حدیث نمبر: 2389
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى سَرِيرِهِ ، فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ ، وَيُثْنُونَ ، وَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ ، قَالَ : فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا بِرَجُلٍ قَدْ أَخَذَ بِمَنْكِبِي مِنْ وَرَائِي ، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ ، فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ ، وَقَالَ : مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ ، وَذَاكَ أَنِّي كُنْتُ أُكَثِّرُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : جِئْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، فَإِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَوْ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَهُمَا " .
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کے جسد خاکی)کو چار پائی پر رکھا گیا تو (جنازہ)اٹھا نے سے پہلے لوگوں نے چاروں طرف سے ان کو گھیر لیا۔وہ دعائیں کر رہے تھے تعریف کر رہے تھے دعائے رحمت کر رہے تھے۔میں بھی ان میں شامل تھا تو مجھے اچانک کسی ایسے شخص نے چونکا دیا جس نے پیچھے سے (آکر) میرا کندھا تھا۔میں نے مڑ کر دیکھا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کی اور کہا: آپ نے کو ئی ایسا آدمی پیچھے نہ چھوڑا جو آپ سے بڑھ کر اس بات میں مجھے محبوب ہو کہ میں اللہ سے اس کے جیسے عملوں کے ساتھ ملوں۔اللہ کی قسم!مجھے۔ہمیشہ سے یہ یقین تھا کہ اللہ تعا لیٰ آپ کو اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناکرتا تھا،آپ فر یا کرتے تھے، "میں ابو بکر اور عمر آئے۔میں ابو بکر اور عمر اندر گئے،میں ابو بکر اور عمر باہر نکلے۔"مجھے امید تھی بلکہ مجھے ہمیشہ سے یقین رہا کہ اللہ آپ کو ان دونوں کے ساتھ رکھے گا۔
حدیث نمبر: 2389
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اوراستاد سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2390
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد واللفظ لهم ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ ، وَمَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ ، قَالُوا : مَاذَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : الدِّينَ " .
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:" میں سویا ہوا تھا: میں نے دیکھا کہ لو گ میرے سامنے لا ئے جا رہے ہیں۔انھوں نے قمیص پہنی ہو ئی ہیں،کسی کی قمیص چھا تی تک پہنچتی ہے کسی کی اس سے نیچے تک پہنچتی ہے اور عمر بن خطاب گزرے تو ان پر جو قمیص ہے وہ اسے گھسیٹ رہے ہیں۔ "لوگوں نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے اس کی کیا تعبیر فر ئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:"دین۔"
حدیث نمبر: 2391
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، إِذْ رَأَيْتُ قَدَحًا أُتِيتُ بِهِ فِيهِ لَبَنٌ ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي فِي أَظْفَارِي ، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالُوا : فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : الْعِلْمَ " .
یونس نے کہا: ابن شہاب نے انہیں بتایا، انہوں نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب سے روایت کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک پیالہ دیکھا جو میرے پاس لایا گیا۔ اس میں دودھ تھا۔ میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ مجھے محسوس ہوا کہ سیرابی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے۔ پھر اپنا بچا ہوا دودھ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔“ (حاضرین نے) کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی؟ آپ نے فرمایا: ”علم۔“
حدیث نمبر: 2391
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد كلاهما ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ .
یہی روایت امام اپنے تین اور اساتذہ کی دوسندوں سے کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2392
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ ، فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ضَعْفٌ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا ، فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ " .
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سعید بن مسیب نے انہیں خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو ایک کنویں پر دیکھا، اس پر ایک ڈول تھا، میں نے اس میں جتنا اللہ نے چاہا پانی نکالا، پھر ابن ابی قحافہ نے اس سے ایک یا دو ڈول نکالے، اللہ ان کی مغفرت کرے! ان کے پانی نکالنے میں کچھ کمزوری تھی، پھر وہ ایک بڑا ڈول بن گیا تو عمر بن خطاب نے اسے پکڑ لیا، چنانچہ میں نے لوگوں میں کوئی ایسا عبقری (غیر معمولی صلاحیت کا مالک) نہیں دیکھا جو عمر بن خطاب کی طرح سے پانی نکالے حتی کہ لوگ اونٹوں کو (سیراب کر کے گھاٹ سے باہر) آرام کرنے کی جگہ پر لے گئے۔“
حدیث نمبر: 2392
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ .
صالح نے یونس کی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 2392
حَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ : قَالَ الْأَعْرَجُ ، وَغَيْرُهُ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ ، يَنْزِعُ بِنَحْوِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ .
