کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بزرگی کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 2381
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، وعبد الله بن عبد الرحمن الدارمي ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : " نَظَرْتُ إِلَى أَقْدَامِ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رُءُوسِنَا وَنَحْنُ فِي الْغَارِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ إِلَى قَدَمَيْهِ أَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ ، فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ : مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا، کہا: جس وقت ہم غار میں تھے، میں نے اپنے سروں کی جانب (غار کے اوپر) مشرکین کے قدم دیکھے، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کسی نے اپنے پیروں کی طرف نظر کی تو وہ نیچے ہمیں دیکھ لے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا گمان ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے؟“ (انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2381
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2382
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَي بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : عَبْدٌ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ زَهْرَةَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَبَكَى ، فَقَالَ : فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا ، قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيَّرُ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا بِهِ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي مَالِهِ وَصُحْبَتِهِ أَبُو بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ لَا تُبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا خَوْخَةَ أَبِي بَكْرٍ " .
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا:" کہ اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ ہے جس کو اللہ نے اختیار دیا ہے کہ چاہے دنیا کی دولت لے اور چاہے اللہ تعالیٰ کے پاس رہنا اختیار کرے، پھر اس نے اللہ کے پاس رہنا اختیار کیا۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر ؓ روئے (سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب ہے) اور بہت روئے۔ پھر کہا کہ ہمارے باپ دادا ہماری مائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں (پھر معلوم ہوا) کہ اس بندے سے مراد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور سیدنا ابوبکر ؓ ہم سب سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب لوگوں سے زیادہ مجھ پر ابوبکر کا احسان ہے مال کا بھی اور صحبت کا بھی اور اگر میں کسی کو (اللہ تعالیٰ کے سوا) دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا۔ لیکن اسلامی اخوت حاصل ہے۔ مسجد میں کوئی کھڑکی ابوبکر کی کھڑکی کے سوا نہ رہنے دی جائے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2382
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2382
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمًا ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ .
سالم نے ابونضر سے، انہوں نے عبید بن حنین اور بسر بن سعید سے، انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا، (اس کے بعد) مالک کی حدیث کی مانند ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2382
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا ، وَلَكِنَّهُ أَخِي وَصَاحِبِي ، وَقَدِ اتَّخَذَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا " .
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اگر میں کسی کو خلیل بناتا توابوبکر کوخلیل بناتا،لیکن وہ میرا بھائی اور ساتھی ہے اور اللہ عزوجل نے تمہارے ساتھی کو خلیل بنالیاہے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2383
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي أَحَدًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ " .
شعبہ نے ابواسحاق سے، انہوں نے ابواحوص سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2383
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا " .
سفیان نے ابواسحاق سے، انہوں نے ابواحوص سے، انہوں نے عبداللہ سے روایت کی، ابوعمیس نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوقحافہ کے فرزند (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کو خلیل بناتا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2383
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2383
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا ، وَلَكِنْ صَاحِبُكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ " .
واصل بن حیان نے عبداللہ بن ابی ہذیل سے، انہوں نے ابواحوص سے، انہوں نے عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں زمین پر رہنے والوں میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوقحافہ کے بیٹے کو خلیل بناتا، لیکن تمہارے صاحب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے خلیل ہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2383
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2383
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لَهُمَا ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خِلٍّ مِنْ خِلِّهِ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا ، إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ " .
عبداللہ بن مرہ نے ابواحوص سے، انہوں نے عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سن رکھو! میں ہر خلیل کی رازدارانہ دوستی سے براءت کا اظہار کرتا ہوں اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا۔ تمہارا صاحب (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کا خلیل ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2383
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2384
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ عَائِشَةُ : قُلْتُ : مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ : أَبُوهَا : قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : عُمَرُ ، فَعَدَّ رِجَالًا " .
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ذات السلاسل کے لشکر کاامیر مقرر کیا تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا،آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟آپ نے فرمایا،"عائشہ"میں نے پوچھا،"مردوں میں سے۔"فرمایا:"اس کاباپ"میں نے پوچھا،پھرکون؟فرمایا:"عمر" اس طرح آپ نے چند نام لیے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2384
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2385
وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ . ح ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ : وَسُئِلَتْ مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْلِفًا لَوِ اسْتَخْلَفَهُ ؟ قَالَتْ : أَبُو بَكْرٍ ، فَقِيلَ لَهَا : ثُمَّ مَنْ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ ؟ قَالَتْ : عُمَرُ ، ثُمَّ قِيلَ لَهَا : مَنْ بَعْدَ عُمَرَ ؟ قَالَتْ : أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، ثُمَّ انْتَهَتْ إِلَى هَذَا " .
