کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2311
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ ، فَقَالَ : لَا " .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی چیز کے مانگنے پر نہیں، نہ کہا۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2311
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2311
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ . ح ، وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَاءً .
امام صاحب کے دواساتذہ اپنی اپنی سند سے یہی روایت، بالکل اسی طرح بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2311
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2312
وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ ، قَالَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ : يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ " .
موسیٰ بن انس نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام (لانے) پر جو بھی چیز طلب کی جاتی آپ وہ عطا فرماتے، کہا: ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان (چرنے والی) بکریاں اسے دے دیں، وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا: میری قوم! مسلمان ہو جاؤ بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2312
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2312
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ ؟ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، فَأَتَى قَوْمَهُ ، فَقَالَ : " أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا ، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ ، فَقَالَ أَنَسٌ : إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا ، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا " .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرمﷺ سے دو پہاڑوں کے درمیان چرنے والی بکریاں مانگیں، آپ نے اسے وہ دے دیں، سو وہ اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا، اے میری قوم، اسلام قبول کر لو، اللہ کی قسم! محمد ﷺ اس قدر عطیہ دیتا ہے کہ وہ فقر و فاقہ کا اندیشۂ ہی نہیں رکھتا، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں ایک انسان محض دنیا کر خاطر مسلمان ہوتا تو اسلام لانے کے بعد اسے اسلام دنیا اور اس کی ہر چیز سے محبوب ہوجاتا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2312
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2313
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : " غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، غَزْوَةَ الْفَتْحِ ، فَتْحِ مَكَّةَ ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ ، فَنَصَرَ اللَّهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ ، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ، ثُمَّ مِائَةً ، ثُمَّ مِائَةً " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ صَفْوَانَ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا أَعْطَانِي ، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي ، حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ .
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح یعنی فتح مکہ کے لیے جہاد کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مسلمانوں کے ساتھ جو آپ کے ہمراہ تھے نکلے اور حنین میں خونریز جنگ کی، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے، پھر سو اونٹ پھر سو اونٹ۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے یہ بیان کیا کہ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فرمایا، مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔ پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2313
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2314
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى الْآخَرِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : قَالَ سُفْيَانُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَسَمِعْتُ أَيْضًا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَزَادَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ ، لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا ، وَهَكَذَا ، وَهَكَذَا " ، وَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا ، فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ ، فَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ بَعْدَهُ ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَتْ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ ، فَلْيَأْتِ ، فَقُمْتُ : فَقُلْتُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ ، أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، فَحَثَى أَبُو بَكْرٍ مَرَّةً ، ثُمَّ قَالَ لِي : عُدَّهَا ، فَعَدَدْتُهَا ، فَإِذَا هِيَ خَمْسُ مِائَةٍ ، فَقَالَ : خُذْ مِثْلَيْهَا .
سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے روایت کی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، (اسی طرح) سفیان نے ابن منکدر سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز عمرو سے روایت ہے، انہوں نے محمد بن علی سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا، اسی طرح ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، الفاظ انہی کے ہیں۔ کہا: سفیان نے کہا: میں نے محمد بن منکدر سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، سفیان نے یہ بھی کہا: میں نے عمرو بن دینار سے سنا، وہ محمد بن علی سے حدیث بیان کررہے تھے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ ان دونوں میں سے (بھی) ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا، (حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے) کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا تو میں تجھے اتنا، اتنا اور اتنا دوں گا اور دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا (یعنی تین لپ بھر کر)۔ پھر بحرین کا مال آنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ وہ مال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آیا تو انہوں نے ایک منادی کو یہ آواز کرنے کے لیے حکم دیا کہ جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ وعدہ کیا ہو، یا اس کا قرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آتا ہو وہ آئے۔ یہ سن کر میں کھڑا ہوا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر بحرین کا مال آئے گا تو تجھ کو اتنا، اتنا اور اتنا دیں گے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک لپ بھرا پھر مجھ سے کہا کہ اس کو گن۔ میں نے گنا تو وہ پانچ سو نکلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کا دوگنا اور لے لے (تو تین لپ ہو گئے)۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2314
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2314
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَاءَ أَبَا بَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ ، أَوْ كَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ ، فَلْيَأْتِنَا ، بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَة .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس علاء بن حضرمی کی طرف سے مال آیا تو ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، جس کا نبی اکرم ﷺ کے ذمہ قرض ہو یا آپ نے اس سےوعدہ فرمایا ہو، وہ ہمارے پاس آ جائے، جیسا کہ ابن عیینہ کی حدیث ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2314
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»