صالح نے کہا: اعرج وغیرہ نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ابن ابی قحافہ کو ڈول کھینچتے دیکھا۔“ زہری کی حدیث کی طرح۔
حدیث نمبر: 2392
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، أُرِيتُ أَنِّي أَنْزِعُ عَلَى حَوْضِي أَسْقِي النَّاسَ ، فَجَاءَنِي أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرَوِّحَنِي ، فَنَزَعَ دَلْوَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، فَجَاءَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَأَخَذَ مِنْهُ ، فَلَمْ أَرَ نَزْعَ رَجُلٍ قَطُّ أَقْوَى مِنْهُ ، حَتَّى تَوَلَّى النَّاسُ وَالْحَوْضُ مَلْآنُ يَتَفَجَّرُ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:" میں سویا ہوا تھا تو مجھے خواب میں دکھا یا گیا کہ میں اپنے حوض سے پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہا ہوں،پھر ابو بکر آئے اور انھوں نے مجھے آرام پہنچانے کے لیے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا،انھوں نے دو ڈول پانی نکا لا،ان کے پانی نکا لنے میں کچھ کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے!پھر ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو انھوں نے ان سے ڈول لے لیا، میں نے کسی شخص کو ان سے زیادہ قوت کے ساتھ ڈول کھینچتےنہیں دیکھا،یہاں تک کہ لوگ(سیراب ہو کر) چلے گئے۔اور حوض پوری طرح بھراہوا تھا (اس میں سے) پانی امڈ رہا تھا۔"
حدیث نمبر: 2393
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُرِيتُ كَأَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيبٍ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا ، أَوْ ذَنُوبَيْنِ ، فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِيفًا ، وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَغْفِرُ لَهُ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَاسْتَقَى فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرْيَهُ ، حَتَّى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا الْعَطَنَ " .
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:"مجھے دکھایاگیا کہ میں ایک کنویں پر چرخی کے ڈول کو کھینچ رہا ہوں تو ابوبکر آگئے اور انہوں نے ایک دو ڈول کھینچے اور انہوں نے کمزوری کے ساتھ ڈول،کھینچا،اللہ تبارک وتعالیٰ اسے معاف فرمائے،پھرعمرآگئے،انہوں نے پانی نکالنا شروع کیا اور ڈول بہت بڑا ڈول بن گیا،میں نے کوئی ماہراور عبقری انسان اس جیسا کام سرانجام دیتے نہیں دیکھا،حتیٰ کہ لوگ سیراب ہوگئے اور اپنے اونٹوں کو پانی پلاکر ان کی جگہوں پر بٹھادیا،"
حدیث نمبر: 2393
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
موسیٰ بن عقبہ نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے والد سے حضرت ابوبکر اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب ان سب کی حدیث کی طرح روایت کیا۔
حدیث نمبر: 2394
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَا جَابِرًا يُخْبِرُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ . حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ وَعَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَرَأَيْتُ فِيهَا دَارًا أَوْ قَصْرًا ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ ، فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ ، فَبَكَى عُمَرُ ، وَقَالَ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَوَ عَلَيْكَ يُغَارُ " .
محمد بن عبداللہ بن نمیر اور زہیر بن حرب نے کہا: (الفاظ انہی (زہیر) کے ہیں۔) ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو اور ابن منکدر سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ایک گھر یا محل دیکھا، میں نے پوچھا: یہ کس کا ہے؟ فرشتوں نے کہا: یہ عمر بن خطاب کا (محل) ہے، میں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا، پھر مجھے تمہاری غیرت یاد آگئی۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سے غیرت کی جاتی ہے؟
حدیث نمبر: 2394
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا . ح وحَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعْتُ جَابِرًا ، عنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرٍ .
یہی روایت امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2395
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَذَكَرْتُ غَيْرَةَ عُمَرَ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَبَكَى عُمَرُ ، وَنَحْنُ جَمِيعًا فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعَلَيْكَ أَغَارُ ؟ .
یونس نے کہا: ابن شہاب نے انہیں سعید بن مسیب سے خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو جنت میں دیکھا تو وہاں ایک عورت ایک محل کے جانبی حصے میں وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کس کا (محل) ہے؟ انہوں نے بتایا یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے۔ مجھے عمر کی غیرت یاد آئی تو میں پیٹھ پھیر کر واپس آگیا۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے جبکہ ہم اس مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟
حدیث نمبر: 2395
وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
یہی روایت امام صاحب تین اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2396
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ، وقَالَ حَسَنٌ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ سَعْدًا ، قَالَ : " اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، يُكَلِّمْنَهُ ، وَيَسْتَكْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ ، قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي ، فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ ، قَالَ عُمَرُ : فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي ، وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْنَ : نَعَمْ ، أَنْتَ أَغْلَظُ وَأَفَظُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا ، فَجًّا إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ " .