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سنا، ان سے پوچھا گیا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلیفہ کرتے تو کس کو کرتے؟ انہوں نے کہا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو (خلیفہ) بناتے۔ پھر پوچھا گیا کہ ان کے بعد کس کو (خلیفہ) بناتے؟ انہوں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو (خلیفہ) بناتے۔ پھر پوچھا گیا کہ ان کے بعد کس کو (خلیفہ) بناتے؟ انہوں نے کہا کہ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو۔ پھر خاموش ہو رہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2385
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2386
حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ ؟ قَالَ أَبِي : كَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ " .
عباد بن موسیٰ نے کہا، ہمیں ابراہیم بن سعد نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے محمد بن جبیر بن مطعم سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر آنا۔“ وہ بولی کہ یا رسول اللہ! اگر میں آؤں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پاؤں (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو جائے تو)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو مجھے نہ پائے تو ابوبکر کے پاس آنا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2386
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2386
وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ : أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ فَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ مُوسَى .
یعقوب بن ابراہیم نے کہا: ہمیں میرے والد نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے محمد بن جبیر بن مطعم نے خبر دی کہ انہیں ان کے والد حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے آپ سے کسی چیز کے بارے میں بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ کرنے (دوبارہ آنے) کو کہا۔ (آگے) عباد بن موسیٰ کی حدیث کے مانند (ہے۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2386
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2387
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ : " ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ أَبَاكِ ، وَأَخَاكِ ، حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ ، وَيَقُولُ قَائِلٌ أَنَا أَوْلَى ، وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ " .
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے (آخری) مرض کے دوران مجھ سے فرمایا: ”اپنے والد ابوبکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں، مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہنے والا کہے گا: میں زیادہ حقدار ہوں جبکہ اللہ بھی ابوبکر کے سوا (کسی اور کی جانشینی) سے انکار فرماتا ہے اور مومن بھی۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2387
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1028
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا ؟ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا ، قَالَ : فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا ، قَالَ : فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا ، قَالَ : فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا ہے؟“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تم میں سے کون جنازے میں شامل ہوا؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تم میں سے کس شخص نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا؟“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ آپ نے فرمایا: ”آج تم میں سے کس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی ہے؟“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی آدمی میں یہ سب اوصاف اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 1028
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2388
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً لَهُ قَدْ حَمَلَ عَلَيْهَا الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ الْبَقَرَةُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ ، فَقَالَ النَّاسُ : سُبْحَانَ اللَّهِ تَعَجُّبًا وَفَزَعًا أَبَقَرَةٌ تَكَلَّمُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيْنَا رَاعٍ فِي غَنَمِهِ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً ، فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى اسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الذِّئْبُ ، فَقَالَ لَهُ : مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَيْسَ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي ، فَقَالَ النَّاسُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ " .
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے سعد بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن (بن عوف) نے حدیث سنائی کہ ان دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص اپنی گائے کو ہانک رہا تھا، اس پر بوجھ لادا ہوا تھا۔ اس گائے نے منہ پیچھے کیا اور کہا: مجھے اس کام کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔“ لوگوں نے تعجب اور حیرت سے کہا: سبحان اللہ! کیا گائے بولتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کسی اور کو یقین ہو نہ ہو) میرا، ابوبکر کا اور عمر کا اس پر ایمان ہے۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک چرواہا اپنی بکریوں میں (موجود) تھا کہ بھیڑیے نے اس پر حملہ کیا اور ایک بکری پکڑ لی، چرواہا اس کے پیچھے لگ گیا حتی کہ اس بکری کو بھیڑیے سے بچا لیا۔ اس (بھیڑیے) نے کہا: اس دن اسے کون بچائے گا جب درندوں (کے حملے) کا دن آئے گا اور میرے سوا اس کا چرواہا (مالک) کوئی نہ ہو گا؟“ لوگوں نے کہا: سبحان اللہ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں اور ابوبکر اور عمر (بھی یقین رکھتے ہیں۔)“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2388
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2388
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ قِصَّةَ الشَّاةِ وَالذِّئْبِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْبَقَرَةِ .
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ بکری اور بھیڑیے کا واقعہ بیان کیا اور گائے کا واقعہ بیان نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2388
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2388
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وَفِي حَدِيثِهِمَا ذِكْرُ الْبَقَرَةِ وَالشَّاةِ مَعًا ، وَقَالَا فِي حَدِيثِهِمَا : فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ .
سفیان بن عیینہ اور سفیان (ثوری) دونوں نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زہری سے یونس کی روایت کے ہم معنی روایت کی۔ ان دونوں کی حدیث میں گائے اور بکری دونوں کا ذکر ہے اور دونوں نے اپنی حدیث کے الفاظ کہے: ”میں اس پر یقین رکھتا ہوں اور ابوبکر اور عمر (بھی یقین رکھتے ہیں۔)“ اور وہ دونوں وہاں نہیں تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2388
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2388
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
یہی روایت امام صاحب اپنے اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 2388
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»