کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: بے ضرورت مسئلے پوچھنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1337
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، قَالَا : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ ، كَثْرَةُ مَسَائِلِهِمْ ، وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ " .
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے خبر دی، ان دونوں نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "میں جس کام سے تمہیں روکوں اس سے اجتناب کرو اور جس کام کا حکم دوں، اپنی استطاعت کے مطابق اس کو کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو سوالات کی کثرت اور اپنے انبیاء علیہم السلام سے اختلاف نے ہلاک کر دیا۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 1337
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1337
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ وَهُوَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ سَوَاءً .
یزید بن ہاد نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ بالکل اسی کے مانند روایت کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 1337
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1337
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كُلُّهُمْ ، قَالَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ : مَا تُرِكْتُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، ثُمَّ ذَكَرُوا نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ابوصالح، اعرج، محمد بن زیاد اور ہمام بن منبہ، سب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے (آپ نے فرمایا): "جب تک میں تمہیں چھوڑ رکھوں (کوئی حکم نہ دوں) تم بھی مجھے چھوڑے رکھو (خواہ مخواہ کے سوال مت کرو)" اور ہمام کی حدیث میں ہے: "جب تک تمہیں چھوڑ دیا جائے، کیونکہ وہ لوگ جو تم سے پہلے تھے (کثرت سوال سے) ہلاک ہو گئے۔" پھر انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ سے زہری کی حدیث کی طرح (آگے) بیان کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 1337
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2358
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا ، مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ ، لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَحُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ " .
عامر بن سعد، اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے،جس نے کسی ایسی چیز کے بارے میں کرید کی،جو مسلمانوں پر حرام نہ تھی تو اس کےسوال کی بناء پر، ان پرحرام قرار دے دی گئی۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2358
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2358
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : أَحْفَظُهُ كَمَا أَحْفَظُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا ، مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ ، فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ ، مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ " .
ہمیں سفیان (بن عیینہ) نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے یہ اسی طرح یاد ہے جس طرح بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یاد ہے۔ زہری نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مسلمانوں میں سے مسلمانوں کے بارے میں سب سے بڑا جرم وار وہ شخص ہے، جس نے ایسے معاملے کے متعلق سوال کیا جو حرام نہیں کیا گیا تھا تو اس کے سوال کی بنا پر اس کو لوگوں کے لیے حرام کر دیا گیا۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2358
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2358
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ ، رَجُلٌ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ ، وَنَقَّرَ عَنْهُ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ ، عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدًا .
یہی روایت امام صاحب کو دو اساتذہ نے اپنی اپنی سند سے سنائی،معمر کی حدیث میں یہ اضافہ ہے، ”وہ آدمی جس نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس کی کرید کی، تفتیش کی۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2358
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2359
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ السُّلَمِيُّ ، ويحيى بن محمد اللؤلئي وألفاظهم متقاربة ، قَالَ مَحْمُودٌ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْحَابِهِ شَيْءٌ ، فَخَطَبَ ، فَقَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " ، قَالَ : فَمَا أَتَى عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمٌ أَشَدُّ مِنْهُ ، قَالَ : غَطَّوْا رُءُوسَهُمْ وَلَهُمْ خَنِينٌ ، قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ ، فَقَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، قَالَ : فَقَامَ ذَاكَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : مَنْ أَبِي ، قَالَ : أَبُوكَ فُلَانٌ ، فَنَزَلَتْ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 .
نضر بن شمیل نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں موسیٰ بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھیوں کے بارے میں کوئی بات پہنچی تو آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا، اور کہا: "جنت اور دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا۔ میں نے خیر اور شر کے بارے میں آج کے دن جیسی (تفصیلات) کبھی نہیں دیکھیں۔ جو میں جانتا ہوں، اگر تم (بھی) جان لو تو ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔" (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر اس سے زیادہ سخت دن کبھی نہیں آیا۔ کہا: انہوں نے اپنے سر ڈھانپ لیے اور ان کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ کہا: تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں۔ کہا: ایک آدمی کھڑا ہو گیا اور پوچھا: میرا باپ کون تھا؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ فلاں تھا۔" اس پر آیت اتری: "اے ایمان لانے والو! ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر تمھارے سامنے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں دکھ پہنچائیں۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2359
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2359
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : أَبُوكَ فُلَانٌ ، وَنَزَلَتْ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 تَمَامَ الْآيَةِ " .
روح بن عبادہ نے ہمیں حدیث سنائی، کہا ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی کہا: مجھے موسیٰ بن انس نے خبر دی کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے۔ ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تیرا باپ فلاں ہے۔" پھر یہ آیت نازل ہوئی: "اے ایمان لانے والو! ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر تمھارے سامنے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں دکھ پہنچائیں۔" مکمل آیت پڑھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2359
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2359
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ ، فَصَلَّى لَهُمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَذَكَرَ السَّاعَةَ ، وَذَكَرَ أَنَّ قَبْلَهَا أُمُورًا عِظَامًا ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَنِي عَنْ شَيْءٍ ، فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ ، فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونَنِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ ، مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَقُولَ : سَلُونِي ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ ، فَقَالَ : مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : أَبُوكَ حُذَافَةُ ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ أَنْ يَقُولَ : سَلُونِي ، بَرَكَ عُمَرُ ، فَقَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا ، قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْلَى وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا ، فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ : مَا سَمِعْتُ بِابْنٍ قَطُّ ، أَعَقَّ مِنْكَ ، أَأَمِنْتَ أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ قَدْ قَارَفَتْ بَعْضَ مَا تُقَارِفُ نِسَاءُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَتَفْضَحَهَا عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ : وَاللَّهِ لَوْ أَلْحَقَنِي بِعَبْدٍ أَسْوَدَ ، لَلَحِقْتُهُ " .