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضری کی اجازت طلب کی، اس وقت قریش کی کچھ خواتین آپ کے پاس (بیٹھی)آپ سے گفتگو کر رہی تھیں،بہت بول رہی تھیں،ان کی آوازیں بھی اونچی تھیں،جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت مانگی تو وہ کھڑی ہو کر جلدی سے پردے میں جا نے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےان کو اجازت دی،آپ اس وقت ہنس رہے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعا لیٰ آپ کے دندان مبارک کو مسکراتا رکھے!اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:"میں ان عورتوں پر حیران ہوں جو میرے پاس بیٹھی ہو ئی تھیں تمھا ری آواز سنی تو فوراً پردے میں چلی گئیں۔"حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کا زیادہ حق ہے کہ یہ آپ سے ڈریں پھر حضرت عمر کہنے لگے۔اپنی جان کی دشمنو!مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتی ہو؟ان عورتوں نے کہا: ہاں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سخت اور درشت مزاج ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جا ن ہے!جب کبھی شیطان تمھیں کسی راستے میں چلتے ہو ئے ملتا ہے تو تمھا را راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 2397
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ قَدْ رَفَعْنَ أَصْوَاتَهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ .
سہیل نے اپنے والد صالح سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ خواتین تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند آواز سے باتیں کر رہی تھیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اندر آنے کی) اجازت مانگی تو وہ جلدی سے پردے میں چلی گئیں۔ پھر انہوں نے زہری کی حدیث کے مانند بیان کیا۔
حدیث نمبر: 2398
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " قَدْ كَانَ يَكُونُ فِي الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ مُحَدَّثُونَ ، فَإِنْ يَكُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ ، فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، مِنْهُمْ " ، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ : تَفْسِيرُ مُحَدَّثُونَ مُلْهَمُونَ .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔"تم سے پہلی امتوں سے محدث ہوتے تھے،سوگرمیری امت میں ان میں سے کوئی ہوگا تو عمر بن خطاب ان میں داخل ہے۔"ابن وہب کہتے ہیں،"مُحَدَّثُونَ" کی تفسیر "مُلْهَمُونَ"ہے،(جن کی طرف الہام کیاجاتاہے)
حدیث نمبر: 2398
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
سعید بن ابراہیم نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔
حدیث نمبر: 2399
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ : أَخْبَرَنَا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : " وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ ، وَفِي الْحِجَابِ ، وَفِي أُسَارَى بَدْرٍ " .
نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی، مقام ابراہیم (کو نماز کی جگہ بنانے) میں، حجاب میں اور بدر کے قیدیوں میں (کہ ان کو قتل کر دیا جائے۔)“
حدیث نمبر: 2400
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ ، جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ ، قَمِيصَهُ أَنْ يُكَفِّنَ فِيهِ أَبَاهُ ، فَأَعْطَاهُ ، ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، فَقَامَ عُمَرُ ، فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ ، فَقَالَ : اسْتَغْفِرْ لَهُمْ ، أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ، إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً ، وَسَأَزِيدُ عَلَى سَبْعِينَ ، قَالَ : إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 " .
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں جب عبداللہ بن ابی ابن سلول مر گیا تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے درخواست کی کہ آپ اپنی قمیص عنایت فر ئیں جس میں وہ اپنے باپ کو کفن دے،آپ نے اسے عنایت کر دی،پھر اس نے یہ درخواست کی کہ آپ اس کا نماز جنازہ پڑھا ئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑے ہو ئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہو ئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا پکڑااور عرض کی:اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا آپ اس شخص کی نماز جنازہ پڑھیں گے جبکہ اللہ تعا لیٰ نے آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع فر یا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:" اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے اور فر یا ہے:" آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں۔آپ ان کے لیے ستر بار بخشش کی دعا کریں گے(تو بھی اللہ ان کو معاف نہیں کرے گا۔)تو میں ستر سے زیادہ بار بخشش مانگ لوں گا۔انھوں (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے کہا: وہ منا فق ہے۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔اس پر اللہ تعا لیٰ نے یہ آیت نازل فر مائی:"ان میں سے کسی کی بھی،جب وہ مرجائے کبھی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور نہ ان کی قبر پر کھڑےہوں۔"(توبہ،آیت نمبر۔84)
حدیث نمبر: 2400
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ ، وَزَادَ ، قَالَ : فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ .
یہی روایت امام صاحب دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں اور اس میں یہ اضافہ ہے تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھنا چھوڑدیا۔