حدیث نمبر: 2410
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَرِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَالَ : لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ ، قَالَتْ : وَسَمِعْنَا صَوْتَ السِّلَاحِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْتُ أَحْرُسُكَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ " .
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو نہ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش! میرے ساتھیوں میں سے کوئی صالح شخص آج پہرہ دے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اچانک ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کا پہرہ دینے کے لیے آیا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی۔
حدیث نمبر: 2410
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً ، فَقَالَ : لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ ، قَالَتْ : فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ سَمِعْنَا خَشْخَشَةَ سِلَاحٍ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ ، فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ نَامَ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ فَقُلْنَا مَنْ هَذَا .
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ایک رات مدینہ کے راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی اور نیند اچٹ ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش میرے اصحاب میں سے کوئی نیک بخت رات بھر میری حفاظت کرے۔“ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اتنے میں ہمیں ہتھیاروں کی آواز معلوم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے؟“ آواز آئی کہ یا رسول اللہ! سعد بن ابی وقاص ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیوں آئے؟“ وہ بولے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے نفس میں ڈر ہوا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرنے کو آیا ہوں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی اور پھر سو رہے۔
حدیث نمبر: 2410
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَمِعْتُ يَحْيَي بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : أَرِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ .
عبدالوہاب نے کہا: میں نے یحییٰ بن سعید کو کہتے ہوئے سنا کہا: میں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو نہ سکے۔ (آگے) سلیمان بن بلال کی حدیث کے مانند (ہے)۔
حدیث نمبر: 2411
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ : " مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، فَإِنَّهُ جَعَلَ يَقُولُ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ : ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " .
منصور بن ابی مزاحم نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن شداد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا، کہ حضرت سعد بن مالک (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے لیے اکٹھا اپنے ماں باپ کا نام نہیں لیا۔ جنگ احد کے دن آپ بار بار ان سے کہہ رہے تھے: ”تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔“
حدیث نمبر: 2411
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ . ح ، وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍكُلُّهُمْ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
شعبہ، وکیع اور مسعر، سب نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے عبداللہ بن شداد سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔
حدیث نمبر: 2412
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَي وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : " لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ " .
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے دن میرے لیے ایک ساتھ اپنے ماں باپ کا نام نہیں لیا۔
حدیث نمبر: 2412
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ كِلَاهُمَا ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
لیث بن سعد اور عبدالوہاب دونوں نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 2412
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَمَعَ لَهُ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَحْرَقَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، قَالَ : فَنَزَعْتُ لَهُ بِسَهْمٍ لَيْسَ فِيهِ نَصْلٌ فَأَصَبْتُ جَنْبَهُ ، فَسَقَطَ فَانْكَشَفَتْ عَوْرَتُهُ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى نَوَاجِذِهِ " .
عامر بن سعد نے اپنے والد سے روایت کی، کہ جنگ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک ساتھ اپنے ماں باپ کا نام لیا۔ مشرکوں میں سے ایک شخص نے مسلمانوں کو جلا ڈالا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد سے کہا: ”تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں!“ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس کے لیے (ترکش سے) ایک تیر کھینچا، اس کے پرَ ہی نہیں تھے۔ میں نے وہ اس کے پہلو میں مارا تو وہ گر گیا اور اس کی شرمگاہ (بھی) کھل گئی تو (اس کے اس طرح گرنے پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ مجھے آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلا کر ہنسے۔)
