کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: جب کسی امت پر اللہ تعالیٰ کی مہر ہوتی ہے تو اس کا پیغمبر اس کے سامنے گزر جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 2288
قَالَ مُسْلِم : وَحُدِّثْتُ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، وَمِمَّنْ رَوَى ذَلِكَ عَنْهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ ، قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا ، فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَيْنَ يَدَيْهَا ، وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ ، عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ ، فَأَهْلَكَهَا وَهُوَ يَنْظُرُ ، فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَكَتِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ ، وَعَصَوْا أَمْرَهُ " .
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بزرگ وبرتر اپنے بندوں میں سے کسی امت پر رحمت کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے پہلے اس کے نبی کو قبض کرلیتا ہے اور اسے ان کے لیے، پیش رو اور پیشوا بنا دیتا ہے اور جب کسی اُمت کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو ان کے نبی کی زندگی میں ان کو عذاب سے دوچار کر دیتا ہے، سو وہ انہیں، اس کے سامنے تباہ کر کے ان کی تباہی سے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتا ہے، کیونکہ انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کے فرمان کی مخالفت کی۔‘‘