملیں گے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے کو جایا کرتے تھے۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں۔ دونوں ساتھیوں نے کہا کہ تم کیوں روتی ہو؟ اللہ جل جلالہ کے پاس اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو سامان ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بہتر ہے۔ ام ایمن ؓ نے کہا کہ میں اس لئے نہیں روتی کہ یہ بات نہیں جانتی بلکہ اس وجہ سے روتی ہوں کہ اب آسمان سے وحی کا آنا بند ہو گیا۔ ام ایمن کے اس کہنے سے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر ؓ کو بھی رونا آیا پس وہ بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