حدیث نمبر: 1748
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ نَزَلَتْ فِيهِ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ ، قَالَ : " حَلَفَتْ أُمُّ سَعْدٍ أَنْ لَا تُكَلِّمَهُ أَبَدًا حَتَّى يَكْفُرَ بِدِينِهِ ، وَلَا تَأْكُلَ وَلَا تَشْرَبَ ، قَالَتْ : زَعَمْتَ أَنَّ اللَّهَ وَصَّاكَ بِوَالِدَيْكَ ، وَأَنَا أُمُّكَ وَأَنَا آمُرُكَ بِهَذَا ، قَالَ : مَكَثَتْ ثَلَاثًا حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهَا مِنَ الْجَهْدِ ، فَقَامَ ابْنٌ لَهَا ، يُقَالُ لَهُ عُمَارَةُ ، فَسَقَاهَا فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى سَعْدٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ هَذِهِ الْآيَةَ : وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا سورة العنكبوت آية 8 وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي سورة لقمان آية 15 وَفِيهَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا سورة لقمان آية 15 ، قَالَ : وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنِيمَةً عَظِيمَةً ، فَإِذَا فِيهَا سَيْفٌ ، فَأَخَذْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : نَفِّلْنِي هَذَا السَّيْفَ ، فَأَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتَ حَالَهُ ، فَقَالَ : رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أُلْقِيَهُ فِي الْقَبَضِ لَامَتْنِي نَفْسِي ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : أَعْطِنِيهِ ، قَالَ فَشَدَّ لِي صَوْتَهُ : رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ ، قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ سورة الأنفال آية 1 ، قَالَ : وَمَرِضْتُ فَأَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَانِي ، فَقُلْتُ : دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ ، قَالَ : فَأَبَى ، قُلْتُ : فَالنِّصْفَ ، قَالَ : فَأَبَى ، قُلْتُ : فَالثُّلُثَ ، قَالَ : فَسَكَتَ ، فَكَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا ، قَالَ : وَأَتَيْتُ عَلَى نَفَرٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، وَالْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالُوا : تَعَالَ نُطْعِمْكَ وَنَسْقِكَ خَمْرًا ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُمْ فِي حَشٍّ ، وَالْحَشُّ الْبُسْتَانُ ، فَإِذَا رَأْسُ جَزُورٍ مَشْوِيٌّ عِنْدَهُمْ وَزِقٌّ مِنْ خَمْرٍ ، قَالَ : فَأَكَلْتُ وَشَرِبْتُ مَعَهُمْ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ الْأَنْصَارَ ، وَالْمُهَاجِرِينَ عِنْدَهُمْ ، فَقُلْتُ : الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : فَأَخَذَ رَجُلٌ أَحَدَ لَحْيَيِ الرَّأْسِ ، فَضَرَبَنِي بِهِ فَجَرَحَ بِأَنْفِي ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ يَعْنِي نَفْسَهُ شَأْنَ الْخَمْرِ : إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ سورة المائدة آية 90 .
حضرت مصعب اپنے باپ سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ صورت حال یہ ہے کہ قرآن مجید میں ان کے حوالے سے کئی آیات نازل ہوئیں کہا: ان کی والدہ نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک ان سے بات نہیں کریں گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین (اسلام) سے کفر کریں اور نہ ہی کچھ کھا ئیں گی اور نہ پئیں گی ان کا خیال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کی بات مانو اور میں تمھا ری ماں ہوں لہٰذا میں تمھیں اس دین کو چھوڑ دینے کا حکم دیتی ہوں۔کہا: وہ تین دن اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ کمزوری سے بے ہوش ہو گئیں تو ان کا بیٹا جو عمارہ کہلا تا تھا کھڑا ہوا اور انھیں پانی پلا یا۔(ہوش میں آکر) انھوں نے سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بددعائیں دینی شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ آیت نازل فر ئی:" ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے(عنکبوت،آیت 8) اور اگر وہ دونوں یہ کو شش کریں کہ تم میرے ساتھ شریک ٹھہراؤ جس بات کو تم (درست ہی) نہیں جانتے تو تم ان کی اطاعت نہ کرواور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔(سورہ لقمان آیت نمبر 14۔15)حضرت سعد بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ غنیمت حاصل ہوئی۔ اس میں ایک تلوار بھی تھی۔میں نے وہ اٹھا لی اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور عرض کی: (میرےحصے کے علاوہ) یہ تلوارمزید مجھے دے دیں،میری حالت کا تو آپ کو علم ہے ہی آپ نے فر یا:" اسے وہیں رکھ دو جہاں سے تم نے اٹھائی ہے۔"میں چلا گیا جب میں نے اسے مقبوضہ غنائم میں واپس پھینکنا چا ہا تو میرے دل نے مجھے ملا مت کی(کہ واپس کیوں کر رہے ہو؟)تو میں آپ کے پاس واپس آگیا۔میں نے کہا: یہ مجھے عطا کر دیجئے،آپ نے میرے لیے اپنی آواز کو سخت کیا اور فر یا:" جہاں سے اٹھا ئی ہے وہیں واپس رکھ دو۔"