حدیث نمبر: 2369
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْمُخْتَارِ . ح وحَدَّثَنِي وَاللَّفْظُ لَهُ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام " .
علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا: «يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ» ”اے مخلوقات میں سے بہترین انسان!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔“ (یعنی یہ ان کا لقب ہے۔)
حدیث نمبر: 2369
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِمِثْلِهِ .
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے کہا، اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! آگے مذکورہ بالاروایت ہے۔
حدیث نمبر: 2369
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْمُخْتَارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
سفیان نے مختار سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے سنا، اسی کے مانند۔
حدیث نمبر: 2370
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَام ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُومِ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نبی علیہ السلام نے اسی سال کی عمر میں قدوم (مقام پر تیشے یا بسولے کے ذریعے) سے ختنہ کیا۔“
حدیث نمبر: 151
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ ، إِذْ قَالَ : رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260 ، وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا ، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ ، طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ ، لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ " .
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت شک کرنے کے زیادہ حق دار تھے جب انہوں نے کہا تھا: «رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى» ’اے میرے رب! مجھے دکھا تو کس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے۔‘ اللہ نے ان سے پوچھا: کیا آپ کو یقین نہیں؟ تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں! مگر صرف اس لیے (دیکھنا چاہتا ہوں) کہ میرے دل کو مزید اطمینان ہو جائے۔ اور اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم کرے! وہ ایک مضبوط سہارے کی پناہ لیتے تھے۔ اور اگر میں قید خانے میں اتنا لمبا عرصہ رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تو میں بلانے والے کی بات مان لیتا (بلاوا ملتے ہی جیل سے باہر آ جاتا۔)“
حدیث نمبر: 151
وحَدَّثَنَاه إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .
یہی روایت امام صاحب نے ایک اور استاد سے بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 151
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ ، إِنَّهُ أَوَى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ " .
لیکن کسی استاد سے سنی ہے، اس میں شبہ کی بنا پر کہہ دیا کہ ان شاءاللہ یعنی ظن غالب یہی ہے کہ عبداللہ بن محمد بن اسماء سےسنی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ لوط علیہ السلام کو معاف فرمائے، وہ مضبوط رکن کی پناہ چاہتے تھے۔‘‘
حدیث نمبر: 2371
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَام قَطُّ ، إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ ، ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ ، قَوْلُهُ : إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89 ، وَقَوْلُهُ : بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63 ، وَوَاحِدَةٌ فِي شَأْنِ سَارَةَ ، فَإِنَّهُ قَدِمَ أَرْضَ جَبَّارٍ ، وَمَعَهُ سَارَةُ ، وَكَانَتْ أَحْسَنَ النَّاسِ ، فَقَالَ لَهَا : إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ إِنْ يَعْلَمْ أَنَّكِ امْرَأَتِي ، يَغْلِبْنِي عَلَيْكِ ، فَإِنْ سَأَلَكِ ، فَأَخْبِرِيهِ أَنَّكِ أُخْتِي ، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي الْإِسْلَامِ ، فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمًا غَيْرِي وَغَيْرَكِ ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْضَهُ ، رَآهَا بَعْضُ أَهْلِ الْجَبَّارِ أَتَاهُ ، فَقَالَ لَهُ : لَقَدْ قَدِمَ أَرْضَكَ امْرَأَةٌ ، لَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَكُونَ إِلَّا لَكَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ، فَأُتِيَ بِهَا ، فَقَامَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْه السَّلَام إِلَى الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ ، لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا ، فَقُبِضَتْ يَدُهُ قَبْضَةً شَدِيدَةً ، فَقَالَ لَهَا : ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي ، وَلَا أَضُرُّكِ ، فَفَعَلَتْ ، فَعَادَ ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَةِ الْأُولَى ، فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ ، فَفَعَلَتْ ، فَعَادَ ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ ، فَقَالَ : ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي ، فَلَكِ اللَّهَ أَنْ لَا أَضُرَّكِ ، فَفَعَلَتْ ، وَأُطْلِقَتْ يَدُهُ ، وَدَعَا الَّذِي جَاءَ بِهَا ، فَقَالَ لَهُ : إِنَّكَ إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ ، وَلَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ ، فَأَخْرِجْهَا مِنْ أَرْضِي ، وَأَعْطِهَا هَاجَرَ ، قَالَ : فَأَقْبَلَتْ تَمْشِي ، فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ، انْصَرَفَ ، فَقَالَ لَهَا : مَهْيَمْ ؟ قَالَتْ : خَيْرًا ، كَفَّ اللَّهُ يَدَ الْفَاجِرِ ، وَأَخْدَمَ خَادِمًا " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر تین دفعہ (بولا) (یہ اصطلاحاً جھوٹ کہے گئے ہیں، حقیقت میں جھوٹ نہیں ہیں بلکہ یہ توریہ کی ایک شکل ہیں) ان میں سے دو جھوٹ اللہ کے لیے تھے، ایک تو ان کا یہ قول کہ «إِنِّي سَقِيمٌ» ’میں بیمار ہوں‘ اور دوسرا یہ کہ «بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا» ’ان بتوں کو بڑے بت نے توڑا ہو گا‘ تیسرا جھوٹ سیدہ سارہ علیہا السلام کے بارے میں تھا۔“ اس کا قصہ یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں پہنچے ان کے ساتھ ان کی بیوی سیدہ سارہ بھی تھیں اور وہ بڑی خوبصورت تھیں۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس ظالم بادشاہ کو اگر معلوم ہو گا کہ تو میری بیوی ہے تو مجھ سے چھین لے گا، اس لیے اگر وہ پوچھے تو یہ کہنا کہ میں اس شخص کی بہن ہوں اور تو اسلام کے رشتے سے میری بہن ہے۔ (یہ بھی کچھ جھوٹ نہ تھا) اس لیے کہ ساری دنیا میں آج میرے اور تیرے سوا کوئی مسلمان معلوم نہیں ہوتا۔ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس کی قلمرو (اس کے علاقے) سے گزر رہے تھے تو اس ظالم بادشاہ کے کارندے اس کے پاس گئے اور بیان کیا کہ تیرے ملک میں ایک ایسی عورت آئی ہے جو تیرے سوا کسی کے لائق نہیں ہے۔ اس نے سیدہ سارہ کو بلا بھیجا۔ وہ گئیں تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نماز کے لیے کھڑے ہو گئے (اللہ سے دعا کرنے لگے اس کے شر سے بچنے کے لیے) جب سیدہ سارہ اس ظالم کے پاس پہنچیں تو اس نے بے اختیار اپنا ہاتھ ان کی طرف دراز کیا، لیکن فوراً اس کا ہاتھ سوکھ گیا۔ وہ بولا کہ تو اللہ سے دعا کر کہ میرا ہاتھ کھل جائے، میں تجھے نہیں ستاؤں گا۔ انہوں نے دعا کی۔ اس مردود نے پھر ہاتھ دراز کیا، پھر پہلے سے بڑھ کر سوکھ گیا۔ اس نے دعا کے لیے کہا تو انہوں نے دعا کی۔ پھر اس مردود نے دست درازی کی، پھر پہلی دونوں دفعہ سے بڑھ کر سوکھ گیا۔ تب وہ بولا کہ اللہ سے دعا کر کہ میرا ہاتھ کھل جائے، اللہ کی قسم اب میں تجھ کو نہ ستاؤں گا۔ سیدہ سارہ نے پھر دعا کی، اس کا ہاتھ کھل گیا۔ تب اس نے اس شخص کو بلایا جو سیدہ سارہ کو لے کر آیا تھا اور اس سے بولا کہ تو میرے پاس شیطاننی کو لے کر آیا، یہ انسان نہیں ہے۔ اس کو میرے ملک سے باہر نکال دے اور ایک لونڈی ہاجرہ اس کے حوالے کر دے۔ سیدہ سارہ ہاجرہ کو لے کر لوٹ آئیں۔ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا تو نمازوں سے فارغ ہوئے اور کہا کیا ہوا؟ سارہ نے کہا بس کہ سب خیریت رہی، اللہ تعالیٰ نے اس بدکار کا ہاتھ مجھ سے روک دیا اور ایک لونڈی بھی دی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر یہی لونڈی یعنی ہاجرہ تمہاری ماں ہے اے بارش کے بچو!