حدیث نمبر: 2307
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَحْسَنَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَانْطَلَقَ نَاسٌ قِبَلَ الصَّوْتِ ، فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا ، وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ ، عُرْيٍ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ ، وَهُوَ يَقُولُ : لَمْ تُرَاعُوا ، لَمْ تُرَاعُوا ، قَالَ : وَجَدْنَاهُ بَحْرًا ، أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ ، قَالَ : وَكَانَ فَرَسًا يُبَطَّأُ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ حسین تھے، سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور سب لوگوں سے زیادہ دلیر تھے۔ ایک رات اہل مدینہ خوف زدہ ہو گئے، تو لوگ آواز کی طرف نکل کھڑے ہوئے، سو رسول اللہ ﷺ کو واپس آتے ہوئے ملے، آپ ان سے پہلے آواز کی طرف جا چکے تھے اور آپﷺ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے اور آپ ﷺ کے گلے میں (گردن میں) تلوار تھی اور آپﷺ فرما رہے تھے، ”خوف زدہ نہ ہو، خوف زدہ نہ ہو۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ”ہم نے اس کو سمندر کی طرح تیز پایا یا فرمایا یہ سمندر ہے۔‘‘ اور وہ گھوڑا سسب رفتار سمجھا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 2307
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ ، فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ ، يُقَالُ لَهُ : مَنْدُوبٌ ، فَرَكِبَهُ ، فَقَالَ : مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا " .
وکیع نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک بار مدینہ میں خوف پھیل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک گھوڑا مستعار لیا، اسے مندوب کہا جاتا تھا آپ اس پر سوار ہوئے تو آپ نے فرمایا:”ہم نے کوئی ڈر اور خوف کی بات نہیں دیکھی اور اس گھوڑے کو ہم نے سمندر (کی طرح) پایا ہے۔“
حدیث نمبر: 2307
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : فَرَسًا لَنَا ، وَلَمْ يَقُلْ : لِأَبِي طَلْحَةَ ، وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ : سَمِعْتُ أَنَسًا .
مصنف نے یہی روایت تین اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کی ہے، ابن جعفر کی حدیث میں ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھوڑے کی جگہ ہمارا گھوڑا بتایا گیا ہے اور خالد کی حدیث میں قتادہ کے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سماع کی تصریح موجود ہے۔