کہا: اس پر اللہ عزوجل نے یہ نازل فر یا:" یہ لو گ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔(سورۃ انفال آیت نمبر1)حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،میں بیمار ہو گیا۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا۔ آپ میرے پاس تشریف لے آئے۔میں نے کہا: مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا (سارا) مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں۔کہا:آپ نے انکا ر فر مادیا۔میں نے کہا:تو آدھا؟ آپ اس پر بھی نہ مانے،میں نے کہا: تو پھر تیسرا حصہ؟اس پر آپ خاموش ہوگئے۔اس کے بعد تیسرے حصے کی وصیت جائز ہو گئی۔ کہا: اور (ایک اور موقع بھی آیا) میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا انھوں نے کہا:آؤ ہم تمھیں کھانا کھلا ئیں اور شراب پلا ئیں اور یہ شراب حرام کیے جا نے سے پہلے کی بات ہے۔کہا: میں کھجوروں کے ایک جھنڈکے درمیان خالی جگہ میں ان کے پاس پہنچا دیکھا تو اونٹ کا ایک بھنا ہوا سران کے پاس تھا اور شراب کی ایک مشک تھی۔میں نے ان کے ساتھ کھا یا،شراب پی، پھر ان کے ہاں انصار اور مہاجرین کا ذکر آگیا۔میں نے(شراب کی مستی میں)کہہ دیا: مہاجرین انصار سے بہتر ہیں تو ایک آدمی نے(اونٹ کا) ایک جبڑا پکڑا،اس سے مجھے ضرب لگا ئی اور میری ناک زخمی کردی،میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ (ساری)بات بتا ئی تو اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں۔۔۔ان کی مراد اپنے آپ سے تھی۔۔۔شراب کے متعلق (یہ آیت) نازل فر ئی:"بے شک شراب،جوا بت اور پانسے شیطان کے گندے کام ہیں۔"(مائدہ:آیت نمبر90)
حدیث نمبر: 1748
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : أُنْزِلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ، قَالَ : فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَرُوا فَاهَا بِعَصًا ثُمَّ أَوْجَرُوهَا ، وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا ، فَضَرَبَ بِهِ أَنْفَ سَعْدٍ فَفَزَرَهُ ، وَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا .
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے مصعب بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں پھر زہیر سے سماک کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور شعبہ کی حدیث میں (محمد بن جعفر نے) مزید یہ بیان کیا کہ لوگ جب میری ماں کو کھانا کھلانا چاہتے تو لکڑی سے اس کا منہ کھولتے، پھر اس میں کھانا ڈالتے، اور انہی کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پر ہڈی ماری اور ان کی ناک پھاڑ دی، حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پھٹی ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 2413
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، فِيَّ نَزَلَتْ : وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ سورة الأنعام آية 52 ، قَالَ : " نَزَلَتْ فِي سِتَّةٍ أَنَا ، وَابْنُ مَسْعُودٍ مِنْهُمْ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ قَالُوا لَهُ تُدْنِي هَؤُلَاءِ " .
سفیان نے مقدام بن شریح سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے (آیت) «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ» ”اور ان (مسکین مومنوں) کو خود سے دور نہ کریں جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں“ کے بارے میں روایت کی، کہا: یہ چھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ میں اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان میں شامل تھے، مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا: ان لوگوں کو اپنے قریب نہ کریں۔
حدیث نمبر: 2413
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ نَفَرٍ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اطْرُدْ هَؤُلَاءِ لَا يَجْتَرِئُونَ عَلَيْنَا ، قَالَ : وَكُنْتُ أَنَا ، وَابْنُ مَسْعُودٍ ، وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ ، وَبِلَالٌ ، وَرَجُلَانِ لَسْتُ أُسَمِّيهِمَا ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقَعَ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ سورة الأنعام آية 52 .
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم چھ شخص تھے تو مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:"ان لوگوں کو بھگا دیجیے، یہ ہمارے سامنے آنے کی جرات نہ کریں۔(حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا: (یہ لوگ تھے) میں ابن مسعود ہذیل کا ایک شخص بلال اور دواور شخص جن کا نام میں نہیں لو ں گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو اللہ نے چاہا سوآیا،آپ نے اپنے دل میں کچھ کہا: بھی، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی:" اور ان لوگوں کو دورنہ کیجیے جو صبح،شام اپنے رب کو پکا رتے ہیں صرف اس کی رضا چاہتے ہیں۔(انعام آیت نمبر 52)
حدیث نمبر: 2414
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : " لَمْ يَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ طَلْحَةَ ، وَسَعْدٍ " ، عَنْ حَدِيثِهِمَا " .
معتمر کے والد سلیمان نے کہا: میں نے حضرت ابوعثمان سے سنا، کہا: ان ایام میں سے ایک میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کیا تو جنگ کے دوران میں آپ کے ساتھ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہا تھا۔ (یہ میں) ان دونوں کی بتائی ہوئی بات سے (بیان کر رہا ہوں)۔