حدیث نمبر: 2309
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ ، وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي أُفًّا قَطُّ ، وَلَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ ، لِمَ فَعَلْتَ كَذَا ، وَهَلَّا فَعَلْتَ كَذَا " ، زَادَ أَبُو الرَّبِيعِ : لَيْسَ مِمَّا يَصْنَعُهُ الْخَادِمُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ : وَاللَّهِ .
سعید بن منصور اور ابوربیع نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے ثابت بنانی سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے (تقریباً) دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، اللہ کی قسم! آپ مجھ سے کبھی اُف تک نہیں کہا اور نہ کبھی کسی چیز کے لیے مجھ سے یہ کہا کہ تم نے فلاں کام کیوں کیا؟ یا فلاں کام کیوں نہ کیا؟ ابوربیع نے اضافہ کیا: (نہ آپ نے کبھی یہ فرمایا) ”خادم ایسا نہیں کرتا۔“انہوں نے ان (انس رضی اللہ عنہ) کی بات ”اللہ کی قسم!“ کا ذکر نہیں کیا۔“
حدیث نمبر: 2309
وحَدَّثَنَاه شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِمِثْلِهِ .
یہی روایت امام صاحب کے ایک اور استاد بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2309
وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي ، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ ، فَلْيَخْدُمْكَ ، قَالَ : فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ ، وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا ، وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ ، لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا " .
ہمیں عبدالعزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! انس ایک سمجھدار لڑکا ہے، اس لیے یہ آپ کی خدمت کرے گا (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر میں سفر اور حضر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہا اللہ کی قسم! میں نے کوئی کام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا؟ اور میں نے کوئی کام نہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: تم نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا؟“
حدیث نمبر: 2309
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تِسْعَ سِنِينَ ، فَمَا أَعْلَمُهُ قَالَ لِي قَطُّ : لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ، وَلَا عَابَ عَلَيَّ شَيْئًا قَطُّ " .
سعید بن ابی بردہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نو سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، مجھے علم نہیں کہ آپ نے کبھی مجھ سے یوں فرمایا: ہو تم نے اس طرح کیوں کیا؟ اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز میں کبھی مجھ پر نکتہ چینی کی۔“
حدیث نمبر: 2310
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : قَالَ إِسْحَاق : قَالَ أَنَسٌ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا ، فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَا أَذْهَبُ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ ، لِمَا أَمَرَنِي بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي ، قَالَ : فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ ، فَقَالَ : يَا أُنَيْسُ ، أَذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ ، قَالَ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، أَنَا أَذْهَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ،
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق سب سے اچھا تھا، آپﷺ نے ایک دن ایک ضرورت کے لیے مجھے بھیجتا چاہا تو میں نے کہا، الہ کی قسم! میں نہیں جاؤں گا اور میرے جی میں یہی تھا کہ اللہ کے نبی نے جس مقصد کے لیے مجھے بھیجنا چاہا ہے، میں اس کے لیے جاؤں گا۔ سومیں نکلا، حتی کہ بچوں کے پاس سے گزرااور وہ بازار میں) کھیل رہے تھے، (میں ان کے پاس رک گیا) اچانک رسول اللہ ﷺ نے پیچھے سے آ کر میری گدی کوپکر لیا تومیں نے آپﷺ کر طرف دیکھا اور آپ ہنس رہے تھے، آپﷺ نے فرمایا: ”اے انیس! کیا جدھر میں نے تمہیں بھیجا تھا ادھر گئے ہو؟‘‘ میں کہا، جی ہاں میں جاتا ہوں، اے اللہ کے رسول!
حدیث نمبر: 2309
قَالَ أَنَسٌ : " وَاللَّهِ لَقَدْ خَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ ، مَا عَلِمْتُهُ قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ ، لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ، أَوْ لِشَيْءٍ تَرَكْتُهُ ، هَلَّا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا " .
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم میں نے نو سال آپ کی خدمت کی، میں نے آپ کو کبھی نہ دیکھا کہ کسی کام کے بارے میں جو میں نے کیا، یہ کہا ہو تم نے فلاں فلاں کام کیوں کیا؟ اور کوئی چیز جو میں نے چھوڑ دی ہو (اس کے بارے میں کہا ہو:) تم نے فلاں فلاں کام کیوں نہ کیا؟“
حدیث نمبر: 2310
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ کا اخلاق سب لوگوں سےاچھا تھا۔