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد باہر تشریف لائے اور انہیں ظہر کی نماز پڑھائی، جب آپ نے سلام پھیرا تو منبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس سے پہلے بہت بڑے بڑے امور وقوع پذیر ہوں گے، پھر فرمایا: "جو شخص (ان میں سے) کسی چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہے تو سوال کر لے۔ اللہ کی قسم! میں جب تک اس جگہ کھڑا ہوں، تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کرو گے میں تمھیں اس کے بارے میں بتاؤں گا۔" حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا اور آپ نے بار بار کہنا شروع کر دیا: "مجھ سے پوچھو" تو لوگ بہت روئے، اتنے میں عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرا باپ کون تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تمھارا باپ حذافہ تھا۔" پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ بار "مجھ سے پوچھو" فرمانا شروع کیا (اور پتہ چل گیا کہ آپ غصے میں کہہ رہے ہیں) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہنے لگے: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت اختیار فرما لیا۔ کہا: اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اچھا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! ابھی ابھی اس دیوار کی چوڑائی کے اندر جنت اور دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا تو خیر اور شر کے بارے میں جو میں نے آج دیکھا، کبھی نہیں دیکھا۔" ابن شہاب نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ (کی یہ بات سن کر ان) کی والدہ نے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے کبھی نہیں سنا کہ کوئی بیٹا تم سے زیادہ والدین کا حق پامال کرنے والا ہو۔ کیا تم خود کو اس بات سے محفوظ سمجھتے تھے کہ ہو سکتا ہے تمھاری ماں سے بھی کوئی ایسا کام ہو گیا ہو جو اہل جاہلیت کی عورتوں سے ہو جاتا تھا تو تم اس طرح (سوال کر کے) سب لوگوں کے سامنے اپنی ماں کو رسوا کر دیتے؟ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرا نسب کسی حبشی غلام سے بھی ملا دیتے تو میں اسی کی ولدیت اختیار کر لیتا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2359
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2359
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ مَعَهُ ، غَيْرَ أَنَّ شُعَيْبًا ، قَالَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، أَنَّ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ ، قَالَتْ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ .
معمر اور شعیب دونوں نے زہری سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث اور اس کے ساتھ عبیداللہ کی حدیث بیان کی، البتہ شعیب نے کہا: زہری سے روایت ہے انہوں نے کہا مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی، کہا مجھے علم رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کی والدہ نے کہا: جس طرح یونس کی حدیث ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2359
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2359
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ : سَلُونِي ، لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ ، إِلَّا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْقَوْمُ أَرَمُّوا ، وَرَهِبُوا ، أَنْ يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ قَدْ حَضَرَ ، قَالَ أَنَسٌ : فَجَعَلْتُ أَلْتَفِتُ يَمِينًا وَشِمَالًا ، فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ لَافٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي ، فَأَنْشَأَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ ، كَانَ يُلَاحَى ، فَيُدْعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : أَبُوكَ حُذَافَةُ ، ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ، إِنِّي صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَرَأَيْتُهُمَا دُونَ هَذَا الْحَائِطِ " .
سعید نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (بہت زیادہ اور بے فائدہ) سوالات کیے حتیٰ کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سوالات سے تنگ کر دیا، تو ایک دن آپ باہر تشریف لائے، منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا: "اب مجھ سے (جتنے چاہو) سوال کرو، تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھو گے، میں تم کو اس کا جواب دوں گا۔" جب لوگوں نے یہ سنا تو اپنے منہ بند کر لیے اور سوال کرنے سے ڈر گئے کہ کہیں یہ کسی بڑے معاملے (وعید، سزا سخت حکم وغیرہ) کا آغاز نہ ہو رہا ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دائیں بائیں دیکھا تو ہر شخص کپڑے میں منہ لپیٹ کر رو رہا تھا تو مسجد میں سے وہ شخص اٹھا کہ جب (لوگوں کا) اس سے جھگڑا ہو تا تھا تو اسے اس کے باپ کے بجائے کسی اور کی طرف منسوب کر دیا جاتا تھا (ابن فلاں! کہہ کر پکارا جاتا تھا) اس نے کہا: اللہ کے نبی! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ حذافہ ہے۔" پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا: ہم اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مان کر راضی ہیں اور ہم برے فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے والے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "خیر اور شر میں جو کچھ میں نے آج دیکھا ہے کبھی نہیں دیکھا۔ میرے لیے جنت اور جہنم کی صورت گری کی گئی تو میں نے اس (سامنے کی) دیوار سے آگے ان دونوں کو دیکھ لیا۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2359
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2359
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا ، عَنْ هِشَامٍ . ح وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ .
ہشام اور معمر کے والد سلیمان دونوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ قصہ بیان کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2359
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2360
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا ، فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : سَلُونِي عَمَّ شِئْتُمْ ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : أَبُوكَ حُذَافَةُ ، فَقَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَضَبِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَ : مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ " .
عبداللہ بن براد اشعری اور (ابوکریب) محمد بن علاء ہمدانی نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے یزید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند (ایسی) چیزوں کے بارے میں سوال کیے گئے جو آپ کو پسند نہ آئیں جب زیادہ سوال کیے گئے تو آپ غصے میں آگئے، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: "جس چیز کے بارے میں بھی چاہو مجھ سے پوچھو۔" ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ حذافہ ہے۔" دوسرے شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ شیبہ کا آزاد کردہ غلام سالم ہے۔" جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے تو کہا: اللہ کے رسول! ہم اللہ سے توبہ کرتے ہیں۔ ابوکریب کی روایت میں ہے کہ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا باپ شیبہ کا مولیٰ سالم ہے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2360
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»