کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: احکام شرعیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے کا وجوب اور احکام دنیویہ میں عمل کا اختیار۔
حدیث نمبر: 2361
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِقَوْمٍ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ ، فَقَالَ : مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ ؟ فَقَالُوا يُلَقِّحُونَهُ ، يَجْعَلُونَ الذَّكَرَ فِي الْأُنْثَى ، فَيَلْقَحُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَظُنُّ يُغْنِي ذَلِكَ شَيْئًا ، قَالَ : فَأُخْبِرُوا بِذَلِكَ ، فَتَرَكُوهُ ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنْ كَانَ يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ ، فَلْيَصْنَعُوهُ ، فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا ، فَلَا تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ ، وَلَكِنْ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللَّهِ شَيْئًا ، فَخُذُوا بِهِ ، فَإِنِّي لَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلّ " .
موسیٰ بن طلحہ نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگوں کے قریب سے گزرا جو درختوں کی چوٹیوں پر چڑھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: یہ گابھہ لگا رہے ہیں نر (کھجور کا بور) مادہ (کھجور) میں ڈال رہے ہیں اس طرح یہ (درخت) ثمر آور ہو جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا گمان نہیں کہ اس کا کچھ فائدہ ہو تا ہے۔“ لوگوں کو یہ بات بتا دی گئی تو انہوں نے (گابھہ لگانے کا) یہ عمل ترک کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی۔ تو آپ نے فرمایا: ”اگر یہ کام انہیں فائدہ پہنچاتا ہے تو کریں۔ میں نے تو ایک بات کا گمان کیا تھا تو گمان کے حوالے سے مجھے ذمہ دار نہ ٹھہراؤ لیکن جب میں اللہ کی طرف سے تمھارے ساتھ بات کروں تو اسے اپنا لو، کیونکہ اللہ عزوجل پر کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2361
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2362
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ الْيَمَامِيُّ ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ : " قَدِمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، وَهُمْ يَأْبُرُونَ النَّخْلَ ، يَقُولُونَ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ ، فَقَالَ : مَا تَصْنَعُونَ ؟ قَالُوا : كُنَّا نَصْنَعُهُ ، قَالَ : لَعَلَّكُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا ، فَتَرَكُوهُ ، فَنَفَضَتْ أَوْ فَنَقَصَتْ ، قَالَ : فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ ، فَخُذُوا بِهِ ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيٍ ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ " ، قَالَ عِكْرِمَةُ : أَوْ نَحْوَ هَذَا ، قَالَ الْمَعْقِرِيُّ : فَنَفَضَتْ ، وَلَمْ يَشُكَّ .
عبداللہ بن رومی یمامی، عباس بن عبدالعظیم عنبری اور احمد بن جعفر معقری نے مجھے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں نضر بن محمد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عکرمہ بن عمار نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابونجاشی نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے تو (وہاں کے) لوگ کھجوروں میں قلم لگاتے تھے، وہ کہا کرتے تھے (کہ) وہ گابھہ لگاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تم کیا کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہم یہ کام کرتے آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اگر تم لوگ یہ کام نہ کرو تو شاید بہتر ہو۔“ اس پر ان لوگوں نے (ایسا کرنا) چھوڑ دیا، تو ان کا پھل گر گیا یا (کہا) کم ہوا۔ کہا: لوگوں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ نے فرمایا: ”میں ایک بشر ہی تو ہوں، جب میں تمھیں دین کی کسی بات کا حکم دوں تو اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور جب میں تمھیں محض اپنی رائے سے کچھ کرنے کو کہوں تو میں بشر ہی تو ہوں۔“ عکرمہ نے (شک انداز میں) کہا: یا اسی کے مانند (کچھ فرمایا۔) معقری نے شک نہیں کیا، انہوں نے کہا: تو ان کا پھل گر گیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2362
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2363
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِقَوْمٍ يُلَقِّحُونَ ، فَقَالَ : لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا لَصَلُحَ ، قَالَ : فَخَرَجَ شِيصًا ، فَمَرَّ بِهِمْ ، فَقَالَ : مَا لِنَخْلِكُمْ ، قَالُوا : قُلْتَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ " .
حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ اور حماد ہی نے ثابت سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جو کھجوروں میں گابھہ لگا رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”اگر تم یہ نہ کرو تو (بھی) ٹھیک رہے گا۔“ کہا: اس کے بعد گٹھلیوں کے بغیر روی کھجوریں پیدا ہوئیں، پھر کچھ دنوں کے بعد آپ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”تمھاری کھجوریں کیسی رہیں؟“ انہوں نے کہا: آپ نے اس طرح فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی دنیا کے معاملات کو زیادہ جاننے والے ہو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2363
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»