حدیث نمبر: 2415
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ ، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " .
سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خندق کے دن لوگوں کو پکارا: (کون ہے جو ہمیں دشمنوں کے اندر کی خبر دے گا؟) تو زبیر رضی اللہ عنہ آگے آئے (کہا: میں لاؤں گا) پھر آپ نے ان کو (دوسری بار) پکارا تو زبیر رضی اللہ عنہ ہی آگے بڑھے پھر ان کو (تیسری بار) پکارا تو بھی زبیر رضی اللہ عنہ ہی آگے بڑھے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا حواری (خاص مددگار) ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔“
حدیث نمبر: 2415
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَنْ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
یہی روایت امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2416
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما ، عَنْ ابْنِ مُسْهِرٍ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : " كُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ مَعَ النِّسْوَةِ فِي أُطُمِ حَسَّانَ ، فَكَانَ يُطَأْطِئُ لِي مَرَّةً ، فَأَنْظُرُ وَأُطَأْطِئُ لَهُ مَرَّةً ، فَيَنْظُرُ فَكُنْتُ أَعْرِفُ أَبِي ، إِذَا مَرَّ عَلَى فَرَسِهِ فِي السِّلَاحِ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ " ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي ، فَقَالَ : وَرَأَيْتَنِي يَا بُنَيَّ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ أَبَوَيْهِ ، فَقَالَ : فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي .
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں اور حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ جنگ خندق کے دن عورتوں کے ساتھ حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے قلعے میں تھے، کبھی وہ میرے لیے کمر جھکا کر کھڑے ہو جاتے اور میں (ان کی کمر پر کھڑا ہو کر مسلمانوں کے لشکر کو) دیکھ لیتا، کبھی میں کمر جھکا کر کھڑا ہو جاتا اور وہ دیکھ لیتے۔ میں نے اس وقت اپنے والد کو پہچان لیا تھا جب وہ اپنے گھوڑے پر (سوار ہو کر) بنو قریظہ کی طرف جانے کے لیے گزرے۔ (ہشام بن عروہ نے) کہا: مجھے عبداللہ بن عروہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے (روایت کرتے ہوئے) بتایا کہا: میں نے یہ بات اپنے والد کو بتائی تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! تم نے مجھے دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کا ایک ساتھ ذکر کرتے ہوئے کہا: ”میرے ماں باپ تم پر قربان!“
حدیث نمبر: 2416
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ كُنْتُ أَنَا ، وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْأُطُمِ الَّذِي فِيهِ النِّسْوَةُ يَعْنِي نِسْوَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُرْوَةَ ، فِي الْحَدِيثِ ، وَلَكِنْ أَدْرَجَ الْقِصَّةَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ .
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،جب غزوہ خندق پیش آیا،میں اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس قلعے میں تھے جس میں عورتیں یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تھیں اس کے بعد ابن مسہر کی اسی سند کے ساتھ روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور حدیث (کی سند) میں عبداللہ بن عروہ کا ذکر نہیں کیا لیکن (ان کا بیان کیا ہوا سارا)قصہ اس روایت میں شامل کردیا جو ہشام نے اپنے والد سے اور انھوں نے (عبداللہ) ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔
حدیث نمبر: 2417
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ ، أَوْ صِدِّيقٌ ، أَوْ شَهِيدٌ " .
عبدالعزیز بن محمد نے سہیل (بن ابی صالح) سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حراء پہاڑ پر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، تو چٹان (جس پر یہ سب ہیں) ہلنے لگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ، تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے علاوہ اور کوئی نہیں۔“
حدیث نمبر: 2417
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى جَبَلِ حِرَاءٍ ، فَتَحَرَّكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْكُنْ حِرَاءُ ، فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ ، أَوْ صِدِّيقٌ ، أَوْ شَهِيدٌ ، وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ .
یحییٰ بن سعید نے سہیل بن ابی صالح سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہ حراء پر تھے۔ وہ ہلنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہر جا، تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے سوا اور کوئی نہیں۔“ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور (آپ کے ساتھ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 2418
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدَةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : " أَبَوَاكَ وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ " .
ہشام اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں،مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا،تیرے باپ نانا،اللہ کی قسم،ان لوگوں میں سے ہیں،جنھوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) کی بات کومانا۔"
حدیث نمبر: 2418
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ تَعْنِي أَبَا بَكْرٍ ، وَالزُّبَيْرَ .
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں،اس میں یہ اضافہ ہے،ابواک سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مراد،ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورزبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 2418
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : " كَانَ أَبَوَاكَ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ " .
حضرت عروہ رحمۃ ا للہ علیہ بیان کرتے ہیں،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے فرمایا،تیرا باپ،نانا،ان لوگوں میں داخل تھے،جنہوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے حکم کو قبول کیا۔